سیرت نگاری کا آغاز و ارتقاء
نبی کریم ﷺ سے عقیدت و محبت ، اسلام کو زندہ و جاوید بنانے کا جذ بہ متعد د علوم وفنون کا سر چشمہ بنا جن میں فن سیرت نگاری بھی شامل ہے ۔ آپ ﷺ سے محبت و عقیدت کا فطری تقاضا تھا کہ نبی کریم ﷺ کی حیات مقدسہ ، آپ ﷺ کے اخلاق ، اور اقوال و افعال کو تفصیل کے ساتھ منظر عام پر لایا جائے تاکہ وہ بعد میں آنے والوں کے لیے اسو ہ و نمونہ بن سکے اور قرآن کریم کے فرمان ولقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة " رسول اللہ کی سیرت میں تمہارے لیے بہتر نمونہ ہے‘ کی ہر زمانہ میں عملی تفسیر بن جائے ۔
٭سیرت کے لغوی و اصطلاحی معنی
سيرة ، عربی زبان کا لفظ ہے جس کی جمع " سیر “ ہے۔ اس لفظ کا مادہ س ی ر ہے اور سار ، سیرا و مسیرا سے ماخوذ و مشتق ہے۔ اہل لغت نے اس کے کئی معانی و مفاہیم بیان کیے ہیں جیسے چال چلن ، چلنا پھرنا ، روش ، ہیئت و حالت ، شکل و صورت ، طریقه و مذہب ، سنت، کردار، کہانی و پرانے لوگوں کے قصے اور واقعات کا بیان وغیرہ۔
لفظ " سیرت کے مذکور و معانی و مفاہیم عمومی ہیں ۔ بعد میں اس کے معانی ومفاہیم مخصوص ہوتے چلے گئے چنانچہ اولیں مرحلہ میں اس لفظ سے آنحضرت ﷺ کے مغازی مراد لیے گئے ۔ بعد میں اس کے مفہوم میں وسعت پیدا کرتے ہوئے اس سے مراد آپ کا وہ رویہ لیا گیا جو آپ ﷺ نے غیر مسلموں کے ساتھ جنگ اور صلح میں روا رکھا تھا اور آخری مرحلہ میں اس لفظ سے مراد آپ ے کی پوری زندگی اور تمام حالات کو بیان کرنا لیا گیا ہے ۔ اس لفظ کا اطلاق اصطلاحی طور سے آنحضرت ﷺ کے واقعات زندگی (سوانح ) پر ہوتا رہا اور اب بھی اس کا خصوصی مفہوم یہی ہے“۔
لفظ " سیرت آپ ﷺ کے حالات زندگی کو بیان کرنے کے لیے مخصوص ہو گیا ہے۔ دیگر اشخاص واکابرین کے حالات زندگی پر لکھی جانے والی کتب کو عام طور سے سوانح سے موسوم کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لفظ سیرت کسی اور کے حالات زندگی کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تقریبا ہر زمانہ میں مذکورہ لفظ آپ ﷺ کے علاوہ دیگر افراد کے حالات زندگی کو بیان کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے جیسے سیرت معاویہ ، سیرت عنتر ، مسیر الملوک، سیرت سیف بن ذی یزن سیرت صلاح الدین ایوبی اور سیرت عائشہ وغیرہ۔ گویا یہ کہا جا سکتا ہے لفظ " " سیرت بسا اوقات دیگر اکابرین کے حالات زندگی کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو اس لفظ کی توسیعی صورت ہے۔ لیکن عام طور سے اس سے مراد سیرت نبوی ہی لی جاتی ہے جو اس لفظ کی خصوص صورت ہے۔
انحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کے لیے لفظ " سیرت کا استعمال سب سے پہلے ابن ہشام (م 213 ھ ) نے کیا تھا کہ انھوں نے جب ابن اسحاق (م 151 ھ) کی کتاب کو حذف واضافہ کے ساتھ مرتب کیا تو اسے ھذا كتاب سيرة رسول الله ﷺ"
یہ کتاب سیرت رسول الله ﷺ ہے ) کہہ کر متعارف کرایا ۔ ابتدائی زمانہ میں عربی زبان میں لکھی جانے والی غالبا یہ واحد کتاب ہے ہے" كتاب سيرة رسول اللہ ﷺ سے موسوم کیا گیا ہے ۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا اولین عہد کی کتابوں کو عام طور سے مغازی کے نام سے بیان کیا جاتا ہے جب کہ بعد میں لکھی جانے والی کتب کو ان کے مصنفین نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق مختلف ناموں سے موسوم کیا جن میں کبھی لفظ " سیرت کا استعمال کیا جاتا تھا اور کبھی نہیں کیا جاتا تھا۔ بیسویں صدی میں لکھی جانے والی متعدد کتب میں لفظ " سیرت اس کے نام کا بنیادی عنصر قرار دیا گیا چنانچے بہت سی کتابیں صرف " السيرة النبوية “ کے نام سے ہی شائع ہوئی ہیں ۔
فن سیرت نگاری کا آغاز اور اس کے اسباب
آنحضرت چونکہ کے آخری پیغمبر تھے اور آپ ﷺ کو رہتی دنیا تک لیے تمام انسانوں کے لیے اسوہ و نمونہ بنا کر پیش کیا گیا تھا لہذا آپ ﷺ کی حیات مبارکہ کے ایک ایک پل اور لمہ کو محفوظ کرنے کا سامان بھی فراہم کیا گیا چنانچہ مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات بٹھا دی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر زمانہ میں پوری انسانیت کے لیے نمونہ عمل کی حیثیت رکھتے ہیں لہذا آپ ﷺ کی تمام تر زندگی کو محفوظ کرنا ان کی ذمہ داری ہے ۔ آپ ﷺ کے معمولات زندگی اور طرز معاشرت کی مکمل پیروی کو عین ایمان قرار دیا گیا جو فن سیرت نگاری کے وقوع پذیر ہونے کا سب سے بنیادی اور اہم سبب ہے۔ اس مقدس فن کی تدوین کے پیچھے ان کا یہی جذبہ کارفرما تھا کہ آپ کے حالات زندگی سے بعد میں آنے والوں کو متعارف کرایا جائے تا کہ وہ آپ ﷺ کے اسوہ پر عمل کے دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوسکیں۔
یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ کے شمائل و اخلاق و عادات سے متعلق احادیث ہی کو سیرت کہتے ہیں ۔ واقعہ یہ کہ دونوں الگ الگ فن ہیں اور دونوں کے مقام و مرتبہ میں بھی فرق ہے کہ فن حدیث کے مقابلہ میں فن سیرت کا درجہ کسی قدر کم ہے حتی کہ بسا اوقات اصحاب حدیث اور اصحاب سیر کو دو الگ الگ بلکہ ایک دوسرے کا مخالف گروہ قرار دیا جاتا ہے۔
فنِ حدیث میں بکھری ہوئی روایاتِ سیرت کے باوجود الگ سے مدوّن کرنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ اوّل الذکر فن میں روایاتِ سیرت بغیر کسی ترتیب کے ادھر اُدھر بکھری ہوئی تھیں، جس سے آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی کی مکمل شکل ابھر کر سامنے نہیں آتی تھی۔ چنانچہ ایک مخصوص ترتیب کے ساتھ آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی کی مکمل شکل کو اجاگر کرنے کے لیے فنِ سیرت کی بنیاد پڑی اور صحابۂ کرامؓ نے کتبِ حدیث میں بکھری ہوئی روایات کی مدد سے آپ ﷺ کے مکمل احوال و کوائف مرتب کیے تاکہ آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے بعد میں آنے والی نسلوں کو متعارف کرایا جا سکے۔
مستشرقین کا یہ اعتراض بالکل بجا ہے کہ عربوں کے پرانے طریقۂ مفاخرت کی پیروی کرتے ہوئے دراصل سیرت کے عنوان سے آنحضرت ﷺ کے غزوات کو فخریہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ حالانکہ سیرتِ نبوی ﷺ کے پروان چڑھانے میں سب سے بنیادی کردار آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ نے ادا کیا ہے۔ چنانچہ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو سب کے لیے قابلِ تقلید اور مثالی نمونہ قرار دیا جس کے نتیجے میں امتِ اسلامیہ نے آنحضرت ﷺ کی زندگی کے ہر گوشے کو محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا جن میں غزوات بھی شامل ہیں، لہٰذا مغربی مصنفین کا آپ ﷺ کو صرف ایک سپہ سالار کی شکل میں پیش کرنا درست نہیں ہے۔
فنِ سیرت نبوی ﷺ سے مسلمانوں کے شغف کی تاریخی حیثیت قدیم ہے۔ فنِ سیرت نگاری کے جائزے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اس کے ابتدائی نقوش عہدِ صحابہؓ میں مرتب ہوئے، اس کے بعد تابعین اور بعد کے ادوار میں وہ صحابہؓ کرام بھی شامل تھے جن کی مبارک آنکھوں نے حضرت ﷺ کے رہن سہن کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا تھا اور وہ آپ ﷺ کے معمولاتِ زندگی سے چشم دید گواہ تھے۔ لہٰذا ان کا فرمایا ہوا مستند قرار پایا کیونکہ ان کے بیان کردہ حالات بعد کی سیرت نگاروں پر اپنی نگاہوں کی چھاپ چھوڑتے رہے ہیں۔
٭پہلی صدی ہجری ہی میں آپ ﷺ کے احوال زندگی سینوں میں محفوظ کیے جانے لگے، پھر وہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے ہوئے عہدِ اموی میں اس مرحلے میں داخل ہوگئے کہ انہیں کتابوں کے قالب میں ڈھالا جانے لگا۔ حضرت عروہ بن عبدالعزیزؒ نے مغازی کی طرف خاص توجہ دی۔ ان کے حکم سے عامر بن عروہؒ (م 121ھ) نے مسجد دمشق میں مغازی و مناقب کا درس دینا شروع کیا۔ اس زمانے میں ابن شہاب زہریؒ (م 124ھ) نے مغازی پر ایک مستقل کتاب لکھی۔ ان کے ذریعے اس فن کا ذوق لوگوں میں عام ہوا، چنانچہ اس زمانے کے بہت سے لوگ “اصحاب المغازی” کے لقب سے ملقب کیے جانے لگے۔
عہدِ اموی سے اس کا جو مبارک سلسلہ شروع ہوا وہ آج تک اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ پچاس صدیوں پر محیط اور مختلف زبانوں پر مشتمل یہ ذخیرہ اس قدر وسیع ہے کہ اس کی فہرست سازی اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے، کیونکہ ماضی میں لکھی جانے والی تمام کتابوں کے متعلق ہمارے پاس معلومات محفوظ نہیں ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ کتبِ سیرتِ نبوی ﷺ کے ذخیرے میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ اضافہ دنیا کی بہت سی زبانوں میں ایک تسلسل کے ساتھ جاری و ساری ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ کے ذخیرے میں ہر زمانے کے اصحابِ قلم نے گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ اہلِ علم نے سیرت و حیاتِ نبوی ﷺ کے ہر پہلو کو حتی الامکان محفوظ رکھنے کی جدوجہد کی ہے۔ اس کی تفصیل بھی قلم بند نہیں رہی۔ ان کے مقابلے میں دوسری اقوام ملل کے افراد اور اپنے مذہبی قائدین کی زندگی کا عشرِ عشیر بھی محفوظ نہ رہ سکا ہے۔ بقول علامہ شبلیؒ (1857-1914ء)" مسلمانوں کے اس فخر کا قیامت تک کوئی حریف نہیں ہو سکتا کہ انہوں نے اپنے پیغمبر ﷺ کے حالات و واقعات کے ایک ایک حرف کو اس استقصا کے ساتھ محفوظ رکھا کہ کسی شخص کے حالات آج تک اس جامعیت اور احتیاط کے ساتھ قلم بند نہیں ہو سکے اور نہ آئندہ کیے جا
سکتے ہیں۔
٭گزارش برائے قارئین
آخر میں ہم اپنے معزز قارئین سے نہایت مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ اس حقیر سی کاوش کو محض ایک تحریر سمجھ کر سرسری نظرانداز نہ کریں، بلکہ اسے توجہ، تدبر اور اخلاص کے ساتھ پڑھیں۔ سیرتِ طیبہ ﷺ کا ہر پہلو ہمارے لیے مشعلِ راہ اور سرچشمۂ ہدایت ہے۔ اگر یہ مضمون آپ کے دل میں فکر کی کوئی لہر پیدا کر دے، عمل کی کوئی چنگاری روشن کر دے، یا اخلاق و کردار کی اصلاح کا ذریعہ بن جائے، تو ہم اپنی محنت کو کامیاب سمجھیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سیرت کو سمجھنے، اپنانے اور اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔