محترم قارئین آج ہمارا موضوع ہے ۔گھوڑا۔
جی ہاں کوئ شوقیہ گھوڑا نہیں بلکہ جہادی گھوڑا۔
لوگ گھوڑوں پر لاکھوں خرچ کرتے ہیں ۔
اگر نیت جہاد کی نہیں تو کوئ فایدہ نہیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھوڑوں سے اتنی محبت تھی کہ اماں عائشہ صدیقہ سے ایک روایت ہے ۔ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جھولی میں جو ڈال کر گھوڑے کو کھلا رہے تھے ۔
ایک اور روایت ہے کہ آپ نے اپنے دامن سے گھوڑے کا منہ صاف کیا ۔
اللہ اکبر
آپ گھر دوڑ کے مقابلے کرواتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سات گھوڑے تھے ایک روایت کے مطابق دس تھے۔
السکب۔سب سے پہلا گھوڑا
المرتجز۔
الضرب۔
اللحیف۔
اللزاز۔
الورد۔
السبحہ۔
جی وفادار گھوڑے میدان جنگ میں کود جانے والے ۔
اللہ کو مجاہدین سے اتنی محبت ہوئ کہ ان کی سواریوں کی بھی قسمیں کھائیں ۔
(سورہ العادیات)
ایک روایت ہے کہ جہادی گھوڑے کا لید پیشاب قیامت کے دن میزان میں تولا جائے گا ۔
آئیے آج سے عہد کرتے ہیں کہ حسب استطاعت جہاں تک ہوسکا جہادی گھوڑا پالیں گے ۔
انشاء اللہ ثم انشاء اللہ ۔