👍🏻 السلام علیکم میرے ساتھیوں ✨ 

**امید ہے کہ آپ سب بخیر و عافیت سے ہونگے**
=============================
آج جب میں نے یہ مضمون لکھنے کے لیے قلم اٹھایا تو میرے سامنے نہ کوئی بڑا دعویٰ تھا اور نہ ہی الفاظ کی نمائش کا خیال۔ دل میں بس ایک سوال تھا کہ کیا ہم نے لکھنے کو صرف تعریف اور نمبروں تک محدود کر دیا ہے۔ میں نے یہ مضمون کسی خاص تیاری کے بغیر لکھا، نہ لغت کھولی اور نہ ہی مشکل الفاظ تلاش کیے، جو محسوس کیا وہی قلم پر آ گیا۔ میں نے خود کو روکا نہیں اور نہ ہی ٹوکا، کیونکہ مجھے یقین تھا کہ اگر بات سچی ہو تو سادہ لفظ بھی اثر رکھتے ہیں۔ یہ مضمون دراصل ایک احساس ہے، ان سب کے لیے جو لکھتے ہیں اور کبھی کبھی خود پر شک کر بیٹھتے ہیں، اور میرے لیے بھی ایک یاد دہانی کہ لکھنا صرف شوق نہیں بلکہ ذمہ داری اور عبادت بھی ہو سکتا ہے اگر نیت صاف ہو۔ میں صدائے قلم کی شکر گزار ہوں جو نئے لکھنے والوں کو پہچان دیتا ہے اور ان قلموں کو جگہ دیتا ہے جو ابھی سفر میں ہیں مگر سمت درست رکھتے ہیں۔ یہ میری سیکھنے کی کوشش کا ایک حصہ ہے، اور اگر یہ مضمون کسی ایک دل تک بھی پہنچ گیا تو میں اپنے قلم کو کامیاب سمجھوں گی۔


ایک مضمون نگار کی کہانی ۔۔۔۔۔۔

۔(قارئین کی حوصلہ افزائی کے لئے)

         بسم اللہ الرحمن الرحیم 



 
ایک مضمون نگاری کی کہانی — قلم والوں کی حوصلہ افزائی

ایک چھوٹے سے مدرسے میں، جہاں دیواروں پر کتابوں کی خوشبو بسی رہتی تھی، ایک بزرگ مفتی صاحب ہر جمعرات کو طلبہ کو ایک عجیب سا کام دیتے۔ نہ سوال و جواب، نہ حفظ—بس کہتے:
“آج تم سب قلم سے بات کرو گے۔”

طلبہ حیران ہوتے۔ قلم؟ وہ بھی ایسے زمانے میں جب بولنا آسان اور لکھنا مشکل لگتا ہے؟
مفتی صاحب مسکراتے اور کہتے:
“جو بات زبان سے نکلتی ہے وہ اکثر ہوا میں گم ہو جاتی ہے، مگر جو بات قلم سے نکلے وہ نسلوں کی رہنمائی بن جاتی ہے۔”

ایک دن ایک طالب علم نے ہمت کر کے کہا:
“حضرت! ہمارے لکھنے سے کیا بدل جائے گا؟ ہم تو چھوٹے سے لوگ ہیں۔”

مفتی صاحب نے کتاب بند کی، نگاہ اٹھائی اور نرمی سے فرمایا:
“بیٹا، تاریخ میں بڑے انقلاب نعروں سے نہیں، مضمونوں سے آئے ہیں۔ ایک سچا مضمون، ایک سچے دل سے نکلا ہوا لفظ، کسی ایک انسان کی سوچ بدل دے—اور یہی کافی ہے۔”

پھر انہوں نے ایک پرانی کاپی نکالی۔ اس میں ایک سادہ سا مضمون تھا، زبان عام، مگر درد سچا۔ فرمایا:
“یہ مضمون ایک کمزور طالب علم نے لکھا تھا۔ استاد نے اس کی حوصلہ افزائی کی، بس اتنا کہا: ‘لکھتے رہو۔’ آج وہی طالب علم لوگوں کے دلوں میں امید جگاتا ہے۔”

طلبہ کے دلوں میں کچھ جاگا۔ اس دن قلم بوجھ نہیں لگا، امانت لگا۔
کسی نے معاشرے پر لکھا، کسی نے ایمان پر، کسی نے سچ پر۔
مفتی صاحب ہر مضمون کے آخر میں ایک ہی جملہ کہتے:
“لفظ ٹھیک ہو تو لکھنے والا بھی بلند ہو جاتا ہے۔”

یہی وہ دن تھا جب طلبہ نے سمجھا کہ مضمون نگاری صرف امتحان کا سوال نہیں، امت کی خدمت ہے۔
اور حوصلہ افزائی؟
وہی تو وہ روشنی ہے جو ایک عام قلم کو چراغ بنا دیتی ہے۔


سبق:
جو لکھتا ہے، اسے مت روکو۔
جو سیکھ رہا ہے، اسے مت ٹوکو۔
ایک دن یہی قلم، زمانے کی سمت بدل دے گا۔


 🌷عالمہ فضہ صباحت 🌷