آج کےدور میں بے نمازی کا علاج آخرکیسےممکن‌ہو؟
انسان کی زندگی میں عبادت کو وہی حیثیت حاصل ہے جو جسم میں روح کو حاصل ہوتی ہے۔ جس طرح روح کے بغیر جسم بے جان ہوتا ہے، اسی طرح نماز کے بغیر ایمان کمزور اور زندگی بے برکت ہو جاتی ہے۔ اسلام نے جن عبادات کو فرض قرار دیا ہے، ان میں نماز کو سب سے بلند مقام دیا گیا ہے، کیونکہ یہ بندے کو دن میں پانچ مرتبہ اپنے رب کے سامنے جھکنے کا موقع دیتی ہے۔
بدقسمتی سے آج ہمارا معاشرہ ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں دنیا کی مصروفیات نے ہمیں نماز سے دور کر دیا ہے۔ ہم کاروبار، تعلیم اور تفریح کے لیے وقت نکال لیتے ہیں، مگر عبادت کے لیے وقت نکالنا مشکل سمجھنے لگے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ مساجد جو کبھی ایمان کی روشنی سے جگمگایا کرتی تھیں، آج ویرانی کا منظر پیش کر رہی ہیں اور نوجوان نسل آہستہ آہستہ نمازوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
یہ مسئلہ صرف چند افراد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا اجتماعی مسئلہ بن چکا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم سنجیدگی سے غور کریں کہ لوگ نماز اور جماعت سے کیوں دور ہو رہے ہیں، اس کے کیا دینی اور دنیاوی نقصانات ہیں، اور اس بگڑتی ہوئی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے ہم کیا عملی اقدامات کر سکتے ہیں۔
زیرِ نظر مضمون میں انہی تین اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ معاشرے میں نماز کی اہمیت کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے اور نوجوانوں کو مسجد سے جوڑنے کی راہ ہموار ہو۔
نوجوان نسل اور نماز سے بڑھتی ہوئی بے رغبتی
آج کا مسلمان ایک عجیب تضاد میں زندگی گزار رہا ہے۔ زبان پر کلمۂ توحید ہے، دل میں ایمان کا دعویٰ ہے، مگر عمل میں نماز سے غفلت عام ہوتی جا رہی ہے۔ وہ مسجدیں جو کبھی فجر کے وقت نمازیوں سے بھر جایا کرتی تھیں، آج خاموش اور ویران دکھائی دیتی ہیں۔ جماعت کے وقت صفیں مختصر ہوتی جا رہی ہیں اور دنیاوی مصروفیات کی صفیں طویل۔ یہ مسئلہ کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی بیماری بن چکا ہے۔
یہ سوال اب یہ نہیں رہا کہ لوگ نماز کیوں چھوڑ رہے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے نماز کو اپنی زندگی کے مرکز سے کیوں ہٹا دیا ہے؟
زیرِ نظر مضمون میں اسی مسئلے کو تین پہلوؤں سے واضح کیا جا رہا ہے:
لوگ نماز اور جماعت سے کیوں دور ہو رہے ہیں؟
نماز چھوڑنے کے دینی اور دنیاوی نقصانات
اس مسئلے کا عملی اور معاشرتی حل
پہلا حصہ: لوگ نماز اور جماعت سے کیوں دور ہو رہے ہیں؟
دنیا کی محبت اور آخرت سے غفلت
قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے: فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِـمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا (سورۃ مریم: 59)
"پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے"
یہ آیت آج کے معاشرے کی حقیقی تصویر ہے۔ آج موبائل کی گھنٹی اور دنیاوی کاموں کو فوری اہمیت دی جاتی ہے، مگر اذان کی آواز کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ترجیحات بدل چکی ہیں اور آخرت کے مقابلے میں دنیا کو مقدم کر لیا گیا ہے۔
2۔ ایمان کی کمزوری
عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ»
"آدمی اور کفر و شرک کے درمیان فرق نماز چھوڑ دینا ہے"(صحیح مسلم)
ن احادیث سے نماز کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسے کفر اور اسلام کے درمیان حد فاصل قرار دیا گیا ہے۔ جو شخص نماز نہیں پڑھتا، وہ کفر کی حد میں داخل ہو جاتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان نماز عہد ہے، جس نے اسے چھوڑا تو بلا شبہ اس نے کفر کیا۔ (الترمذي: 2631)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ جس نے نماز کی حفاظت کی تو یہ اس کے لیے قیامت کے دن نور، دلیل اور نجات ہوگی اور جس نے اس کی حفاظت نہ کی تو قیامت کے دن اس کے لیے نور، دلیل اور نجات نہ ہوگی اور وہ قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف (جیسے کافروں) کے ساتھ ہوگا۔ (أحمد: 129/2)
تابعی عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: اصحاب رسول اعمال میں سے نماز چھوڑنے کو کفر سمجھا کرتے تھے۔ (الترمذي: 2622، ص)
اللہ تعالیٰ ٰ کا بھی فرمان ہے:﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ ‎(الروم: 31)
”اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ بنو۔“
یہاں نماز کی پابندی کا حکم دیا اور ساتھ ہی فرمایا کہ مشرکوں میں سے نہ بنو، کیونکہ مشرک نماز نہیں پڑھتے جبکہ مؤمن اسے چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، اگر کوئی بلا عذر شرعی نماز چھوڑے گا تو وہ مشرکوں میں سے ہو جائے گا کیونکہ نفس پرستی بھی تو شرک ہے اور نماز چھوڑنے والا نفس پرستی کرتا ہے گویا نماز چھوڑنا بھی ایک طرح کا شرک ہی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ”بے شک بندے اور شرک کے درمیان (فرق) نماز چھوڑنا ہے۔(مسلم: 82)
اہل علم کہتے ہیں کہ نماز چھوڑنے کی تین صورتیں ہیں: ① نماز کا سرے سے انکار کر دے یعنی یہ سمجھنا کہ نماز دین کا حصہ نہیں، تو ایسا شخص بالا تفاق کافر اور مرتد ہے۔② بھول کر نماز چھوڑنا ایسا شخص بالاتفاق کافرنہیں، اس کے لیے یہی حکم ہے کہ جب نماز یاد آ جائے تو اسے پڑھ لے۔③ جان بوجھ کر نماز چھوڑنا مگر اس کی فرضیت کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ ہمارے ہاں اکثریت کا حال ہے، تو ایسے شخص کے متعلق اختلاف ہے:
✿ جمہور کے نزدیک ایسا شخص کافر اور مرتد ہے۔
✿ ایسا شخص فاسق و فاجر اور سخت گناہ گار ہے، یہ اعتقادی کافر تو نہیں مگر عملی طور پر کافر ہی ہے۔
یہ حدیث بتاتی ہے کہ نماز محض ایک عبادت نہیں بلکہ ایمان کی پہچان ہے۔ جب ایمان کمزور ہوتا ہے تو سب سے پہلے نماز میں کوتاہی پیدا ہوتی ہے، کیونکہ نماز اللہ تعالیٰ سے براہِ راست تعلق کا ذریعہ ہے۔
3۔ گھریلو اور معاشرتی ماحول
اولاد وہی سیکھتی ہے جو اپنے بڑوں کو کرتے دیکھتی ہے۔ اگر والدین خود نماز کے پابند نہ ہوں تو بچوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ مسجد سے جڑ جائیں، محض ایک خواہش رہ جاتی ہے۔
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُرُوْآ اَوْلَادَکُمْ بِالصَّلَاۃِ وَھُمْ اَبْنَآءُ سَبْعِ سِنِيْنَ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَاوَھُمْ اَبْنَآءُ عَشْرٍ وَّ فَرِّ قُوْابَیْنَھُمْ فِی الْمَضَاجِعِ(سنن ابی داؤدکتاب الصلوٰۃ باب متی یومر الغلام بالصلوٰۃ)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:کہ اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو پھر دس سال کی عمر تک انہیں اس پر سختی سے کار بند کرو نیز ان کے بستر الگ الگ بچھاؤ۔ (ابو داؤد)
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نماز کی تربیت بچپن سے ضروری ہے، کیونکہ بچپن میں ڈالی گئی عادت زندگی بھر ساتھ رہتی ہے۔
دینی علم سے دوری ہے
نماز کو صرف ایک رسمی عمل سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ حقیقت میں نماز ایمان کی غذا ہے۔ جب علم نہ ہو تو عبادت بوجھ بن جاتی ہے اور جب شعور نہ ہو تو انسان عبادت کی حقیقت سے محروم ہو جاتا ہے۔
نماز چھوڑنے کے دینی اور دنیاوی نقصانات
اللہ سے تعلق کا کمزور ہو جانا
إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ(سورۃ العنکبوت: 45)
"بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے"
جب نماز ترک کی جاتی ہے تو گناہوں کے راستے کھل جاتے ہیں۔ انسان جھوٹ، ظلم، بے حیائی اور نافرمانی کو معمولی سمجھنے لگتا ہے، کیونکہ اسے روکنے والی سب سے بڑی قوت ختم ہو جاتی ہے۔
آخرت کا خسارہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة صلاته) (ترمذی)
"قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کے بارے میں سوال کیا جائے گا"
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ نماز آخرت کے امتحان کا پہلا پرچہ ہے۔ جس کا پہلا پرچہ خراب ہو، اس کے باقی اعمال کا حال بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
دل کی سختی
نماز چھوڑنے والا آہستہ آہستہ احساسِ گناہ سے محروم ہو جاتا ہے۔ اسے نہ حلال کی فکر رہتی ہے اور نہ حرام کی پرواہ۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے قرآن نے دلوں کے سخت ہو جانے سے تعبیر کیا ہے۔
دنیاوی بے سکونی
آج انسان بے چینی، ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: -اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُﭤ((سورۃ الرعد: 28)
"خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے"
نماز چھوڑ کر سکون تلاش کرنا ایسے ہی ہے جیسے پانی چھوڑ کر پیاس بجھانے کی کوشش کرنا۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم اس بڑھتے ہوئے رجحان کا علاج کیسے کریں؟
نماز کو زندگی کا مرکز بنایا جائے
ہمیں نماز کو اپنے وقت کے تابع کرنے کے بجائے اپنے وقت کو نماز کے تابع بنانا ہوگا۔ تعلیم، تجارت اور مصروفیات سب نماز کے گرد گھومیں، نہ کہ نماز کو ان کے درمیان گم کر دیا جائے۔
مساجد کو دوبارہ آباد کیا جائے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَفْضُلُ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً".(بخاری و مسلم)
"جماعت کی نماز اکیلے نماز سے ستائیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے"
یہ فضیلت صرف ثواب کی نہیں بلکہ امت کی اجتماعی تربیت کا ذریعہ بھی ہے۔ مسجد عبادت گاہ کے ساتھ اصلاح گاہ بھی ہے۔
نوجوانوں سے محبت اور حکمت کے ساتھ گفتگو
نوجوانوں کو ڈانٹنے کے بجائے سمجھانے کی ضرورت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:الدین یسر"دین آسان ہے"(بخاری)
سختی کے بجائے نرمی، نفرت کے بجائے اپنائیت اور الزام کے بجائے رہنمائی، یہی نبوی طریقہ ہے۔
گھروں میں نماز کا ماحول قائم کیا جائے
ہر گھر کو ایک چھوٹی مسجد بنانا ہوگا۔ جب باپ اذان پر اٹھے گا اور ماں بچوں کو نماز کی یاد دہانی کرائے گی تو نئی نسل خود بخود مسجد سے جڑ جائے گی۔
خطبات اور دروس میں نماز کی اہمیت اجاگر کی جائے
نماز کے فضائل کے ساتھ اس کے ترک کے انجام کو بھی عوام کے سامنے رکھا جائے، مگر ڈرانے کے ساتھ امید بھی دلائی جائے تاکہ دل مایوس نہ ہوں بلکہ عمل کی طرف آئیں۔
اصل بات یہ ہے کہ بے نمازی کوئی ایک دن میں پیدا ہونے والی بیماری نہیں، بلکہ یہ آہستہ آہستہ دل میں آنے والی غفلت کا نتیجہ ہے۔ جب انسان اللہ کو یاد کرنا کم کر دیتا ہے تو سب سے پہلے نماز ہی کمزور ہوتی ہے۔
دل سے آغاز ضروری ہے
سب سے پہلے ہمیں اپنے دل کو جگانا ہوگا۔ یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ نماز کوئی رسم نہیں، بلکہ اللہ سے بات کرنے کا ذریعہ ہے۔ اگر دل میں یہ بات بیٹھ جائے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، تو انسان خود بخود نماز کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔
2گھر سے تبدیلی آئے
بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ گھر میں دیکھتے ہیں۔ اگر ماں باپ خود نماز کے پابند ہوں گے تو بچے بھی نماز کو اہم سمجھیں گے۔ صرف کہنا کافی نہیں، عمل دکھانا زیادہ ضروری ہے
ماحول کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے
آج کا ماحول ہمیں ہر چیز کی طرف بلاتا ہے، مگر نماز کی طرف نہیں۔ موبائل، سوشل میڈیا، کاروبار اور مصروفیات سب وقت چھین لیتے ہیں۔ اس لیے ہمیں خود ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں نماز آسان ہو، مشکل نہیں۔ ایسے دوست ہوں جو نماز یاد دلائیں، مسجد سے تعلق ہو، اور اذان کو نظر انداز نہ کیا جائے
خود سے شروعات کریں
اصلاح ہمیشہ خود سے شروع ہوتی ہے۔ ایک ساتھ پانچ وقت کی کوشش مشکل لگے تو ایک نماز سے آغاز کریں، جیسے فجر۔ موبائل میں الارم لگائیں، نیت کریں کہ بس آج فجر نہیں چھوڑنی۔ آہستہ آہستہ عادت بن جائے گی۔
آج ہماری اصل ضرورت نئی عمارتیں بنانے کی نہیں بلکہ ٹوٹی ہوئی روحوں کو آباد کرنے کی ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگ نماز نہیں پڑھ رہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے نماز کی عظمت کو اپنی زندگی سے نکال دیا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ پاکیزہ ہو، نوجوان محفوظ ہوں، گھر آباد ہوں اور دل زندہ رہیں تو ہمیں مسجد کا راستہ دوبارہ اختیار کرنا ہوگا۔
یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ:قوموں کی تقدیر فیکٹریوں سے نہیں، سجدوں سے بدلتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نماز قائم کرنے والوں میں شامل فرمائے اور ہمارے معاشرے کو پھر سے اذان کی روشنی سے منور فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔