بنت محمد رافع✍️

بیٹی:- امی مجھے جہیز نہیں دینا 
ماں:- ہمم میری پیاری میں دینا بھی نہیں چاہتی لیکِن مجھے ڈر لگتی ہے کہ اگر وہ مانگیں اور میں دوں نہ تو کہیں تم ستائی نہ جاؤ 


میرا ایک سوال آپ سب سے؟؟
اور خود سے بھی 

کیا ہم اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں؟؟
بے شک ہر کوئی کرتا ہے ائی مین کہتا ہے؟؟

اگر ہم اس بات کو کہنے تک نہیں بلکہ دکھا دے کہ ہم واقعی اللہ رب العزت سے محبت کرتے ہیں تو کیا ہم جو برسوں سے چلی ائی ایک رواج ہے اس کا اختتام کر دیں؟؟
جہیز 

جس کے پیچھے ہزاروں مائیں پریشان ہیں 
جس کے پیچھے والد نے اپنے اپ کو توڑ دیا ہے 
جس کے پیچھے ایک بھائی نے اپنے اپ کو تھکا دیا 
جس کے پیچھے ایک بہن نے اپنی خواہشوں کو چھوڑ دیا 

کیا کبھی سوچا ہے؟؟
سوچا ہے کہ اس ماں پر کیا گزر رہی ہوگی اس والد پر کیا گزر رہی ہوگی اس بہن پر کیا گزر رہی ہوگی اس بھائی پر کیا گزر رہی ہوگی 

جو اپنی عفت جو اپنے جگر کے ٹکڑے جو اپنے لخت جگر اپنی انکھوں کے سامنے جاتے ہوئے دیکھتے ہیں 
پھر انہیں نہیں پتہ ہوتا کہ ان کی بیٹی ستائی جائے گی ماری جائے گی یا شہزادیوں کی طرح رکھی جائےگی 

ایک سوال ہوتا ہے کہ عالمہ فاضلہ ک باوجود جہیز کیوں دیا جارہا ہے 
تو سمجھ لیں اُنکی مرضی نہیں ہوتی ہے 
اور ہر کوئی ایک جیسا بھی نہیں ہوتا اتنا تو آپ سمجھ سکتے ہیں

صرف ان ہی👆 وجوہات پر وہ اپنی بیٹیوں کو اپنے جگر کے ٹکڑے کو جہیز دیتے ہیں 
کہ ان کی بیٹی ستائی نہ جائے رلائی نہ جائے جو اپنے گھروں میں شہزادیوں کی طرح رہتی ہے وہ اس گھر
میں بھی شہزادیوں کی طرح رکھی جائے 
یہ تکلیف کی بات تو ہے 
لیکِن اصل تکلیف کی بات یہاں پر اتی ہے کہ ہم اپنے رب کے حکموں کو مان نہیں رہے 

کاش یہ سب کے سمجھ میں آجاتا

کیا ایسا نہیں ہو سکتا؟؟
کہ جس طرح ہم اپنی بیٹی کی خاطر کہیں سے بھی ہزاروں محنتیں کرنے کے بعد اپنے اپ کو تھکا دینے کے بعد چاہے جس طرح بھی لیکن کیسے بھی کر کے ہم اپنی بچیوں کی خاطر سامان کو یعنی جہیز کو اکٹھا تو کر ہی لیتے ہیں نا 
تو پھر کیا اس کے برعکس نہیں ہو سکتا یعنی وہی کام اپنے بیٹوں کی بیویوں کے لیے کی جائے 

اور اپ یہ بات رکھیں جب اپ اپنی بچیوں کی شادی کریں کہ نہ ہم جہز لیں گے نہ ہم جہز دیں گے کسی ہمیں اللہ کے احکام زیادہ محبوب ہیں 

کاش یہ ایسا ہو سکتا کہ بیٹیوں کی بجائے بیٹوں کے لیے سامان کا انتظام کیاجاتا

اگر یہ کام سب مل کر کرے تو بہت جلد اس رسم و رواج کا اختتام ہو سکتا ہے

کبھی یہ بھی تو سوچ لیں کی اس بیٹی کا کیا جس کے والد ماجد صاحب اس کے ساتھ نہیں اور اس کے بھائی بہن جو کی چھوٹے ہوں 
اُسے اپنی ماں کو بھی سنبھالنا ہوتا ہے ایسے میں وہ کیا کرے ۔
کبھی یہی تو سوچ لیں کہ وہ کس تکلیف میں رہ رہی ہوگی 

کاش سب سمجھ جاتے تو کسی والدین کو تکلیفیں نہ اٹھانی پڑتیں
اور سب سے بڑھ کر کے محبوب کی رضا حاصل ہو جاتی