🪩

اس مغرب زدہ دور میں امت مسلمہ کے نونہالوں
 کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنا نہایت اہم اور ضروری ہے ۔حال یہ ہے کہ ہر شخص دینی تعلیم سے منہ موڑ کر عصری تعلیم میں اس قدر منہمک ہوگیا ہے کہ نہ اسے نماز کی فرصت باقی رہی، اور نہ سوچنے سمجھنے کا وقت۔

ہر شخص کا مطمحِ نظر اور مقصود دنیاداری ہے۔دنیا کی اعلی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد، اونچے پوسٹ کے شوق میں ایک مدت دربدر پھرنے اور اسکے حصول کے بعد ،معاشی تکلیف سے راحت پانے کے بعد پھر دنیا میں جرم ،جھوٹ اور مکر و فریب کا بازار کیوں گرم ہے ۔۔؟؟؟

♻️ضرورت ہے کہ مسلمان اپنی عزت و عظمت کو سمجھے ۔حالات کے تقاضوں کے تحت اپنی اولاد کو عصری علوم سے ضرور آراستہ کرے لیکن دھیان رہے کہ کہیں شریعت اور دینی علوم سے بے بہرہ نہ ہو جاۓ۔۔

دورِحاضر میں تقریباً ہر دوسرا شخص ایم اے اور پی ایچ ڈی کو اپنی شان اور طرۂ امتیاز بناۓ ہوۓ ہے اور باوجودیکہ ایک جاہلانہ زندگی بسر کر رہا ہے جسے نہ حلال کی فکر نہ حرام کی تمیز ، نہ بڑوں کا لحاظ نہ، چھوٹھوں پر مہربانی، نہ خدا کی عبادت ،نہ خودی کی پرواہ ۔۔۔
کیوں 
ایسا کیوں 
کبھی سوال کیا ۔۔۔۔؟؟؟؟؟🔎

📌یاد رکھیں دینی تعلیم سے روگردانی یہ انسانیت، دین و دنیا دونوں کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتی ہے 
ایک مسلمان نسل خودی اور خدا کو بھول کر صرف برق و بخارات میں لگ جاۓ یہ انسانی شان نہیں۔

انسانیت کو زندہ رکھنے والی بلکہ انسانیت کا مبداء ،سراپا انسانیت ہی اسلام ہے ۔
ذرا سوچیں۔۔صورتحال یہ بنی ہوئی ہے کہ ایک طرف اعلی تعلیمِ نسواں کیلئے ادارے یونیورسٹی قائم ہورہے اور دوسری جانب یہی تعلیم یافتہ خواتین مہیلا عدالتوں اور دارالقضاء میں طلاق اور خلع کا بازار گرم کۓ کھڑی ہیں ۔
یہاں ہر بندہ نیوکلیئر کا مالک اور انسانیت کا قاتل بنتا جا رہا ہے 
آج کا ڈاکٹر اور انجینئر وقت کا بڑا ڈاکو بن چکا ہے 

کیا تعلیم یہی سکھاتی ہے ۔۔۔۔۔؟؟
کیا انسانیت یہی ہے ۔۔۔۔؟؟
کیا یہی انصاف اور ہنرمندی ہے ۔۔۔؟؟ یا ہمیں راہِ راست سے منحرف کرنے کی کوئی سازش 
⁉️⁉️

اسی کو اکبر الہ آبادی نے یوں کہا تھا۔۔
   تم شوق سے کالج میں پھلو پارک میں پھولو۔  
  جائز ہے غباروں میں اڑو چرخ پہ جھولو 
  بس ایک سخن بندۂ عاجز کا رہے یاد 
اللہ کو اور اسکی حقیقت کو نہ بھولو


از قلم ✍️۔۔بنت عبدالستار