یہ دور کس طرف جا رہا ہے؟


یہ سوال آج ہر انسان کے ذہن میں ہے: یہ دور کس طرف جا رہا ہے؟
کیا ہم ترقی کے نام پر آگے بڑھ رہے ہیں، یا اقدار کے اعتبار سے پیچھے ہٹ رہے ہیں؟
کیا روشنی ہمیں راستہ دکھا رہی ہے، یا ہم اندھیروں میں کھو رہے ہیں؟
قرآن ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ انسان کی کامیابی صرف دنیاوی معیار سے نہیں بلکہ عمل، نیت اور ضمیر کے توازن سے ماپی جاتی ہے:
“اور ہم نے انسان کو سیکھنے اور سمجھنے کی طاقت دی، اور پھر اسے اپنا راستہ دکھانے کے لیے آزمائش میں ڈالا” (الإنسان 76:2-3)
یہ دور ہمیں بڑی سہولیات دے رہا ہے، مگر ساتھ میں خطرناک امتحانات بھی لا رہا ہے۔
ہم نے رفتار کو ترقی سمجھ لیا، اور ظاہری چمک کو معیارِ کامیابی۔
لیکن قرآن ہمیں خبردار کرتا ہے:
“جو شخص آخرت کے لیے کوشش کرے، وہی کامیاب ہوگا، اور دنیاوی زندگی صرف دھوکہ ہے” (القصص 28:77)
آج کا انسان معلومات سے لبریز ہے، مگر فکر سے خالی۔
ہر لمحہ نئی خبریں، نئی ٹیکنالوجی، نئے رجحانات—مگر دل اور ضمیر کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔
ہم نے اخلاقیات کو مصلحت کے پیچھے چھوڑ دیا،
شہرت کو قدر اور نیکی کو نمائش میں بدل دیا۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایک وقت آئے گا:
“لفظ زیادہ ہوں گے مگر اثر کم ہو جائے گا؛ ظاہری دینداری ہوگی مگر اخلاص کمزور ہو جائے گا”
اور افسوس! وہ وقت آج ہمارے سامنے ہے۔
یہ دور ہمیں فیصلہ کرنے پر مجبور کر رہا ہے:
کیا ہم صرف دکھاوا کریں گے؟
کیا ہم ظاہری کامیابیوں پر خوش ہوں گے،
یا ہم اپنی نیت، اپنی عبادت، اور اپنے کردار کا جائزہ لیں گے؟
اللہ تعالیٰ قرآن میں بار بار ہمیں نصیحت کرتا ہے کہ:
“اللہ کسی کے دل میں چھپی نیتوں کو جانتا ہے، اعمال کی ظاہری شکل پر نہیں” (آل عمران 3:29)
یہ دور ہمیں کہہ رہا ہے:
اگر تم خود کو بدل نہ سکو،
اگر تم اپنے ضمیر کی سنوائی نہ کرو،
تو رفتار کے یہ سب وسائل تمہیں گمراہ کر دیں گے۔


لہذا، سوال آج بھی وہی ہے، مگر جواب ہر انسان کے اندر چھپا ہے:
یہ دور کس طرف جا رہا ہے؟
یہ دور شاید تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے،
مگر ہمارا ضمیر اور نیت اس کے ساتھ کھڑے ہیں یا نہیں، یہی اصل فیصلہ ہے۔
یہ مضمون آپ کے سامنے ہے،
اب سوال آپ سے ہے:
سوچیں، محسوس کریں، اور جواب دیں—ہم کہاں کھڑے ہیں؟