(10)مضمون
بسم اللہ الرحمن الرحیم
_________________
(بقلم محمودالباری. mahmoodulbari342@gmail.com
8292552391)
، شریعت میں اضافہ اور اس کی سنگینیاں ،
محترم قارئین کرام!
آج ہم ایک ایسے فتنہ سے دوچار ہیں جس نے دو رخ اختیار کر لیے ہیں اگرچہ شاید پہلا رخ جذبہِ ایمان کی وجہ سے ہے ۔
پہلا رخ یہ ہے کہ ایک بے ادب شخص نے اپنی زہر آلود زبان سے 80 فیصد علماء کرام کو نشانہ بنایا۔ یہ وہی علماء ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے ورثة الانبیاء قرار دیا۔ ان پر طعن دراصل دین کی جڑ پر حملہ ہے، یہ گستاخی کسی ایک عالم کی نہیں بلکہ پوری امت کی توہین ہے۔
اور دوسرا رخ اس فتنہ کا یہ ہے کہ اسی ذہنیت نے دین میں ایک نئی بدعت ایجاد کر ڈالی، جسے "میلاد النبی کی نماز" کہا جا رہا ہے۔ نہ قرآن میں اس کا ذکر ہے، نہ حدیث میں، نہ صحابہ و تابعین نے اسے اپنایا، نہ ائمہ کرام نے اس کی اجازت دی۔ یہ صرف ایک گمراہی نہیں بلکہ دینِ اسلام کی تکمیل کے اعلان کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔
افسوس! یہ بدعت بھی اسی کے ہاتھوں ظاہر ہوئی جو پہلے سے علماء کو نشانہ بنا کر اپنی پہچان بناتا رہا، اور اب "مسلکِ اعلیٰ حضرت" کے چولے میں چھپ کر امت کو گمراہ کرنے نکلا ہے۔
یاد رکھو! گستاخی اور بدعت دونوں جہنم کی راہیں ہیں۔ امت پر فرض ہے کہ مہذب اور مضبوط آواز سے اس فتنے کو رد کرے اور اصل دین کو تھامے۔
الحمد للہ، دین اسلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکمل اور محفوظ شریعت ہے۔ قرآن مجید میں صاف ارشاد ہے:
> "الْیَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِیْنًا"
(المائدہ: 3)
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کرلیا۔
یہ اعلانِ الٰہی اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ دین میں کسی قسم کی کمی بیشی، اضافہ یا گھٹاؤ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
بدعت کی مذمت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> "مَن أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَیْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ"
(بخاری و مسلم)
جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی نئی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔
اسی طرح ایک اور روایت میں ارشاد ہے:
> "وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ"
(ابوداؤد و ترمذی)
بچو! نئی نئی چیزوں (بدعات) سے، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔
صحابہ کرام کا طرزِ عمل
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
> "نحن قوم أعزنا الله بالإسلام فمهما ابتغينا العزة بغيره أذلنا الله"
(حاکم، مستدرک)
ہم وہ قوم ہیں جنہیں اللہ نے اسلام کے ذریعہ عزت دی، اب اگر ہم کسی اور چیز میں عزت تلاش کریں گے تو اللہ ہمیں ذلیل کر دے گا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دین میں معمولی سی بھی زیادتی یا کمی برداشت نہ فرماتے۔ دین کی حفاظت ان کے نزدیک سب سے بڑا فریضہ تھا۔
علماء کرام کے اقوال
امام مالک رحمہ اللہ کا مشہور قول ہے:
> "مَنِ ابتدعَ في الإسلامِ بدعةً يراها حسنةً فقد زعم أن محمدًا ﷺ خان الرسالة"
(الاعتصام للشاطبی)
جس نے اسلام میں کوئی نئی بدعت ایجاد کی اور اسے اچھا سمجھا تو اس نے یہ گمان کیا کہ محمد ﷺ نے رسالت میں خیانت کی۔
اسی طرح امام شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
> "بدعت دین میں اضافہ ہے، خواہ وہ عمل ہو یا عقیدہ، اور یہ اضافہ حقیقت میں دین کی توہین ہے۔"
میلاد النبی ﷺ کے نام پر نئی "نماز"
اگر کوئی شخص دین میں ایسی نماز ایجاد کرے جسے نبی کریم ﷺ نے نہ پڑھا، خلفائے راشدین نے نہ اپنایا، نہ صحابہ، نہ تابعین، نہ ائمہ اربعہ نے اس کا ذکر کیا، تو وہ عمل دین کے خلاف اور مردود ہے۔ اس کا نام "میلاد النبی کی نماز" یا کوئی بھی ہو، حقیقت میں یہ شریعت مطہرہ میں اضافہ ہے۔
یہ صرف ایک غلطی نہیں بلکہ دین کے ساتھ کھلا استہزاء ہے۔
ایسے لوگ اگر عاجزی اور ندامت کے ساتھ فوراً توبہ نہ کریں تو یہ بدعت اور گستاخی کا ارتکاب ہے، اور امت پر لازم ہے کہ ان کی اصلاح کے لیے مہذب اور مؤثر زبان و قلم کے ساتھ انکار کرے۔
،امت کی ذمہ داری،
قرآن میں ارشاد ہے:
> "وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ"
(المائدہ: 2)
نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر مدد نہ کرو۔
لہٰذا ہر مسلمان، چاہے کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس پر لازم ہے کہ دین میں اضافہ کرنے والوں کے خلاف علمی اور مہذب انداز میں انکار کرے اور انہیں توبہ کی طرف بلائے۔
، نتیجہ،
دین مکمل ہے، اس میں اضافہ یا کمی سراسر حرام ہے۔
بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔
صحابہ و ائمہ نے بدعت کو سختی سے رد کیا ہے۔
امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ بلا تفریق مسلک و ملت بدعت کا انکار کرے۔
اگر کوئی توبہ نہ کرے تو اسے ہلکے میں لینا بڑی کوتاہی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کو اصل شکل میں تھامنے، بدعات سے بچنے اور باطل کا رد کرنے کی توفیق عطا فرمائے
۔ آمین۔