بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نماز: دل کی موت سے مسجد کی حیات تک.
اسلام میں نماز کوئی رسمی عبادت نہیں بلکہ ایمان کی سانس، دل کی غذا اور روح کا سہارا ہے۔ یہ وہ واحد عبادت ہے جو بندے کو دن میں پانچ مرتبہ براہِ راست اپنے رب کے حضور کھڑا کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رَأْسُ الْأَمْرِ الإِسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ
(سنن ترمذی: 2616)
یعنی دین کی بنیاد اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے۔ جس طرح ستون کمزور ہو جائے تو عمارت باقی نہیں رہتی، اسی طرح جب نماز کمزور ہو جائے تو ایمان بھی عدمِ استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں نماز کا حکم ایک مرتبہ نہیں بلکہ بار بار آیا ہے:
اَقِيمُوا الصَّلَاةُ (البقرہ: 43) یہ حکم صرف نماز پڑھ لینے کا نہیں بلکہ نماز کو زندگی میں قائم کرنے کا ہے، یعنی نماز انسان کے معمولات، فیصلوں، اخلاق اور طرزِ فکر پر اثر انداز ہو۔
نماز وہ واحد عظیم فریضہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے زمین پر نازل نہیں کیا بلکہ اپنے محبوب ﷺ کو آسمانوں پر بلا کر بطورِ خاص اعزاز عطا فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ نماز کو مؤمن کی معراج کہا گیا، کیونکہ جو سجدے میں جھکتا ہے وہ حقیقت میں رب کے قرب کی بلندیوں تک پہنچتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ وہ دل کہاں ہیں جو صفوں کو زندگی بخشتے تھے؟ وہ نوجوان کہاں ہیں جن کے قدم مسجد کی طرف دوڑتے تھے؟ یہ سوال محض عبادت کا نہیں بلکہ امت کے مستقبل، اس کے شعور، اس کی روح اور اس کی سمت کا سوال ہے۔ نماز سے دوری دراصل مسجد سے دوری نہیں بلکہ اللہ سے دوری ہے، اور اللہ سے دوری کا انجام صرف انفرادی خسارہ نہیں بلکہ اجتماعی زوال ہے۔
نماز سے دوری کی اصل وجوہات
آج مسلمان خصوصاً نئی نسل نماز اور جماعت سے اس لیے دور ہو رہی ہے کہ ایمان ایک زندہ یقین کے بجائے ایک وراثتی شناخت بن چکا ہے۔ ہم مسلمان تو ہیں مگر مسلم الشعور نہیں رہے۔ نماز ایک روحانی ضرورت کے بجائے محض ایک رسمی فریضہ بن گئی ہے۔ قرآن نے اس انجام کی خبر بہت پہلے دے دی تھی:
فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ (مریم: 59)
نماز کا ضیاع دراصل خواہشات کی غلامی ہے، اور خواہشات کی غلامی ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔
دوسری بڑی وجہ دنیا کی ترجیحات کا الٹ جانا ہے۔ آج رزق ہے مگر نماز کے وقت پر نہیں، تعلیم ہے مگر مسجد کے سائے میں نہیں، ترقی ہے مگر تقویٰ کے بغیر۔ قرآن کہتا ہے: كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ
(القیامۃ: 20–21)
جب دنیا اصل بن جائے تو اذان صرف ایک آواز رہ جاتی ہے اور جماعت ایک غیر ضروری عمل محسوس ہونے لگتی ہے۔
تیسری وجہ آخرت کے حساب کو بھلا دینا ہے:
إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ حِسَابًا (النبأ: 27)
جس دل میں حساب کا یقین نہ ہو، وہاں سجدہ بوجھ بن جاتا ہے اور فجر کی نیند سب سے قیمتی لگنے لگتی ہے۔
چوتھی وجہ نماز کی حقیقت سے ناواقفیت ہے۔ لوگ نماز پڑھتے تو ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ نماز کیا بدلتی ہے اور کیا سنوارتی ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے: إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِوَالْمُنكَرِ
(العنکبوت: 45)
اگر ہماری نماز ہمیں برائی سے نہیں روک رہی تو قصور نماز کا نہیں بلکہ ہماری نماز کا ہے، کیونکہ نماز خشوع و خضوع کو چاہتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایسے نماز پڑھو گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو تو کم از کم یہ یقین رکھو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے (حدیثِ جبریل)۔ جب دل سے یہ احساس نکل جائے تو نماز محض حرکات بن جاتی ہے، اور خشوع کا اٹھ جانا دراصل قیامت کی بڑی علامتوں میں سے ایک ہے۔
پانچویں وجہ گھروں میں دینی تربیت کا کمزور ہونا ہے۔ نماز مسجد میں چھوٹتی ہے مگر بنیاد گھر میں ٹوٹتی ہے۔ قرآن کہتا ہے:
وَأْمُرْأَهْلَكَ بِالصَّلَاةِوَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا
(طٰہٰ: 132)
جب باپ خود فجر میں سوتا رہے اور ماں نماز کو ترجیح نہ دے تو بچے کے لیے مسجد اجنبی بن جاتی ہے۔
نماز چھوڑنے کے دینی نقصانات
نماز ایمان کی سرحد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ
(مسلم. سنن ابن ماجہ 1078)
نماز چھوڑنے سے ایمان شدید خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
قیامت کے دن سب سے پہلا سوال نماز کا ہوگا:
" إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلَاتُهُ
(ترمذی: 413)
اگر نماز درست ہوئی تو نجات، ورنہ خسارہ۔
جہنمیوں کا اعتراف بھی یہی ہوگا: قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ (المدثر: 43) ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے۔
نماز چھوڑنے کے دنیاوی نقصانات
نماز ذکرِ الٰہی کی اعلیٰ صورت ہے:اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: 28) نماز کے بغیر دل بے سکون، روح مضطرب اور زندگی بے سمت ہو جاتی ہے۔ اخلاقی زوال، وعدہ خلافی، بددیانتی اور ظلم اسی خلا کی پیداوار ہیں۔ رزق میں بے برکتی، وقت کی کمی، گھریلو ناچاقی اور دلوں کی بے سکونی صرف سماجی مسائل نہیں بلکہ روحانی غفلت کی علامتیں ہیں، اور اگر غور کیا جائے تو مسجدوں کی بے قدری، ان کا ویران ہونا یا ظلم کی زد میں آ جانا بھی اسی اجتماعی غفلت کا ایک دردناک نتیجہ ہے۔
جب نوجوان مسجد سے دور ہوتا ہے تو یہ صرف ایک فرد کی گمراہی نہیں بلکہ امت کے مستقبل کی خاموش چیخ ہوتی ہے. قرآن کا اصول ہے:اُدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ (النحل: 125)
نوجوانوں کو مسجد میں لانے کے لیے ہمیں آڈر دینے یا شرمندہ کرنے کی نہیں بلکہ حکمتِ دعوت کی ضرورت ہے، کیونکہ ہم نے مسلکی تعصب اور ذاتی عناد کی دیواریں آج مسجدوں کے اندر بھی کھڑی کر دی ہیں۔ نوجوان سوال کرتا ہے: کیا مسجد مجھے قبول کرتی ہے؟ کیا میرے سوال کا جواب دیتی ہے؟ کیا یہاں محبت باقی ہے یا صرف حکم رہ گیا ہے؟ سیرتِ نبوی ہمیں سکھاتی ہے کہ نوجوان کو ڈانٹ کر نہیں بلکہ قریب بلا کر بدلا جاتا ہے۔ ایک نوجوان نے زنا کی اجازت مانگی، صحابہؓ غصے میں آئے مگر حضور ﷺ نے فرمایا:
ادْنُهُ
(مسند احمد: 22211)
پھر حکمت اور محبت سے اس کے دل کو بدل دیا۔اور اس کے لیے دعا فرمائی:اللّٰهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ، وَطَهِّرْ قَلْبَهُ، وَحَصِّنْ فَرْجَهُ.
دوسری روایت میں. نبی ﷺ نے فرمایا
وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ
(سنن نسائی: 5382)
وہ نوجوان جو عبادت میں جوان ہو، قیامت کے دن اللہ کے سایہ میں ہوگا۔ یہی نوجوان امت کے لیے ڈھال بنتا ہے۔
مسجد: صرف عبادت گاہ نہیں، تربیت گاہ
قرآن کہتا ہے:
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ
(التوبہ: 18)
رسول اللہ ﷺ کے دور میں مسجد درسگاہ، مشاورتی مرکز اور سماجی اصلاح کا دل تھی۔ آج اگر مسجد صرف نماز تک محدود ہو جائے تو نوجوان خود بخود دور ہو جاتا ہے۔
نوجوانوں کو مسجد سے جوڑنے کے لیے ضروری ہے کہ:
مسجد کے احاطے میں مستقل نوجوانوں کے لئے خاص اصلاحی نششت گاہ ہو. مسجد میں سوال کی اجازت ہو،نصیحت میں محبت ہو،مسلکی سختی کے بجائے اخوت ہو،اور نوجوان کو اعتماد دیا جائے۔ قرآن کا حکم ہے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
(آل عمران: 103)
مسجد بریلوی ہو یا دیوبندی، اہلِ حدیث ہو یا جماعتِ اسلامی—مسجد اللہ کا گھر ہے، کسی مسلک کی جاگیر نہیں۔ نوجوان مسلک نہیں، رویہ دیکھتا ہے۔
قرآن کامیابی کا معیار بتاتا ہے:
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ، الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ. (المؤمنون. 1.2.)
کامیابی انہی کے لیے ہے جو اپنی نماز میں خشوع پیدا کرتے ہیں۔
واپسی نعروں سے نہیں بلکہ دل کی واپسی سے ہوگی، گھر کی واپسی نماز کی طرف ہوگی، مسجد کی واپسی تربیت کی طرف ہوگی، اور امت کی واپسی سجدے کی طرف ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةُ (مشکوٰۃ المصابیح: 5261)
میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی۔
نماز صرف فرد کی نیکی نہیں بلکہ امت کی بقا ہے۔ نماز وہ چراغ ہے جو روشن رہے تو زندگی منور، اور بجھ جائے تو اندھیروں کا مسکن بن جاتی ہے۔ اگر ہم نے نوجوان کو مسجد سے جوڑ لیا تو آنے والی نسلیں خود بخود دین سے جڑ جائیں گی مسجد میں لوٹ آنے والا نوجوان امت کے زخموں پر مرہم ہے۔ یہی نماز کی طرف واپسی کا اصل مفہوم ہے. فرد کی اصلاح، معاشرے کی تطہیر اور امت کی تجدید۔روح کی حیات.
اے ربّ العالمین! ہمیں غفلت سے نکال کر ہدایت کی صف میں کھڑا فرما ۔ آمین یا ربّ العالمین۔