صحت و تندرستی ہزار نعمت،اور ان نعمتوں کا شکریہ پاکیزہ افعال ہے۔ زندگی کا جو حصہ نکل گیا اس کی قیمت اس میں کیے جانے والے اعمال ہیں،بلکہ اپنی پچھلی زندگی کی کامیابی پر دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے،اور بدن کا ہر حصہ اللہ کے شکر کے احساس میں ڈوب جاتا ہے،اگر اس سے پوچھا جائے کہ عمر کا جو حصہ نکل چکا ہے اس کو معدوم سمجھا جائے، اور آج سے آپ کی زندگی کا حساب شروع کیا جائے، یا یوں کہیں کہ اپ کو نئی زندگی دی جائے تو کیا اس پر راضی ہو؟ تو وہ جواب نفی میں دے گا،کیونکہ ان ایام میں جواہرات مدفون ہیں،اس کی کوششوں اور محنتوں سے کتنے درخت ہے تیار کھڑے ہیں،اس کے ماضی کی زمین گویا ایک سرسبز و شاداب گلشن ہے جس کی فضا ہر طرح کی خوشبو سے معطر اور مناظر دلکش اور جاذب نظر ہیں،عمدہ لذیذ ماکولات و مشروبات کی بہتات ہے،اور اگر زندگی خوابِ غفلت میں نکل گئی تو آدمی اس کو اپنی زندگی کہتے ہوئے بھی شرماتا ہے،جب بھی اس کو اپنی کوتاہیاں یاد آتی ہیں تو اسے خود اپنی زندگی سے نفرت ہوتی ہے،اگر اس سے بھی اوپر والا سوال کیا جائے تو وہ اثبات میں جواب دے گا،اور اپنی پوری رضامندی بلکہ طلب کا اظہار کرے گا،کیونکہ ماضی کا میدان پتھروں،کانٹوں بلکہ شکاری اور زہریلے جانوروں سے خوفناک اور ہلاکت خیز بن گیا ہے،جاج بن ابی عینیہ کہتے ہیں کہ جابر بن زید رحمت اللہ علیہ ہماری مسجد میں نماز کے لیے آیا کرتے تھے،ایک دن ہمارے پاس پرانے بوسیدہ جوتے پہن کر آئے،اور فرمانے لگے: میری عمر کے 60 سال گزر چکے،اگر میں نے ان میں کوئی خیر کے کام نہیں کیے تو میرے یہ دو پرانے جوتے ان 60 سالہ زندگی سے بہتر ہیں۔
اس کے برخلاف وہ زندگی جو اللہ کی یاد اور اخرت کی تیاری میں گذری اس کی قیمت کے متعلق ایک اللہ والے کا ارشاد ملاحظہ کیجیے: لو بعت لحظۃ من إقبالک علی اللہ بمقدار عمر نوح فی ملک قارون لکنت مغبوناً فی العقد (مفتاح الافکار) "اگر تو ایک گھڑی کو جو اللہ کی یاد میں گزری فروخت کر دے،اور اس کے عوض میں عمر نوح ایک ہزار سال کے برابر زندگی اور اس کے ساتھ قارون کا خزانہ خرید لے تب بھی تو اس سودے میں کھوٹ رہے گا