*حلال رشتے کے انتظار میں بوڑھی ہوتی لڑکی کی فریاد*

میں آج اس ناول کو پڑھ کر رویا اور دل میں ایک درد ہوا خدایا ان بچیوں پر رحم کریں کیا ہم بھول گئے نبی اکرم ﷺ کی دی ہوئی تعلیم کو اللہ کے نبی نے ارشاد فرمایا (النکاح من سنتی فمن رغب عن سنتی فلیس منی او کما قال النبی ﷺ) ایک درد ہے میرے دل کا جو ناول کو پڑھ کر ہوا ہے.

اچھے لڑکے کے انتظار میں، یا خاندان کے نسب کی بقا کے لیے،اور اپنی دادا گیری کو برقرار رکھنے کے لیے بچوں کے زندگی کو ڈھال نا بنایا جائے اور انکی عمر کو نا بڑھایا جائے، لیکن آج یہ ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکی ہے اور بہت سی لڑکیوں کو اس دلدل میں ڈھکیل کر والدین اور خاندان کے تمام افراد بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن یاد رکھنا اسلام نے بالغ ہونے کے فوراً بعد شادی کی اجازت دی ہے اگر بچے کوئی گناہ کریں گے تو اسکا ذمے دار اور خمیازہ والدین کو بھی بھگتنا ہوگا.

اب ذرا ناول کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں اور مجھے بتائیں کہ جب لڑکیوں کی حالت یہ کردی جائے پھر وہ غلط قدم اٹھائے تو آپکو اعتراض کیوں؟


*حلال رشتے کے انتظار میں بیٹھی بوڑھی ہوتی لڑکی کی فریاد*

لڑکی بیان کرتی ہے

میری عمر اس وقت 35 سال ہے

میری ابھی تک شادی نہیں ہوئی

کیونکہ ہمارے خاندان کی رسم ہے

کہ خاندان سے باہر رشتہ کرنا نیچ حرکت ہے،خاندان کے بڑے بوڑھے جب آپس میں بیٹھتے ہیں، تو بڑے فخریہ انداز سے کہتے ہیں کہ سات پشتوں سے اب تک ہم نے کبھی خاندان سے باہر رشتہ نہیں کیا.

عمر کے 35ویں سال میں پہنچی ہوں

اب تک میرے لیئـے خاندان سے کوئی رشتہ نہیں آیا، جب کہ غیر خاندانوں سے کئی ایک رشتے آئے لیکن مجال ہے

کہ میرے والدین یا بھائیوں نے کسی سے ہاں بھی کیا ہو، میرے دلی جذبات کبھی اس حدتک چلے جاتے ہیں کہ میں راتوں میں چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھاؤں اور دھاڑیں مار مار کر والدین سے کہوں کہ میرا گزارہ نہیں ہورہا،خدارا میری شادی کرادیں

اگرچہ کسی کالے کلوٹے چور سے ہی صحیح😭 لیکن حیاء اور شرم کی وجہ چپ ہوجاتی ہوں، میں اندر سے گھٹ گھٹ کر زندہ نعش (لاش) بن گئی ہوں.

شادی بیاہ وتقریبات میں جب اپنی ہمچولیوں(سہیلیوں)کو اُن کے شوہروں کے ساتھ ہنستے مسکراتـے دیکھتی ہوں تو دل سے دردوں کے انبار اٹھتے ہیں،

یا خدا ایسے پڑھے لکھـے جاہل ماں باپ کسی کو نہ دینا جو اپنے خاندان کے ریت ورسم کو نبھانے کے لیے اپنی بچوں کی زندگیاں برباد کر رہےہیں.

کبھی خیال آتا ہـےکہ گھر سے بھاگ کر کسی کے ساتھ منہ کالا کرکے واپس آکر والدین کے سامنے کھڑی ہوجاؤں کہ لو اب اچھی طرح نبھاؤ اپنـے سات پشتوں کی رسوم، کبھی خیال آتا ہـے

کہ گھر سے بھاگ جاؤں،اور کسی سے کہوں مجھے بیوی بنالو، لیکن پھر خیال آتا ہے اگر کسی برے انسان کے ہتھے چڑھ گئی تو میرا کیا بنے گا،

میرے درد کو مسجد کا مولوی صاحب بھی جمعہ کے خطبے میں بیان نہیں کرتا.


*میری فریاد تمام عہدیداروں سے*

اے مولوی صاحب ذرا تم بھی سنو رات کو جب ابا حضور اور اماں ایک کمرے میں سورہے ہوتے ہیں،بھائی اپنے اپنے کمروں میں بھابیوں کے ساتھ آرام کررہے ہوتـے ہیں، تب مجھ پر کیا گزرتی ہے، وہ صرف میں اکیلی ہی جانتی ہوں.

اے حاکمِ وقت!

تو بھی سن لے فاروق اعظم کے زمانے میں رات کے وقت جب ایک عورت نے درد کے ساتھ یہ اشعار پڑھـے جن کا مفھوم یہ تھا،

(اگر خدا کا ڈر اور قیامت میں حساب دینے کا ڈر نہ ہوتا تو آج رات اِس چارپائی کے کونوں میں ہل چل ہوتی)

(مطلب میں کسی کے ساتھ منہ کالا کررہی ہوتی)

فـــــاروق اعظم نے جب اشعار سنے تو تڑپ اٹھے، اور ہر شوہر کے نام حکم نامہ جاری کیا کہ کوئی بھی شوہر اپنی بیوی سے تین مہینے سے زیادہ دور نہ رہے.

اے حاکمِ وقت،

اے میرے ابا حضور،

اے میرے ملک کے مفتی اعظم،

اے میرے محلے کی مسجد کے امام صاحب،

اے میرے شہر کے پیر صاحب میں کس کے ہاتھوں اپنا لہو تلاش کروں؟

کون میرے درد کو سمجھے گا؟

میری 35 سال کی عمر گزر گئی

لیکن میرے ابا کی اب بھی وہی رٹ ہے کہ میں اپنی بچی کی شادی خاندان سے باہر ہرگز نہیں کروں گا.


*اے اللہ تو گواہ ہے*

بے شک تونے میرے لیئے بہت سے اچھے رشتے بھیجے،لیکن میرے گھر والوں نے وہ رشتے خود ہی ٹھکرا دیئے اب کچھ سال بعد میرا ابا تسبیح پکڑ کر یہی کہے گا کہ بچی کا نصیب ہی ایسا تھا.

اے لوگو:

مجھے بتاؤ کوئی شخص تیار کھانا نہ کھائے اور بولے تقدیر میں ایسا تھا تو وہ پاگل ہے یا عقلمند؟

اللہ پاک نوالے منہ میں ڈلوائے کیا؟

یونہی اس مثال کو سامنے رکھ کر سوچیں کہ میرے اور میرے جیسی کئی اوروں کیلیئے اللہ نے اچھے رشتے بھیجے، لیکن والدین نـے یا بعض نے خود ہی ٹھکرا دیئے اب کہتے پھرتے ہیں،کہ جی نصیب ہی میں کچھ ایسا تھا.

خدارا اپنی بچیوں پر رحم کھائیں

میں نے اکثر لوگوں کے گھر اپاہج معذور بچے دیکھے ہیں جو خاندان در خاندان شادی کے نتیجے میں پیدا ہوتے

باز آجائیں ایسے رسومات سے جس کا

ہمــــــارے اسلام سے کوئی تعلق نہیں.


*کچھ سوالات خاندانی کی رٹ لگانے والے سفہاء سے*

(1)پورے قرآن و حدیث میں کہیں دکھائیں کہ اللہ اور اسکے رسول نے خاندان یا قوم کے بارے میں کہا ہو کہ شادی خاندان میں ہونا فرض ہے؟

(2)اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالغ ہونے کے بعد شادی کا حکم دیا ہے پوچھنا یہ ہے تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ، اور اللہ کے نبی؟

(3)اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے (انما المؤمنون إخوة )مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں تو کسی مسلمان کو آپ غیر کیسے کہ سکتے ہیں.

(4)ایک آیت کریمہ کا مفہوم(ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ تم اپنی پہچان کر سکو اور اللہ کے نزدیک اعلی متقی لوگ ہیں) تو قوم کی بنیاد کو کسی کو اعلی یا ادنی کہنے والے تم کون ہوتے ہو.

(5)اگر کسی کو اپنی قوم اپنے حسب و نسب پر غرور ہونے لگے اور باقی قوموں کو وہ ذلیل سمجھنے لگے تو کبھی پڑھنا حجۃ الوداع کے موقع پر بیان کیا ہوا خطبہ اور جان لینا آپکی اور آپکی قوم کی کیا حیثیت ہے عند اللہ و رسولہ.


میں معذرت خواہ رہوں گا اگر کسی کو بری لگے تو اور اس میں زیادتی نہیں کی گئی بلکہ اسی ناول کا ترجمہ کیا ہوں لیکن جو بھی مجھے اچھا لگتا ہے میں لکھ ڈالتا ہوں صرف اسلئے کہ تاکہ قوم کے اندر سدھار آ جائے.


✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ ✍️