ہم بول تو رہے ہیں، مگر سمجھا کیا رہے ہیں؟
آج رائے بنانا آسان ہو گیا ہے، لیکن رائے کو سمجھداری سے بنانا مشکل۔ آدھی بات سن کر فیصلہ کر لینا، ایک جملہ پڑھ کر پورا انسان پرکھ لینا، اور ایک کلپ دیکھ کر پوری حقیقت جان لینے کا گمان—یہ سب اسی جلدی کا نتیجہ ہے جسے ہم ترقی سمجھ بیٹھے ہیں۔
پہلے اختلاف کے ساتھ احترام بھی ہوتا تھا، اب اختلاف کے ساتھ تحقیر آ جاتی ہے۔ پہلے بات دلیل سے آگے بڑھتی تھی، آج آواز کی بلندی سے۔ ہم نے گفتگو کو مکالمہ نہیں رہنے دیا، بلکہ مقابلہ بنا دیا—کون زیادہ بول سکتا ہے، کون زیادہ اثر ڈال سکتا ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ہم غلط ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم غلط ہو کر بھی رکنے کو تیار نہیں۔ سیکھنے کا دروازہ تب بند ہو جاتا ہے جب انسان خود کو کامل سمجھنے لگے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں زبان چلتی ہے اور عقل پیچھے رہ جاتی ہے۔
اگر ہم واقعی بہتر زمانہ چاہتے ہیں تو آغاز ہمیں خود سے کرنا ہوگا—کم بولنا، زیادہ سننا؛ کم ردِعمل، زیادہ غور؛ اور سب سے بڑھ کر، خود کو درست ثابت کرنے سے پہلے خود کو درست کرنا۔
کیونکہ اصل دانائی بولنے میں نہیں،
سمجھنے میں ہوتی ہے