ایک فکری شام چار مینار حیدرآباد کے نام

✍🏻خامہ بکف محمد عادل ارریاوی 
جائے تحریر چار مینار حیدرآباد 
__________________________________
آج شام کے وقت حیدرآباد دکن کے تاریخی اور عالمی شہرت یافتہ مقام چار مینار پر حاضری کا موقع ملا میری یہ حاضری صرف سیر و تفریح کی غرض سے نہیں تھی بلکہ قدرت تاریخ اور انسانی محنت کے ان انمول شاہکاروں کا قریب سے مشاہدہ کرنا مقصود تھا جو صدیوں سے اپنی عظمت کے ساتھ قائم ہیں چار مینار کو دیکھ کر دل بے اختیار اس بات پر شکرگزاری سے بھر گیا کہ اللہ ربّ العزت نے انسان کو کس قدر صلاحیتیں عطا فرمائیں جن کے ذریعے ایسی عظیم عمارتیں وجود میں آئیں جو آج بھی تاریخ کی گواہی دے رہی ہیں۔
چار مینار کے بالکل قریب واقع قدیم اور عظیم الشان مکہ مسجد کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہوا اس مسجد کی روحانی فضا اس کی وسعت اور اس کا تاریخی پس منظر دل کو ایک خاص سکون اور خوشی عطا کرتا ہے یہ سوچ کر ایمان تازہ ہو جاتا ہے کہ سینکڑوں برس قبل تعمیر ہونے والی یہ مسجد آج بھی نہ صرف قائم ہے بلکہ لاکھوں مسلمانوں کے لیے عبادت کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
چار مینار کے اطراف کا علاقہ ہمیشہ کی طرح بے حد مصروف نظر آیا خواتین اور مردوں کا بے شمار ہجوم اور راستہ چلنا بھی خاصا دشوار محسوس ہو رہا تھا یہ منظر اس بات کی دلیل ہے کہ چار مینار نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ ملک و بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کے لیے بھی غیر معمولی کشش رکھتا ہے لوگ قدرت تاریخ اور تہذیب کے اس حسین امتزاج کو دیکھنے دور دراز سے آتے ہیں۔
جو شخص ایک بار چار مینار کو دیکھ لے اس کا دل بار بار اسے دیکھنے کو چاہتا ہے کیونکہ یہ صرف ایک عمارت نہیں ہے بلکہ حسن تاریخ اور کشش کا ایسا شاہکار ہے جو دیکھنے والے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے واقعی چار مینار ایک نہایت خوبصورت اور دل موہ لینے والا محل ہے
البتہ اس خوشگوار مشاہدے کے دوران ایک بات نے دل کو خاصی تکلیف بھی پہنچائی یاد آیا کہ جب میں نے سن 2017 میں چار مینار کا مشاہدہ کیا تھا تو اس کے ایک کونے پر ایک چھوٹی سی مورتی رکھی ہوئی تھی لیکن آج جب دوبارہ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ وہ مورتی اب خاصی بڑی شکل اختیار کر چکی ہے اس صورتحال کو دیکھ کر یہ اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں مستقبل میں یہ معاملہ اس حد تک نہ بڑھ جائے کہ چار مینار کی تاریخی اور تہذیبی حیثیت متاثر ہونے لگے تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہمارے ملک میں کئی قدیم مساجد مختلف حیلوں اور دھوکے سے ہم سے چھین لی گئیں اگرچہ حیدرآباد دکن میں عمومی طور پر ہندو مسلم بھائی چارہ اور امن و امان کی فضا قائم ہے اور یہاں فرقہ وارانہ کشیدگی نسبتاً کم دیکھنے میں آتی ہے لیکن مستقبل کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا ممکن نہیں حالات کب اور کیسے بدل جائیں یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
آخر میں دل سے یہ دعا نکلتی ہے کہ اللہ ربّ العزت ہمارے ملک کی تمام مساجد اور دینی مقامات کی حفاظت فرمائے ہمیں باہمی امن برداشت اور سمجھ بوجھ کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا کرے اور ہمیں دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ہمیشہ ثابت قدم رکھے۔
آمین یا ربّ العالمین