مکہ و مدینہ منورہ وہ پاکیزہ مقامات ہیں جن کی خاک بھی اہلِ ایمان کے لیے قیمتی خزانہ ہے۔ ہر مسلمان کی زندگی کی سب سے بڑی آرزو یہ ہوتی ہے کہ اسے کبھی روضۂ رسول ﷺ کی حاضری نصیب ہو۔
اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک اور قادر ہے۔ وہ کسی کو عشقِ حقیقی سے بلاتا ہے، کسی کو ظاہری اسباب کے ذریعے۔ مکہ و مدینہ جانا بظاہر سب کے لیے ممکن لگتا ہے، لیکن حقیقی بلایا جانا دل کی کیفیت سے پہچانا جاتا ہے، نہ کہ صرف جسمانی حاضری سے۔
مگر ایک سوال اکثر دلوں میں اٹھتا ہے:
اگر اللہ تبارک وتعالی مدینے شریف اپنے چاہنے والوں کو بلاتا ہے، تو پھر وہ لوگ جو دنیا دار، شہرت پسند یا مال و دولت والے ہیں، جیسے یوٹیوب سٹارز حرمین شریفین کیسے چلے جاتے ہیں؟
اس سوال کا جواب ظاہری اور روحانی بلائے جانے کے فرق میں چھپا ہے۔
ظاہری اسباب سے جانا اور حقیقی بلایا جانا
اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اسباب کی دنیا بنایا ہے۔ جو چاہے پیسہ، ویزا اور وسائل کے ذریعے حج یا عمرہ کے لیے جا سکتا ہے۔
مگر مدینہ بلایا جانا صرف ظاہری سفر نہیں یہ دل کا سفر ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ
جسے اللہ ہدایت دینا چاہے، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے
(الأنعام: 125)
اسی طرح جسے اللہ حقیقی محبتِ مصطفیٰ ﷺ سے نوازتا ہے، اس کا دل خود بخود مدینے کی سمت کھنچنے لگتا ہے۔
بلایا جانا کے دو معنی ہوتے ہیں:
ظاہری بلانا:
یعنی کسی کے پاس ویزا، پیسے، وقت اور صحت ہو، اور وہ حج یا عمرہ کے لیے چلا جائے۔ یہ اسباب کے دائرے میں آتا ہے۔
حقیقی و روحانی بلانا:
یعنی اللہ تعالیٰ کسی بندے کے دل میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی چنگاری بھڑکا دے، اور اس کے دل کو حرمین شریفین کی یاد اور تڑپ سے بھر دے۔ یہ محبت و توفیق کا معاملہ ہے، جو کسی دولت یا اثر و رسوخ سے نہیں ملتا۔
عشق کا بلانا دولت سے بلند ہے۔
مدینہ جانے کے لیے صرف پاسپورٹ نہیں، دل میں حاضری کی اجازت بھی چاہیے۔
دنیا دار شخص جا سکتا ہے، مگر عاشق وہ ہے جو ادب سے، آنکھوں میں آنسو اور دل میں نبی ﷺ کی محبت لیے وہاں پہنچے۔
مکہ و مدینہ جانا خود عشق کا ثبوت نہیں، بلکہ عشق کی قبولیت کا امتحان ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کون گیا؟
بلکہ یہ ہے کہ کون جا کر واپس آیا تو اس کے دل میں کیا بدلا؟
حضرت حسان بن ثابت نے فرمایا:
میری آنکھیں اس چہرے کو دیکھ کر کبھی سیر نہیں ہوئیں،
جس کے حسن سے چاندنی نے روشنی لی۔
سب کی حاضری ایک جیسی نہیں ہوتی
کچھ لوگ جاتے ہیں تو ویڈیوز اور تصاویر بناتے ہیں،
اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو دھڑکنوں میں درود و سلام بسائے روضۂ اقدس ﷺ کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں۔
یہی فرق بتاتا ہے کہ کون بلایا گیا اور کون صرف گیا۔
قرآن میں ارشاد ہے:
أنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ"
اللہ تعالیٰ صرف پرہیزگاروں کے اعمال قبول فرماتا ہے
(المائدہ: 27)
حقیقی بلایا جانا دل کی کیفیت سے پہچانا جاتا ہے
اگر کسی کے دل میں مدینے کی تڑپ، روضے کی حاضری کی آرزو، درود کی لذت اور نبی ﷺ کے دیدار کی تمنّا ہے، تو سمجھ لیجیے کہ وہ بلایا جا رہا ہے، چاہے ابھی گیا نہ ہو
علامہ اقبال فرماتے ہیں
وہی ہے بندۂ حر، جسے ہے ذوقِ خلیلؑی
کہ عشق میں ہو فقیری، غنا میں ہے قاری
اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کے در پر دلوں کو بلاتا ہے، جسموں کو نہیں۔
کچھ لوگ مکہ و مدینہ جا کر بھی نہیں پہنچتے
اور کچھ اپنے گھر بیٹھے دل سے وہاں حاضر رہتے ہیں۔
مدینہ شریف ہر کسی کے لیے ظاہری طور پر کھلا ہے،
مگر روحانی دروازہ صرف ان کے لیے کھلتا ہے جن کے دل میں عشق، ادب، اور درود کی خوشبو بسی ہو۔
اسی لیے کہا گیا:
مدینہ وہ نہیں جس میں جایا جائے
مدینہ وہ ہے جو دل میں بسایا جائے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو حرمینِ شریفین کی زیارت نصیب فرمائے، اور ہمارے دلوں میں ان مقدس مقامات کی روحانی و حقیقی محبت پیدا فرمائے۔ آمین یا ربَّ العالمین۔