گزشتہ روز میں نے ایک مضمون لکھا تھا
" صرف اہل غزہ"  
اور اسے میرے ایک غزہ کے بھائی نے بھی پڑھا اور بہت ہی سرا ہا۔انہوں نے اسکا عربی زبان میں ترجمہ کیا اور مجھے بھی وہ بھیجا ۔یہ بتانے کا مقصد کہ اہل غزہ کا محض مضمون سے ہی خوش ہو جانا۔
حالانکہ ہم ایک دوسرے کو بالکل ہی نہیں جانتے صرف واٹس ایپ پر ہی تھوڑا بہت رابطہ ہے۔
سو چین اگر ہم ان کی مدد کریں ۔جو کہ ہمارا فرض ہے ۔اگر دشمن کے خلاف ہم ان کا ساتھ دیں ۔ 
جو کہ ہم سب کی جنگ ہے ۔
جی ٫ مسجد اقصیٰ صرف اہل غزہ کی نہیں ہم سب کی ہے ۔
مگر ہم نے ان سے منہ پھیر لیا ۔
سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے بچوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ۔
ان کو جنگ میں اکیلا ہی ڈال کر خود پیچھے ہٹ گئے ۔
پہر بھی وہ ہم سے خوش۔
ہمارے صرف چند لفظ لکھنے سے خوش۔
ہماری طفل تسلی سے خوش۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ؟
روز قیامت خداتعالیٰ کو کیا منہ دکھائیں گے ۔
کیا ہم نے سوچا کہ ہم ابو عبیدہ کا سامنا کیسے کریں گے ۔
کیا ہم نے سوچا کہ ہم بھوک سے بلکتے بچے کے دشمن کی مالی معاونت کرتے تھے ۔
کیا  ہم نے غزہ کی بہن کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا ؟
مگر اس کے باوجود میرے بھائی کا مجھے معاف کر کہ خوش ہونا تو شکریہ تو بنتا تھا ۔
شکریہ اے بھائی " شکریہ؛