روز کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔
کل مجھے لگ رہا تھا میرے اوپر کوئی پریشانی نہیں تو شاید اللہ مجھ سے ناراض ہو آج لگا کہ پریشانیوں کا ہونا نہ ہونا تو یہ define ہی نہیں کر سکتا کہ اللہ کس سے خوش اور کس سے ناراض ہے بالکل اس طرح جیسے زندگی کا پر سکون ہونا یہ define نہیں کر سکتا کہ اللہ ناراض ہے۔
احادیث میں جن پسندیدہ بندوں کی بات کی گئی ہے وہ پریشانیاں اللہ ان پر ڈالتاہے۔
بعض لوگ خود پریشانی کا گڑھا کھود کر اس میں کود پڑتے ہیں ایسی پریشانیوں کا سبب اللہ کی پسند نہیں ہوتی یہ ہماری غلطیوں کی سزا ہوتی ہے۔
جو اللہ کہتا ہے "اپنے حالات پر صبر کرو عنقریب تمہیں تمھارے صبر کا اجر دیا جائیگا" وہ ان حالات کی بات کرتا ہے جو اس نے ان پر ڈالی ہوتی ہیں نہ کہ ان کی جو ہم خود create کرتے ہیں۔
تو ضروری نہیں کہ پریشانیوں کا ہونا مطلب اللہ ہم سے راضی ہے ،یہ ہماری غلطیوں کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ پریشانیاں اور سکون اللہ اپنی ناراضگی اور خوشنودی دونوں کے سبب دے سکتا ہے، پریشانی اور سکون ، ناراضگی اور خوشنودی یہ سب ہمارے لئے آزمائشیں ہیں اور ان آزمائشوں کو ہمیں اللہ کی رضا میں راضی ہو کر پار کرنی ہے، ہمیں مثبت سوچ رکھنی ہے لیکن اپنی غلطیوں پر تاویلیں ڈھونڈ کر انہیں صحیح ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرنی ، ہماری سب سے بڑی کمزوری ہیکہ ہم اپنے آپ سے سچ بولنے سے کتراتے ہیں اور پھر ہم موسٹ آف دا سیچویشن میں کنفیوزڈ ہو جاتے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ اپنی loyalty کو ثابت کرنے کے چکر میں ہم تو یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہمارا ایک وجود بھی رہتا ہے جس کے ساتھ وفاداری ہماری first priority ہونی چاہئے ۔
بہرحال ہم غلط یہاں پر ہوتے ہیں کہ اللہ جن سے راضی ہوتا ہے صرف انہی پر آزمائش ڈالتا ہے اور وہ آزمائشیں بھی فقط پریشانیوں کی شکل میں ہوتی ہے لیکن اللہ رب العزت آسائشیں، خوشی، دولت دیکر بھی آزماتا ہے اور لیکر بھی۔
یہ دنیا بنی ہی ہے صبر اور شکر پر، پریشانیوں کی شکل میں جو آزمائشیں ہیں ان پر صبر کرو اور پر سکونی کی شکل میں جو ہے اس پر شکر۔