مبارک ہو عزیزم عبد الرحمن
05 فروری، 2026
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی
قرآن کوہم سینوں میں ایسے بسائیں گے
چہروں پہ تلاوت کا اک نورسجائیں گے
قرآن کریم ایسی کتاب ہےجس نے انسانوں کو ہمیشہ عزت بخشی ،قدر و منزلت عطا کی اس سے وابستگی رکھنے والے دراین کی سعادت سے سرفرازہوۓ-
یہ کتاب روز ازل سے ہی اپنی خاص اسلوب کی وجہ سے لوگوں کی منظور نظر رہی ہے،
بے شمار لوگوں نے اس ہدایت پائی ہے ،اس کتاب نے لوگوں سے حقیقی خدا تعارف کرایا
اس سے جڑنے والے لوگ ہدایت کی دولت سے مالا مال ہوۓ-
اسی کی نسبت گزشتہ رمضان میں میرا تعلق ایک گھرانے سے بھی ہوا
جہاں رہ کر راقم نے پورے مہینہ تراویح سنایا-
اس تعلق کے تقریباً ایک سال مکمل ہونے کو ہے،
راقم اس دورانیہ میں اس گھرانےکو بھلا نہیں سکا ،انہوں نے جو میری خدمت کی اور جو محبتوں سے نوازا اس کو ذہن سے نکال نہیں پایا ،یقینا یہ ان کی ایسی محبت وعنایت ہےجس کا معترف بندہ ہمیشہ رہے گا ،اسی خالص محبت کا نتیجہ ہے کہ آپ کی قدر و منزلت میرے دل میں اب تک ویسے قائم ودائم ہے جیساکہ شروع دن میں تھا ،کچھ دن پہلے جب میری ان سے بات ہوئی تھی تو انہوں نے نے یہ خوش خبری سنائی تھی حافظ جی میرے فرزند ارجمند عزیزم عبد الرحمن سلمہ کی دستاربندی ہورہی ہے جس میں مجھے شرکت کا حکم بھی دیاتھا پر میں اپنی مجبوری اورخاص مقصد میں مصروف ہونے کی وجہ سے شرکت سے معذرت کردی
لیکن ؛مجھے اس پر سعادت محفل میں شریک ہوکر عزیزم عبد الرحمن کو مبارکبادی نہ دینے کا صد افسوس ہے لیکن اس موقع پر غائبانہ ہی سہی پر ذہن وفکر کے اعتبار سے میں ان کے ساتھ ہوں -
وہ گھڑی یقیناً والدین کےلیے پر مسرت ہوتی ہے جب ان کے لخت جگر کامیاب ہوجاۓ اور والدین اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں -
وہ خواب جو انہوں نے اپنی اولاد کے سلسلے میں دیکھا تھا اورجس کے لیے انہوں ہر طرح کی قربانیاں دی تھی آج وہ شرمندۂ تعبیر ہورہاہے اور وہ اپنی آنکھوں سے اس کامیابی کو دیکھ رہے ہیں ،
اور ان کا پسر نیک اختر عزیزم حافظ عبد الرحمن یہ خوشی اپنے والدین واقارب کو دے رہاہے -
حافظ عبد الرحمن ایک خوش اخلاق ،نرم مزاج ،عاجزی پسند اور ادب واحترام کا جذبہ رکھنے والا بہترین طالب علم ہے مجھےتقریبا ڈیڑھ مہینہ ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور رہنےسہنے کاموقع ملا ، راقم نے اسے قریب سے دیکھا تو اس کے حسن اخلاق کا معترف ہوگیا ،آج کے اس دور میں جب کہ بچے سخت مزاج ہوتے ہیں ایسی صورت حال میں ایسے اولاد کا ہونا اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے،وہ ایک محنتی طالب ہے یہی وجہ ہے وہ شب وروز کی مسلسل جد وجہد سے قرآن یاد کرکے آج وہ اپنے سرپر دستار سجارہاہے،
اس میں والدین کے ساتھ ساتھ وہ تمام لوگ مبارکبادی کےمستحق ہے جو ان کی کامیابی کےلیے دعا گورہے -
یہ دستار جو ان کےسر پر سجی ہے اس کےلیے میں بطورِ خاص ان کے والد حافظ غلام مصطفیٰ صاحب مع ان کے اہل خانہ اور تمام اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتاہوں جن کی محنتوں کا یہ ثمرہ ہےجو آج ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے-
میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے تمام اولا کو کو کامیابی سے نوازے ،صحت وعافیت کے ساتھ آپ سب کو سلامت رکھے اور مزید ترقیات سے نوازے آمین