واٹس ایپ: ضرورت یا موجبِ اضطراب؟
✍️رشحات قلم:مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
جب واٹس ایپ کا ابتدائی تعارف ہوا تو یہ محض ایک تفریحی کھلونا محسوس ہوتا تھا جو ہر فرد کے ہاتھ میں نظر آتا تھا، لیکن بتدریج یہ انسانی معاشرت کی ایک اہم ضرورت میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔ بلاشبہ یہ ایپ سوشل میڈیا کے وسیع میدان میں باہمی روابط، پیغامات کی ترسیل اور معلومات کے تبادلے کا ایک سہل، دوستانہ اور مثبت ذریعہ ہے، مگر افسوس کہ ہمارا اس نعمتِ خدا داد کو بے مقصد اور لاحاصل مشاغل میں صرف کرنا، اسے سہولت کے بجائے ذہنی انتشار اور نفسیاتی الجھن کا سبب بنا رہا ہے۔
انسانی زندگی کا ایک مسلم اصول ہے کہ ہر شے کو اگر حدِ اعتدال میں رکھا جائے تو وہ نعمت اور رحمت ثابت ہوتی ہے، لیکن جب وہی شے بلا ضرورت اور بے جا استعمال میں آجائے تو وہی نعمت زحمت اور مصیبت بن جاتی ہے۔
واٹس ایپ بجا طور پر رابطہ کاری کی دنیا کا ایک مؤثر اور کارآمد وسیلہ ہے، جو عصرِ حاضر کی اہم ضرورت بھی ہے، لیکن بعض افراد کا اسے لغویات میں مشغول کرنا، غیر ضروری یاد دہانیاں ارسال کرنا، فضول پوسٹس، لاحاصل ویڈیوز اور بے معنی آڈیوز کی ترسیل کرنا ایک اذیت ناک روش بنتی جا رہی ہے۔ بعض احباب کا طرزِ استعمال اس قدر بے قابو ہوچکا ہے کہ ان کی جانب سے موصول ہونے والی تحریریں، صوتی پیغامات اور تصویری مواد محض وقت کے زیاں اور طبیعت کے بوجھ کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
یہ نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ ڈیٹا اور وسائل کا اسراف بھی ہے۔
پھر ان بے مصرف پیغامات، ویڈیوز اور تصاویر کو حذف کرنے کے لیے ایک مستقل وقت درکار ہوتا ہے جو بذاتِ خود ایک مشقت طلب مرحلہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس ایپلیکیشن کے مثبت، تعمیری اور بامقصد استعمال کو فروغ دیا جائے۔
الحمدللہ! ایسے ذمہ دار افراد بھی موجود ہیں جو اسی ذریعے سے دینی خدمات انجام دیتے ہیں، علمی مواد نشر کرتے ہیں اور اپنے تجارتی معاملات کو منظم کرتے ہیں، جس سے انہیں دنیوی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے اور اخروی اجر کی امید بھی، اور دوسروں کے لیے کسی قسم کی اذیت بھی نہیں بنتی۔
واٹس ایپ ایک مفید اور ہمہ گیر ایپ ہے جس کے ذریعے انسان دنیا کے گوشہ گوشہ سے وابستہ ہو جاتا ہے، لیکن اس کا بے جا اور لاحاصل استعمال انسان کے قیمتی لمحات کو اس طرح نگل جاتا ہے جیسے آگ خشک لکڑی کو خاکستر کر دیتی ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض افراد نجی پیغامات میں بلا کسی سابقہ تعارف یا ضرورت کے، مختلف نوعیت کی ویڈیوز، آڈیوز اور تصاویر ارسال کرتے رہتے ہیں، یا اگر تعارف موجود بھی ہو تو بھی ایسے مواد کی ترسیل کرتے ہیں جسے دیکھنا یا سننا ممکن نہیں ہوتا۔ اگر موبائل میں خودکار ڈاؤن لوڈ (Auto Download) بند ہو تو الگ مشقت اٹھانی پڑتی ہے اور اگر اسے فعال کر دیا جائے تو فضول مواد کا ایک طوفان روزانہ موبائل میں داخل ہو جاتا ہے، جسے حذف کرتے کرتے نہ صرف جسمانی تھکن بلکہ ذہنی کوفت بھی لاحق ہو جاتی ہے۔
لہٰذا نہایت مؤدبانہ گزارش ہے کہ مختلف نوعیت کے غیر ضروری مبارک باد کے پیغامات، ٹی وی خبروں کی ویڈیوز، لطیفہ گوئی پر مشتمل مواد، محض تفریحی (Funny) کلپس اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر ضروری پوسٹس بھیجنے سے حتی المقدور اجتناب فرمایا جائے۔
البتہ اگر کوئی نہایت اہم نوعیت کی اطلاع ہو، یا کوئی دینی و شرعی پہلو رکھنے والی بات ہو، یا حالاتِ حاضرہ سے متعلق واقعی مفید اور سنجیدہ خبر ہو تو اس کے ساتھ مختصر وضاحت بھی درج کر دی جائے کہ یہ کس موضوع سے متعلق ہے، تاکہ وصول کرنے والا اس کی اہمیت کو سمجھ کر استفادہ کر سکے۔
راقم جن احباب کے ساتھ کسی گروپ میں شامل ہے، ان سے یہ بھی گزارش ہے کہ ایسی عمومی نوعیت کی پوسٹس کو نجی پیغام میں ارسال کرنے کے بجائے گروپ میں ارسال کیا جائے، تاکہ تکرار سے بچا جا سکے اور قیمتی وقت کے ضیاع سے حفاظت ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں وقت کی قدر و قیمت پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں سوشل میڈیا کی نعمتوں کو بامقصد، باوقار اور معتدل انداز میں استعمال کرنے والا بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔