https://www.youtube.com/c/islamicbayanmtm

کیا ہر نیک عمل صحیح بھی ہوتا ہے؟



نیکی کا تصور ہر انسان کے دل میں خوبصورت ہوتا ہے۔ جب کوئی عمل “نیک” کہلا دے تو عموماً اس پر سوال اٹھانا معیوب سمجھا جاتا ہے،

حالانکہ اصل سوال یہی ہے کہ کیا ہر نیک نیت سے کیا گیا عمل لازماً صحیح بھی ہوتا ہے؟

 اسلام ہمیں جذبات کے بجائے شعور کے ساتھ سوچنے کی دعوت دیتا ہے، اور یہی شعور اس سوال کو جنم دیتا ہے۔

اسلام میں عمل کی قدر و قیمت صرف نیت سے طے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے درست طریقہ بھی لازم ہے۔ نیت اگر اخلاص پر مبنی ہو مگر طریقہ شریعت کے مطابق نہ ہو، تو وہ عمل قابلِ قبول نہیں رہتا۔

 اسی لیے دین نے ہمیں سکھایا کہ عبادت ہو یا معاملات، ہر کام علم اور رہنمائی کے تحت ہونا چاہیے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ نیکی کے جذبے میں انسان حدود کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ چونکہ مقصد اچھا ہے، اس لیے طریقہ بھی خود بخود درست ہو جائے گا۔

 یہی سوچ بہت سی غلط فہمیوں اور بدعات کی بنیاد بنتی ہے۔ نیکی اگر علم کے بغیر ہو تو وہ اصلاح کے بجائے بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ جب نیکی علم سے خالی ہو تو انسان خود کو معیارِ حق سمجھنے لگتا ہے۔ ایسی صورت میں اختلاف دشمنی بن جاتا ہے اور نصیحت تنقید محسوس ہونے لگتی ہے۔ حالانکہ دین کا مزاج نرمی، حکمت اور فہم کا ہے، نہ کہ سختی اور جلدبازی کا۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ علم کا مطلب صرف معلومات کا انبار نہیں، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ کہاں، کب اور کیسے عمل کرنا ہے۔ صحیح علم کے ساتھ کیا گیا عمل ہی وہ نیکی ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے اور معاشرے میں بہتری لاتی ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ:
ہر نیک عمل نیکی کی نیت سے شروع تو ہو سکتا ہے،

مگر صحیح وہی ہے جو علم اور شریعت کی روشنی میں ہو۔
حقیقی نیکی وہ ہے جس میں اخلاص بھی ہو اور درست رہنمائی بھی—کیونکہ دین میں مقصد جتنا اہم ہے، طریقہ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔