🌹°««ایمان صرف سجدوں میں  نہیں»»°🌹

---------------------------------------------------

سب سے پہلے میں آپ سب کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عرض کرتی ہوں۔
آج میں جس موضوع پر آپ کے سامنے چند باتیں رکھنا چاہتی ہوں، اس کا عنوان ہے:
’’ایمان صرف سجدوں میں نہیں‘‘۔
میں نے اس عنوان کا انتخاب اس لیے کیا ہے کہ آج کے دور میں ہم نے ایمان کے مفہوم کو بہت محدود کر دیا ہے۔ ہم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ایمان کا مطلب صرف نماز پڑھ لینا، چند عبادات ادا کر لینا یا مخصوص اعمال تک خود کو محدود رکھنا ہے، جبکہ ہماری باقی زندگی—معاملات، اخلاق، رویّے اور کردار—ہم اپنی مرضی سے گزاریں۔
یہ طرزِ فکر نہ صرف ایمان کی روح کے خلاف ہے بلکہ ہمیں اس حقیقت سے بھی غافل کر دیتی ہے کہ ایمان انسان کی پوری زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے، صرف عبادت گاہ تک محدود نہیں رہتا۔
ایمان اگر سچا ہو تو وہ ہمارے قول، فعل، لین دین، سچائی، عدل اور اخلاق میں بھی نظر آتا ہے۔ عبادت اور عمل میں تضاد دراصل ایمان کی کمزوری کی علامت ہے، جسے اسلام سخت ناپسند کرتا ہے۔عام طور پر ایمان کو چند ظاہری عبادات تک محدود سمجھ لیا جاتا ہے، جیسے نماز، روزہ اور دیگر اعمالِ ظاہرہ، حالانکہ قرآن و سنت کا گہرا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ایمان محض چند رسمی اعمال کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر فکری و عملی نظام ہے جو انسان کی پوری زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ایمان کو بار بار عملِ صالح کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، جو اس امر کی صریح دلیل ہے کہ ایمان کی صداقت کا معیار محض دعویٰ نہیں بلکہ کردار اور طرزِ عمل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، وہی بہترین مخلوق ہیں” (سورۃ البینہ: 7)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ایمان اپنی تکمیل اعمال کے بغیر نہیں پاتا۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات بھی اسی جامع تصور کی ترجمان ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: “ایمان کی شاخیں ستر سے زائد ہیں” (صحیح مسلم)، جن میں عبادات بھی شامل ہیں اور وہ اعمال بھی جو انسان کی روزمرہ زندگی اور معاشرتی ذمہ داریوں سے تعلق رکھتے ہیں، حتیٰ کہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی ایمان کا حصہ قرار دیا گیا۔ اس سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ایمان صرف عبادت گاہوں تک محدود نہیں بلکہ معاشرے میں خیر، سہولت اور امن پیدا کرنے کا نام ہے۔ اسلام جس ایمان کا مطالبہ کرتا ہے وہ انسان کو محض عابد نہیں بلکہ صاحبِ کردار، دیانت دار اور ذمہ دار فرد بناتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل قدر ظاہر کی نہیں بلکہ دل کی نیت اور اعمال کی ہے۔ اسی لیے اگر عبادت غرور کو جنم دے، دینداری دوسروں کو حقیر سمجھنے کا سبب بن جائے اور مذہب اذیت رسانی کی صورت اختیار کر لے تو وہ ایمان کی روح کے منافی ہے۔ اسلام ایسا ایمان چاہتا ہے جو نماز میں خشوع، معاملات میں دیانت، گفتگو میں نرمی اور معاشرے میں آسانی کا ذریعہ بنے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہیں” (صحیح بخاری
پس حاصلِ کلام یہ ہے کہ ایمان صرف 
 سجدوں میں محدود نہیں بلکہ انسانیت، خیر خواہی اور ایذا سے اجتناب میں جلوہ گر ہوتا ہے؛ سجدہ ایمان کی بنیاد ہے، مگر کردار اس کی حقیقی پہچان ہے، اور یہی وہ ایمان ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول اور پسندیدہ ہے۔
۔
۔
۔
✨فالو می | فضہ صباحت 🌷 
ᖴOᒪᒪOᗯ ᗰE