جہاد کی اقسام 
جہاد کی دو قسمیں ہیں ۔
1
دفاعی 

اقدامی
(1)
دفاعی جہاد کا مطلب 
اس کا مطلب یہ ہے کہ کفار مسلمانوں پر حملہ آور ہوں۔اور مسلمان اپنے دفاع میں ان سے جنگ کریں ۔
غزہ احد اور خندق وغیرہ اسی نوعیت کے جہاد تھے
( اقدامی جہاد کا مطلب ( 2
اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کفار پر حملہ آور ہوں اور ان کی طاقت ،اور شان وشوکت کو توڑ ڈالیں ،تاکہ انہیں اہل اسلام پر حملہ آور ہوں نے کی جرآت نہ ہو ،اور دنیا میں امن و امان قائم رہے ۔
غزوہ بدر،غزوہ خیبر ،غزوہ فتح مکہ اور غزوہ تبوک اقدامی جہاد" میں شامل ہے"
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کا ذکر کیا ہے ۔
سورہ بقرہ آیت نمبر 190
سورہ حج آیت نمبر 40/39
تکملہ فتح الملک
سیرہ مصطفی)از مولانا ادریس کاندھلوی)
اقدامی جہاد کے دلائل۔
سورہ توبہ/۵
سورہ احزاب آیت نمبر/ 61
سورہ انفال آیت نمبر/ 39
سورہ توبہ /33
یعنی دین کو اتنا غلبہ اور قوت حاصل ہو جائے کہ کفار کی طاقت سے اس کے مغلوب ہو نے کا احتمال باقی نہ رہے ۔اور دین اسلام کو کفر کے فتنہ اور خطرہ سے بالکلیہ،اطمینان ہو جائے ۔
اب رہا یہ امر کہ کفر کے فتنہ سے کس طرح اطمینان ہو سکتا ہے ۔؟
تو اس کی تین صورتیں ہیں 
جاری ہے ٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫٫