مذاہب میں روزے کا تصور اور طریقہ

رمضان المبارک اپنے پہلے عشرے میں داخل ہو چکا ہے۔ دنیا بھر میں رمضان کی رونق نمایاں ہے۔ میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک، اور انفرادی زندگی سے اجتماعی طرزِ زندگی تک، رمضان المبارک کے اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ دنیا بھر کی توجہ مسلمانوں کے روزوں کی جانب مبذول ہے، جہاں تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی پہلوؤں پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔
تاہم یہ حقیقت بھی قابلِ توجہ ہے کہ روزہ صرف اسلام تک محدود نہیں، بلکہ دنیا کے کئی مذاہب میں روزے کا تصور موجود ہے، اور ان کے پیروکار مختلف ناموں اور طریقوں سے روزے رکھتے ہیں۔
جی ہاں! اسلام کے علاوہ بھی ایسے متعدد مذاہب ہیں جو اپنے ماننے والوں کو مختلف مذہبی ایام میں روزہ رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اسلام کے علاوہ کم از کم چھ ایسے مذاہب ہیں جن میں روزہ رکھا جاتا ہے۔
یہودیت
یہودیت میں ’’یومِ کِپُّور‘‘ یا ’’یومِ کفارہ‘‘ کو روزے کے دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہودی کیلنڈر میں چھ مزید روزے بھی شامل ہیں، جن میں ’’تشاباؤ‘‘ کا روزہ بھی نمایاں ہے۔ یہ روزہ یروشلم میں یہودی معبد کی تباہی کی یاد میں رکھا جاتا ہے۔
بدھ مت
بدھ مت سے تعلق رکھنے والے تقریباً تمام فرقے سال میں کچھ مخصوص دنوں میں روزہ رکھتے ہیں۔ ان میں پورے چاند کے دن اور دیگر مذہبی ایام شامل ہیں۔
عیسائیت (کیتھولک)
عیسائی مذہب کے اہم فرقے کیتھولک سے تعلق رکھنے والے افراد ’’ایش وینس ڈے‘‘ اور ’’گڈ فرائیڈے‘‘ کو روزہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ نفس کشی کی مدت میں آنے والے تمام جمعہ کے دن گوشت کھانے سے پرہیز کیا جاتا ہے۔
ہندو مت
ہندو مذہب میں نئے چاند، شوراتری، سرسوتی اور دیگر تہواروں کے موقع پر روزے رکھنا عام ہے۔ ہر بکرمی مہینے کی گیارہویں تاریخ کو ’’اکادشی‘‘ کا روزہ رکھا جاتا ہے، جس کے مطابق سال میں چوبیس روزے ہوتے ہیں۔ ہندو خواتین شوہروں کی درازیٔ عمر کے لیے ’’کڑوا چوتھ‘‘ کا روزہ رکھتی ہیں۔
مورمن
مورمن مذہب کے پیروکار ہر مہینے کے پہلے اتوار کو روزہ رکھتے ہیں۔
بہائی
بہائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد بہائی سال کے انیسویں مہینے، یعنی 2 مارچ سے 20 مارچ تک، ’’ایلا‘‘ کے روزے رکھتے ہیں۔
اسلام میں روزہ
روزہ اسلام میں ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کے پانچ ارکان میں روزہ ایک اہم عبادت ہے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ دنیا بھر میں مسلمان رمضان المبارک کے روزے رکھتے ہیں۔
قرآنِ کریم میں جہاں روزے کی فرضیت بیان کی گئی ہے، وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پچھلی امتوں پر بھی روزے فرض کیے گئے تھے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں روزہ رکھنا ہر بالغ، عاقل، صحت مند اور مقیم مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ اسلامی روزے کی صورت فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانے، پینے اور ازدواجی تعلقات سے مکمل اجتناب ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے…‘‘
(سورۃ البقرہ: 185)
یہودیوں کے روزے


مسلمانوں کے علاوہ یہودی بھی کثرت سے روزے رکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی مقدس کتاب تورات میں کئی مقامات پر روزے کی فرضیت کا ذکر ملتا ہے۔ شریعتِ موسوی میں ایک روزہ فرض تھا، جسے ’’یومِ عاشورہ‘‘ یا ’’یومِ کفارہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
اس دن یہودی عبادت گاہوں میں زیادہ وقت گزارتے ہیں، توبہ و استغفار کرتے ہیں اور تورات کی تلاوت میں مشغول رہتے ہیں۔ یومِ کِپور کو یہودی کیلنڈر کا سب سے اہم اور سنجیدہ دن تصور کیا جاتا ہے، جو گناہوں پر ندامت اور معافی کی دعا کے لیے منایا جاتا ہے۔
ہندوؤں کے روزے
ہندو مذہب میں روزے کو ’’ورت‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی ابتدا کے بارے میں واضح احکام موجود نہیں، مگر مذہبی اور سماجی روایات کے تحت یہ رائج ہے۔ بعض روزوں میں پھل، دودھ اور پانی کی اجازت ہوتی ہے، جبکہ بعض میں ان چیزوں سے بھی پرہیز کیا جاتا ہے۔
سادھو اور جوگی تپسیا اور دھیان کے دوران طویل عرصے تک بھوکے رہتے ہیں۔ ہندوؤں میں نئے اور پورے چاند کے دن بھی روزہ رکھنے کا رواج ہے، نیز قریبی عزیز کی وفات پر بھی روزہ رکھا جاتا ہے۔
عیسائیت میں روزہ


بائبل کے مطابق روزہ کھانے پینے سے پرہیز کا نام ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے روزے کو خفیہ عبادت قرار دیا اور ریاکاری سے منع فرمایا۔
اگرچہ عیسائیت میں اصل روزہ کھانے پینے سے مکمل اجتناب ہے، لیکن آج بہت سے عیسائی صرف مخصوص کھانوں سے پرہیز کرتے ہیں یا گوشت نہ کھانے کو روزہ سمجھتے ہیں۔ کیتھولک عیسائیت میں روزہ روحانی مضبوطی، ضبطِ نفس اور غریبوں سے ہمدردی کا ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ بعض عیسائی معاشروں میں روزے سماجی اور اخلاقی مقاصد کے لیے بھی رکھے جاتے ہیں۔