ایک دن ایک خاموش سی لڑکی تھی۔
اس کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا، مگر زبان پر لفظ کم آتے تھے۔ دل میں سوال، آنکھوں میں مشاہدہ، اور ذہن میں شور—لیکن سب کچھ بکھرا ہوا۔
ایک دن اس نے خالی کاغذ اٹھایا۔
نہ موضوع طے تھا، نہ عنوان۔
بس قلم رکھا… اور پہلا جملہ لکھ دیا۔
وہ جملہ کمزور تھا، مگر سچا تھا۔
پھر دوسرا آیا، پھر تیسرا—
ہر جملے کے ساتھ اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا گیا۔
وہ سمجھ گئی کہ مضمون نگاری صرف الفاظ جوڑنے کا نام نہیں
یہ تو سوچ کو ترتیب دینے، احساس کو شکل دینے،
اور سچ کو خاموشی سے بولنے کا ہنر ہے۔
کبھی وہ سماج پر لکھتی،
کبھی ایمان پر،
کبھی اپنے سوالوں پر—
اور کبھی خود اپنے آپ پر۔
کچھ لوگ اس کے مضمون سے متفق نہ ہوتے،
کچھ مسکرا دیتے،
اور کچھ چپ ہو جاتے—
لیکن وہ جان گئی تھی کہ
اگر تحریر کسی کو سوچنے پر مجبور کر دے،
تو وہ کامیاب ہو چکی ہے۔
یوں ایک خاموش لڑکی،
مضمون نگاری کے ذریعے
اپنی آواز بن گئی۔
اور تب اسے احساس ہوا—
کبھی کبھی قلم،
زبان سے زیادہ سچ بولتا ہے۔ ✍️