(11)مضمون 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

----------------------

(بقلم محمودالباری Mahmoodulbari342@gmail.com 

8292552391) 

محترم قارئین، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته

_________________

“دشمن کی سازشوں سے ہوشیار رہیں: ایمان کو بچائیں، خدمت کو عبادت بنائیں”

==============

      آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں مسلمانوں کے ایمان، عقیدے اور امت کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے لیے دشمن ہر ممکن سازش کر رہا ہے۔ ہر طرف سے ایسے فتنے اور چالیں چلائی جا رہی ہیں جو مسلمانوں کو کمزور، بکھرا ہوا اور اپنی شناخت سے بے خبر کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے کچھ مسلمان بھائی، علم و شعور کے باوجود، نام و نمود کی خواہش میں دشمن کی سازشوں میں فخر سے شامل ہو جاتے ہیں اور ایسے کاموں کو اپنا حق سمجھتے ہیں جو دین اسلام کے برخلاف ہیں۔

مورتی خریدنے اور اس پر خوشی منانے کا مسئلہ

کئی مسلمان بھائی، علم رکھنے کے باوجود، ہندو تہوار کے موقع پر مورتیوں کو خرید کر انہیں تحفہ دینے یا اپنے گھر سجانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہ اس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اسلام نے صریح طور پر شرک، بدعت اور ان تمام اعمال سے منع کیا ہے جو عقیدے کو خراب کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتا ہے:

"وَلَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا" — اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ (النساء: 36)

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

"من أتى قرية فيها تمثال أو صورة، فأهلك من أتيها" — جو شخص ایسی بستی میں جائے جہاں تمثال یا تصویر ہو، وہ بدترین لوگوں میں شمار ہوگا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:

"من تشبه بقوم فهو منهم" — جو کسی قوم کی پیروی کرے، وہ ان میں سے ہو جاتا ہے۔ (أبو داود، ترمذی)

لہٰذا، ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ان اعمال سے اجتناب کریں جو نہ صرف ہمارے ایمان کو کمزور کرتے ہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی ساکھ کو بھی خراب کرتے ہیں۔

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کریں، ان کے ساتھ انصاف برتیں اور انسانی خدمت کو اپنی عبادت کا حصہ بنائیں۔ قرآن فرماتا ہے:

"وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ" — ایک دوسرے کی خیرات اور تقویٰ میں مدد کریں اور گناہ و ظلم میں ایک دوسرے کی مدد نہ کریں۔ (المائدہ: 2)

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اہلِ وطن میں موجود غریبوں، محتاجوں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کریں، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا قوم سے تعلق رکھتے ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"خَيرُ النَّاسِ أنْفَعُهُم لِلنَّاسِ" — بہترین لوگ وہ ہیں جو دوسروں کے لیے زیادہ مفید ہوں۔ (الدارمی)

اگر ہم اپنی طاقت اور وسائل کو ان غریبوں کی خدمت میں لگا دیں تو یہ انسانیت کی خدمت بھی ہوگی اور اللہ کے ہاں بھی ہمارے درجات بلند ہوں گے۔

ہم پر لازم ہے کہ:

    1. اپنے عقیدے کو مضبوط کریں اور شرک و بدعت سے بچیں۔

2. علم و شعور کا استعمال کریں، نہ کہ اسے دنیاوی نام و نمود کے لیے ضائع کریں۔

3. انسانی خدمت کو عبادت سمجھ کر ضرورت مندوں کی مدد کریں۔

4. قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنی زندگی گزاریں اور امت کو صحیح راستے پر رہنمائی فراہم کریں۔

5. دوسروں کے مذہب کا احترام کریں لیکن اس کی تقلید نہ کریں، بلکہ اخلاق حسنہ کے ساتھ ان کی خدمت کو اپنا فریضہ بنائیں۔

لیکن آپ اپنے کسی عمل سے اسلام کا استہزاء کروائیں ، اس میں آپ کو کیا فائدہ ہوگا؟ بلکہ آپ کا ہی نقصان ہوگا۔ آپ رفتہ رفتہ دین سے دور ہوتے چلے جائیں گے اور پھر یہ نہ سمجھیں کہ آپ کی عزت دو بالہ ہوجائے گی ، بلکہ آپ کی عزت پر اپنے گھر والوں میں بھی بدنما داغ لگے گا اور غیر مسلم بھی آپ کو مثال بنا کر آپ کی کمزوری کا مذاق اڑائیں گے۔ جیسے ماضی قریب میں کئی افراد کے ساتھ ہوا۔

یاد رکھیں! اسلام ایک کامل دین ہے، اس کی تعلیمات کو کمزور کرنے یا اس سے دور کرنے والے آخرکار خود بھی نقصان اٹھاتے ہیں اور امت کی رہنمائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"من تشبه بقوم فهو منهم" — جو کسی قوم کی پیروی کرے، وہ ان میں شامل ہو جاتا ہے۔ (أبو داود، ترمذی)

اسی طرح قرآن مجید میں اللہ فرماتا ہے:

"وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ" — ان لوگوں کے خواہشات کی پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔ (الأعراف: 179)

لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ آپ اپنے ایمان کی حفاظت کریں، اپنی زندگی کو سنواریں، اور دینِ اسلام کی روشنی میں اپنی عزت کو قائم رکھیں۔

 جو عمل آپ کو دوسروں کی نظر میں بڑا کرنے کے بجائے کمزور بناتا ہے، اس سے باز رہیں۔ اپنے خاندان، اپنی امت اور اپنی ذاتی زندگی کو محفوظ رکھنے کے لیے صراطِ مستقیم پر قائم رہیں اور اللہ کی رضا کو اولین ترجیح دیں۔

آخر میں

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو سنبھالیں، اللہ کی رضا کو مقدم رکھیں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ مسلمان ایک اعلیٰ، باوقار اور خدمت گزار امت ہے۔ قرآن کا وعدہ ہے:

"إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي القُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ" — اللہ عدل، احسان اور قربیاء کو دینے کا حکم دیتا ہے اور فحاشی، برے کام اور ظلم سے روکتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ (النحل: 90)

آئیے، ہم اپنے ایمان کو محفوظ رکھیں، ایک دوسرے کی مدد کریں اور قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی کو سنواریں۔ یہی سچائی کا راستہ ہے، یہی امت کی خدمت ہے اور یہی اللہ کی رضا کا سبب ہے۔

         والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته