تجددِ یتیمی اور دادا عبدالمطلب کی کفالت - جب حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کو واپس مکہ مکرمہ لے آئیں، تو آپ ﷺ کی کفالت آپ کی والدہ اور دادا عبدالمطلب نے شروع کی۔ آپ ﷺ اپنی والدہ کے ساتھ رہے حتیٰ کہ آپ ﷺ کی عمر چھ سال ہوگئی۔ اسی دوران آپ ﷺ کی والدہ آپ کو یثرب (مدینہ منورہ) لے گئیں تاکہ آپ کے ننھیال یعنی بنی عدی بن نجار (جو آپ کے والد کے رشتے دار تھے) ان سے ملاقات کروائیں اور اپنے شوہر (عبداللہ) کی قبر کی زیارت کر سکیں۔

واپسی کے سفر میں اللہ کا فیصلہ ہوا کہ آپ ﷺ کی والدہ کا انتقال ہوگیا، اور انہیں "ابواء" نامی مقام پر دفن کردیا گیا جو مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان واقع ہے۔ اب رسول اللہ ﷺ دوبارہ یتیم ہوگئے۔

عمرۃ الحدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ ابواء سے گزرے تو آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی، چنانچہ اجازت مل گئی۔ آپ ﷺ قبر پر گئے اور روئے اور اپنے ساتھیوں کو بھی رلا دیا، اور فرمایا:

میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کی اجازت چاہی مگر مجھے اجازت نہیں دی گئی، اور میں نے قبر کی زیارت کرنے کی اجازت چاہی تو اجازت دے دی گئی۔ پس قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہیں۔

چنانچہ آپ کی والدہ کے انتقال کے بعد آپ ﷺ کو آپ کے والد ماجد کی باندی "ام ایمن" نے سینے سے لگایا اور واپس مکہ لے گئیں اور دادا عبدالمطلب کے حوالے کردیا۔ عبدالمطلب نے آپ ﷺ کو اپنی کفالت میں لے لیا اور آپ سے بے حد محبت کی اور ماں باپ کی محبت کے خالی کو پُر کیا۔ عبدالمطلب کے لیے کعبہ کے سائے میں خاص بچھونا بچھایا جاتا تھا، اور ان کے بیٹوں میں سے کوئی اس پر نہیں بیٹھ سکتا تھا، مگر رسول اللہ ﷺ کو وہ اپنے پاس بٹھاتے اور محبت سے آپ ﷺ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے۔

لیکن اللہ کا فیصلہ تھا کہ دادا کی زندگی بھی زیادہ نہ رہی، چنانچہ دو سال بعد دادا کا بھی انتقال ہوگیا۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ کی عمر آٹھ سال تھی۔ اس کے بعد آپ ﷺ کی کفالت آپ کے چچا ابو طالب نے اپنے والد عبدالمطلب کی خاص وصیت پر شروع کی۔


جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔


✍🏻: محمدریحان ضیاءالحق عفي عنہ

خادمِ تدریس، مدرسہ ریاض الجنۃ، دھولیہ (مہاراشٹر)

وخادم القرآن، مجمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، لحلقات القرآن الکریم عن بُعد، بالمدینۃ المنورۃ۔