*معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا رجحان اسباب اثرات اور عملی حل*
أَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ. وَالصَّلُوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ. وَعَلَى آلِهِ وَ أَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
﴿قالُوا لَمْ نَكُ مِنَ المُصَلِّينَ﴾
«بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ»

نماز ہر مسلمان بالغ عاقل مرد اور عورت پر فرض ہے، اور کسی شرعی عذر کے بغیر نماز چھوڑنا جائز نہیں ہے اور کبیرہ گناہ ہے، احادیث مبارکہ میں بے نمازی کے لیے بہت سخت وعیدیں آئی ہیں۔ لیکن نماز چھوڑنے کی اس عملی کوتاہی سے وہ شخص کافر نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کا نکاح ٹوٹے گا، البتہ وہ سخت گناہ گار ہوگا اور اس پر سچی توبہ کرنا لازم ہوگا۔تاہم اگر کوئی شخص نماز کی فرضیت کا ہی انکار کر دے تو اس سے وہ کافر ہوجائے گا اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں اس کا نکاح بھی ختم ہوجائے گا، اس پر سچی توبہ کے ساتھ تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح لازم ہوگا۔
’حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ : نماز کا چھوڑنا بندہ مؤمن اور شرک و کفر کے درمیان (کی دیوار کو ڈھا دیتا) ہے۔‘
’’حضرت عبد اللہ ابن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز کا ذکر کیا (یعنی نماز کی فضیلت و اہمیت کو بیان کرنے کا ارادہ فرمایا) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص نماز پر محافظت کرتا ہے (یعنی ہمیشہ پابندی سے پڑھتا ہے) تو اس کے لیے یہ نماز ایمان کے نور (کی زیادتی کا سبب) اور ایمان کے کمال کی واضح دلیل ہوگی، نیز قیامت کے روز مغفرت کا ذریعہ بنے گی، اور جو شخص نماز پر محافظت نہیں کرتا تو اس کے لیے نہ (ایمان کے) نور (کی زیادتی کا سبب بنے گی،) نہ (کمال ایمان کی) دلیل اور نہ (قیامت کے روز) مغفرت کا ذریعہ بنے گی، بلکہ ایسا شخص قیامت کے روز قارون، فرعون، ہامان اور ابی ابن خلف کے ساتھ (عذاب میں مبتلا) ہوگا۔
*اسباب ترک صلاۃ*
وقت کو ٹالنا
علم دین سے ناواقفیت
حرام غذاؤں سے اجتناب نہ کرنا
صحبت طالح کا اپنانا
اللّٰہ رسول کی تعظیم دل سے ختم کردینا
موبائل کا غیر ضروری بے ڈھنگ استعمال کرنا
سنیما سیریل کا پاگل ہوجانا
اور بچوں کی اسلامی تربیت نہ کرنا
گھر کے بڑے ذمہ دار افراد نماز سے لاپرواہ ہوجانا۔
اس سے عام طور آدمی کا معاشرہ بنتا ہے معاشرہ کا اثر آدمی پر پڑتا ہے جب معاشرے میں اس طرح کی ھولناکی ہوگی تو آدمی بہت جلد دین سے دور اور نماز سے غافل ہوجاتا ہے

*نماز نہ پڑھنے کے خود ساختہ بہانے*
؀ میرے کپڑے ناپاک ہیں
؀مجھے ٹائم ہی نہیں ملتا
؀میراموڈ نہیں ہو رہاآئندہ جمعہ سےنماز میں شروع کروں گا۔۔
؀ میں آتا ہوں . آپ چلیں،
؀ میں چلا گیا تو دکان ، کاؤنٹریا آفس کون دیکھے گا
؀ کوشش کر رہا ہوں آپ دعاؤں میں یادر کھیں

*یاد رکھیں !!*
روز قیامت جب جنتی لوگ جہنمیوں سےپوچھیں گے : "تمہیں کس چیز نے جہنم میں ڈالا ؟“
تو جہنمی لوگ جواب دیں گے
ہم نماز نہیں پڑھا کرتے تھے
*تارک نماز کے متعلق امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا فتوی*
صالح بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : میں نے والد گرامی سے پوچھا اگر کوئی بندہ نماز چھوڑ دے اور نہ پڑھے تو؟ فرمایا : اگر جان بوجھ کر ایسا کرے تو اس سے تین دن توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا، اگر توبہ کر لے تو ٹھیک وگرنه اسلامی حکومت کی طرف سے) قتل کر دیا جائے۔“ (مسائل صالح: ٢٩٥)

اسحاق بن منصور الكوسج بيان کرتے ہیں کہ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا : اگر کوئی نماز چھوڑ دے تو میں حدیث عمر رضی اللہ عنہ کی بنا پر اسے تین دن تک توبہ کی مہلت دوں گا۔ (مسائل الكوسج : ٣٣٩٥) حدیث عمر سے مراد سيدنا عمر رضى اللہ عنہ کا مرتد کو تین دن مہلت دینے کا قول ہے ۔ (موطأ مالك : ۲/۲۸۰، ح: ٢١٥٢)

عبد الله بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : میں نے والد گرامی سے جان بوجھ کر نماز چھوڑنے والے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا : نبی کریم صلی الله علیہ و سلم کی حدیث ہے کہ مومن بندے اور کفر میں نماز ترک کرنے کا فرق ہے۔“ اور نماز نہ پڑھنا اسے ترک کرنا ہے ۔ اور جو شخص نماز پڑھتا ہے لیکن وقت پر نہیں پڑھتا تو میں اسے تین دن تک مہلت دیتا ہوں، اگر وقت پر نماز ادا کر لے تو اچھا ہے وگرنہ حاکم وقت کی طرف سے اس کی گردن اتار دی جائے، میرے نزدیک وہ مرتد کی طرح ہے۔ (مسائل عبد الله : ۱۹۱)
عبد اللہ بیان کرتے ہیں میں نے والد محترم سے ایسے بندے کے متعلق پوچھا جو جان بوجھ کر عصر کی نماز سورج غروب ہونے تک چھوڑ دیتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا : اسے تین دن مہلت دیں گے، اگر نہ مانے تو قتل کر دیا جائے۔" (مسائل عبد الله : (۱۹۲)

عبد الله بیان کرتے ہیں کہ میرا ایک سیاہ فام غلام تھا، میں نے اسے مارنے کی قسم اٹھائی۔ وہ بھاگ کر ابا جان کے پاس چلا گیا اور انہیں بتایا کہ میرے آقا نے مجھے مارنے کی قسم اٹھائی ہے ۔ میں پہنچا تو والد صاحب کہنے لگے : میرے آپ پر حق کا واسطہ آپ نے اسے کچھ نہیں کہنا ۔ میں نے کہا : یہ نماز چھوڑتا ہے ۔ فرمانے لگے : ہاں! اسے نماز چھوڑنے پر مارو تاکہ نماز پڑھے۔ (مسائل عبد الله : ١٩٤)

ابو بکر مروذی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے تارکِ نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا : اگر تو وہ انکار کرے کہ میں نہیں پڑھتا تو اسے قتل کر دیا جائے ۔ لیکن اگر اقرار کرے اور کہے : ہاں میں پڑھتا ہوں ۔ تو اسے تین دن توبہ کی مہلت دی جائے، اگر توبہ کر لے تو ٹھیک وگرنہ اسے قتل کر دیا جائے۔ (أحكام أهل الملل للخلال : ٢/ ٥٣٧)

عبد الملک بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام احمد رحمہ اللہ کے سامنے سوال پڑھا کہ ایک بندہ کہتا ہے مجھے معلوم ہے کہ نماز فرض ہے لیکن میں نہیں پڑھتا؟ تو انہوں نے مجھے جواب لکھوایا : اس سے توبہ کروائی جائے، توبہ کر لے تو ٹھیک وگرنہ قتل کر دیا جائے۔ میں نے پوچها : ایک یا دو نمازوں تک توبہ کروائی جائے؟ فرمایا : نہیں، تین دن تک قید کر دیا جائے توبہ کر لے تو ٹھیک ورنہ قتل کر دیا جائے۔ (أحكام أهل الملل للخلال :)

*عملی حل*
نماز کا ماحول بنانے کے لیے سب سے پہلے خود پابندی کریں، گھر میں اذان کے وقت کو بچوں کے لیے کھیل ختم کرنے کا وقت بنائیں اور مسجد جانے کی ترغیب دیں Mubashir Nazir۔ بچوں کو نیک دوستوں کی صحبت، نماز کے فائدے اور اللہ سے محبت کا درس دیں، اور والدین کی عدم موجودگی میں بھی نمازی بننے کی تربیت کریں۔
نماز کا ماحول بنانے کے لیے عملی اقدامات:
خود عملی نمونہ بنیں: والدین کی اپنی نمازوں کی حفاظت اور پابندی بچوں کے لیے بہترین ترغیب ہے۔
باجماعت نماز: مرد حضرات بچوں کو محبت و شفقت کے ساتھ مسجد لے جائیں۔
خوشگوار ماحول: بچوں کو مسجد لے جانے کو ایک دلچسپ تجربہ بنائیں، جیسے باہر جانے پر خوش ہوتے ہیں۔
نیک صحبت: بچوں کے لیے اچھے اور نمازی دوست تلاش کریں اور نیک لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا رکھیں۔
تسلسل: نماز کے معاملے میں ہمت نہ ہاریں اور مسلسل کوشش جاری رکھیں۔
وضو اور پاکیزگی: نماز کے لیے صفائی اور وضو کی اہمیت سکھائیں۔
والدین کی مسلسل کوشش اور نیک ماحول ہی گھر میں نماز کی پابندی کو آسان بنا سکتا ہے۔
اور بلا شبہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ نماز پڑھے تو دوسرے مسلم بچوں کے لئے بھی ایسا ہی چاہیں اپنے بچوں کو نماز اور دیگر عبادات جیسے قرآن کی تلاوت، صدقہ دینے اور عمرہ کرنے کی عادت ڈال کر بڑوں کی تقلید کا انہیں عادی بنا دیں۔اپنے بچوں کو بتائیں کہ جس طرح ایک بڑا شخص چھوٹے کو نماز کا حکم دیتا ہے اسی طرح چھوٹے بچوں پر بھی ضروری ہے کہ بڑوں کو نماز کی یاد دلائیں خصوصا جب بڑے نماز میں سستی کریں، اور یہ بھی بتائیں کہ ایک دوسرے کو نماز کا حکم دینا "أمر بالمعروف اور نہی عن المنکر" کے اندر داخل ہے
مدد مانگنے کا، اللہ سے قربت کا احساس دلایا جائے۔

*نماز کی پابندی کروانے کے سلسلے میں*
یہ ضروری ہے کہ اسے ابتدا میں یعنی تین سال کی عمر ہی سے ضرور اپنی نماز ادا کرنے کے دوران اپنے ساتھ رکھا جائے۔ دن میں پانچ مرتبہ نماز کی ادائیگی اس کی آنکھوں کے سامنے اور شعور کے اندر، رچ بس جائے۔ اسی عمر میں نماز کے کلمات یاد کروانے شروع کر دیے جائیں۔ جتنے بھی کلمات ترجمے کے ساتھ یاد ہو جائیں، انہی کے ساتھ نماز کی ادائیگی شروع کروائی جائے۔ لڑکے تو مسجد میں جا کر رکوع و سجود کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ لڑکیوں کو بھی گھر میں اس کی مکمل پہچان کروائی جائے۔ شروع میں بچے کو ایک نماز اور وہ بھی صرف فرض کی عادت ڈالی جائے اور یہ فجر کی نماز ہے۔ بچہ چاہے جس وقت بھی سو کر اٹھے، اسے معلوم ہو جائے کہ اٹھنے کے بعد پہلا کام نماز کا ہوتا ہے۔ پہلے وضو اور نماز پھر ناشتہ۔۔۔۔ صبح اپنے رب کے حضور حاضری کا تصور اس کے لازمی معمولات کا حصہ بن جائے۔ پھر پوری نماز فجر کی فرض و سنت کے ساتھ پابندی کروائی جائے۔
دوسری نماز جس کی پابندی آسان ہے وہ مغرب کی نماز ہے۔ چند ماہ ان دو نمازوں کی پابندی ہو۔ پھر بتدریج باقی نمازیں اور رکعتوں کے لحاظ سے بھی پہلے صرف فرائض، پھر سنت موکدہ کی پابندی کروائی جائے۔ چار پانچ سال تک مکمل توجہ، شعور، اور دعا و یقین کے ساتھ کی جانے والی یہ محنت انشاء اللہ کبھی رائیگاں نہ جائے گی۔

وآخر دعوانا ان الحمدللہ للہ رب العالمین