وہ صرف یہ ثابت کرنے میں مصروف ہے کہ وہ درست ہے۔
یہی رویہ ہمارے زمانے کا سب سے خاموش مگر گہرا مسئلہ بن چکا ہے۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شخص کے ہاتھ میں قلم بھی ہے اور منبر بھی۔ ہر کوئی بول رہا ہے، لکھ رہا ہے، سمجھا رہا ہے—مگر سننے والا کم ہوتا جا رہا ہے۔
مسئلہ اختلاف کا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اختلاف کو دشمنی بنا لیا ہے۔ جو ہم سے مختلف سوچے، وہ فوراً غلط، کم علم یا گمراہ قرار دے دیا جاتا ہے۔
زمانہ بدل گیا ہے، مگر برداشت کم ہو گئی ہے۔
ہم دلیل کے بجائے لہجے سے بات کرتے ہیں،
اور حکمت کے بجائے سختی سے اصلاح چاہتے ہیں۔
حالانکہ سچ یہ ہے کہ سختی اکثر ضد پیدا کرتی ہے، تبدیلی نہیں۔
ایک عجیب تضاد یہ بھی ہے کہ ہم اپنی رائے کو حق سمجھتے ہیں، مگر اس پر سوال برداشت نہیں کرتے۔ سوال کو بغاوت اور اصلاح کو تنقید سمجھ لیا گیا ہے۔
یہی سوچ ہمیں سیکھنے سے روک دیتی ہے، کیونکہ جو خود کو مکمل سمجھے، وہ آگے نہیں بڑھتا۔
دین ہو یا دنیا، ہر میدان میں ترقی کا راز یہی رہا ہے کہ انسان اپنی غلطی کے امکان کو زندہ رکھے۔ مگر آج ہم نے غلطی کو کمزوری اور مان لینے کو ہار سمجھ لیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ تعلقات ٹوٹ رہے ہیں، گفتگو ختم ہو رہی ہے، اور دلوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔
اس زمانے کی اصل ضرورت یہ نہیں کہ سب ایک جیسے سوچیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم مختلف سوچ کے ساتھ جینا سیکھیں۔ اختلاف اگر ادب کے ساتھ ہو تو فہم بڑھاتا ہے، اور اگر غرور کے ساتھ ہو تو نفرت۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ:
سب سے بڑا فتنہ یہ نہیں کہ لوگ غلط ہیں،
بلکہ یہ ہے کہ ہر کوئی خود کو ہی درست
سمجھتا ہے۔
اگر ہم واقعی اس زمانے کو بہتر بنانا چاہتے
ہیں، تو ہمیں اپنے یقین کے ساتھ ساتھ اپنی
اصلاح کے دروازے بھی کھلے رکھنے ہوں گے
—کیونکہ سچ ہمیشہ ایک ہی نہیں ہوتا، مگر
سیکھنے والا ہمیشہ فائدے میں رہتا ہے۔