آج ہم جہاد کا اصطلاحی معنی جانیں گے
کیونکہ کسی بھی چیز کو سمجھنے کے لیے اسکیے لغوی معنی اور اصطلاحی معنی کو سمجھنا اہم ہو تا ہے
حدیث کی روشنی میں ۔مسند احمد کی روایت ہے
( قال وماالجہاد ؟ قال٫ ان تقاتل الکفار اذا لقیتم)
اس حدیث مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح ارشاد فرمایا کہ جہاد کا معنی قتال فی سبیل اللہ ہے
آثار صحابہ بھی اس پر شاہد ہیں کے صحابہ کرام نے جب بھی حی علی الجہاد کی صدا سنی کسی نے بھی قلم یا کوئ بھی جھاد باللسان کے لیے نہیں آیا
غرض یہ کے صحابہ کرام کے ہاں بھی جہاد قتال کے معنی میں متعین تھا ۔
چاروں آیمہ کے ہاں بھی جہاد شریعت میں قتال فی سبیل اللہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے
(بدائع الصنائع 1ج14ص58ط٫ رشید یہ)
( فتح القدیر 5ج 418ص٫ رشیدیہ)
شرح مختصر خلیل للخرشی ۔ج3ص(108))
التاج والاکلیل۔ج)4ص)(403))
( الباری ج14ص3ط قدیمی)
(نیل المآرب۔ ج 1 ۔319ص)
ان تمام چیزوں سے سمجھ آیا اسلاف کی کتابوں سے آثار صحابہ سے کہ جہاد صرف اور صرف قتال فی سبیل اللہ ہے الا یہ کہ شارع نے خود اس کو دوسرے معنی میں استعمال کیا ہو اور وہ بھی صرف ایک یا دو بار ہی ہے
قتال اللہ تعالیٰ کا ایک محکم فریضہ ہے اور یہ قطعی حکم ہے اسکا منکر کافر ہے اس سے بعض وعناد رکھنے والا گمراہ ہے
فرض عین کی صورت میں بلا عذرِ شرعی چھوڑ دینے والا فاسق ہے
جاری ہے ٫٫٫٫٫٫٫٫