معاشرے میں بے نمازی کا بڑھتا رجحان : اسباب، اثرات اور عملی حل
دینِ اسلام کا بنیادی ستون اور مومن کی روحانی زندگی کی بنیاد ہے نماز۔۔۔! نماز ہی ہے جو انسان کو اپنے رب سے جوڑتی اور برائیوں سے روکتی ہے مگر افسوس۔۔! کہ ہمارے معاشرے میں بے نمازی کا رجحان تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے جو ایک تشویشناک علامت ہے۔آج اگر ہم خاموشی سے کسی مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر اندر جھانکیں تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ وہ مسجدیں جو کبھی فجر سے عشاء تک آباد رہتی تھیں، آج اکثر سجدوں کی کمی پر خاموش نوحہ کرتی نظر آتی ہیں۔
صفیں چھوٹی ہوتی جا رہی ہیں، نمازی کم ہوتے جا رہے ہیں، اور دلوں سے اللہ کا ذکر جیسے آہستہ آہستہ مٹتا جا رہا ہے۔ یہ صرف مسجدوں کی ویرانی نہیں، یہ دراصل ہمارے دلوں کی ویرانی ہے۔
آج کے نوجوان وہ نماز چھوڑ دیتے ہیں جسے بچانے کی خاطر میرے آقا ﷺ کی پوری آل میدانِ کربلا میں شہید کردی گئی ، جس نماز کے لیے میرے رسول اللہ ﷺ خود تکلیفیں اٹھائے ، جس نبی کا آخری خطبہ بھی یہ تھا کہ " نماز قائم کرو" آج اس ہی نبی کے امتیوں نے مسجدوں کو ویران کر دیا ہے۔۔۔ اللہُ اکبر!!
مسئلہ : ہم نماز سے کیوں دور ہو گئے
بے نمازی کے اہم اسباب میں دینی شعور کی کمی ، دنیاوی مسائل میں حد سے زیادہ مشغولیت ہستی، خاندانی ترتیب کا فقدان اور بری صحبت شامل ہے ۔ہم نے نماز کو “فارغ وقت کا عمل” بنا لیا ہے، حالانکہ نماز ہی اصل زندگی ہے۔نماز سے دوری کی سب سے بڑی وجہ دین سے عمومی غفلت ہے۔ دنیا کی مصروفیات، موبائل فون، سوشل میڈیا، کاروبار اور آرام طلبی نے انسان کو اتنا مشغول کر دیا ہے کہ وہ چند منٹ اللہ کے حضور کھڑے ہونے کو بھی بوجھ سمجھنے لگا ہے موبائل کی اسکرین پر گھنٹوں وقت مل جاتا ہے، لیکن اللہ کے سامنے چند لمحے کھڑے ہونا مشکل لگتا ہے۔ اذان کی آواز کانوں سے ٹکرا کر واپس لوٹ جاتی ہے، دل تک نہیں پہنچتی۔
نوجوان کہتے ہیں:
“ابھی عمر ہی کیا ہے؟ بعد میں توبہ کر لیں گے۔”
لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ موت عمر دیکھ کر نہیں آتی۔
گھروں میں بھی نماز کی روح کمزور پڑ چکی ہے۔ باپ خود جماعت چھوڑ دے، ماں نماز کو بوجھ سمجھے، تو اولاد کیسے سجدے سے محبت کرے؟ ہم نے بچوں کو ڈگری کا تو شوق دلایا، مگر سجدے کی مٹھاس نہ سکھا سکے۔
اثرات : نماز چھوڑنے کے دنیاوی و دينی نقصانات
جب انسان نماز سے غافل ہوجاتا ہے تو اسکی زندگی سے نظم و ضبط اور روحانی سکون ختم ہو جاتا ہے۔نماز سے دوری کی اصل وجہ دنیا کی محبت اور دین سے غفلت ہے۔
نماز چھوڑنے سے سب سے پہلے دل مرتا ہے۔ وہ دل جس میں اللہ کا خوف نہ ہو، پھر گناہوں پر شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتا۔ نماز انسان کو برائی سے روکتی ہے، اور جب نماز ہی نہ رہے تو برائیاں انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔
بے نمازی بظاہر ہنستا کھیلتا نظر آتا ہے، مگر اندر سے ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ سکون نہیں ملتا، بے چینی بڑھتی ہے، دل خالی رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دولت، آسائش اور سہولت کے باوجود لوگ ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہیں۔
سجدہ چھوٹا تو سکون بھی چھوٹ گیا۔
دینی اعتبار سے نماز چھوڑنا ایمان کے لیے خطرہ ہے، اور دنیاوی اعتبار سے معاشرے کے اخلاقی زوال کا سبب۔ جب مسجد خالی ہوتی ہے تو گلیاں گناہوں سے بھر جاتی ہیں۔
حل: دلوں کو مسجد سے کیسے جوڑیں؟ (سب سے اہم)
اس مسئلے کہ حل دینی تعلیم کا فروغ ،گھریلو سطح پر نماز کی پابندی ، با جماعت نماز اہتمام اور نرم و حکیمانہ دعوت مضمر ہے ۔ اگر ہم نماز کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنا لیں تو فرد اور معیشت دونوں اصلاح کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں ۔
اس مسئلے کا حل ڈانٹ نہیں، درد ہے۔
فتویٰ نہیں، محبت ہے۔
سختی نہیں، اپنائیت ہے۔
لوگوں کو نماز کی طرف بلانے کے لیے سب سے پہلے ہمیں خود نمازی بننا ہوگا۔ عمل وہ دعوت ہے جو دل میں اتر جاتی ہے۔ گھروں میں نماز کا ماحول بنائیں، بچوں کو سجدے سے ڈرائیں نہیں بلکہ اس سے محبت سکھائیں۔
مسجدوں کو صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ دلوں کا سہارا بنائیں۔ امام صاحب کے لہجے میں نرمی ہو، خطبے میں امید ہو، نوجوانوں کے لیے مسجد اجنبی نہ لگے بلکہ اپنا گھر محسوس ہو۔
نوجوانوں کو یہ بتانا ہوگا کہ نماز بوجھ نہیں، زندگی کا سہارا ہے۔
سجدہ کمزوری نہیں، سب سے بڑی طاقت ہے۔
میڈیا کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے، تاکہ نوجوانوں تک نماز کی اہمیت ان کی زبان اور انداز میں پہنچ سکے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم خود عملی نمونہ بنیں، کیونکہ عمل کی دعوت الفاظ سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔
نتیجہ:
اگر ہم چاہتے ہیں کہ مسجدیں دوبارہ آباد ہوں اور معاشرہ اخلاقی طور پر مضبوط ہو، تو ہمیں نماز کو اپنی اور اپنی نسلوں کی زندگی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ نماز سے جڑ کر ہی فرد بھی سنور سکتا ہے اور معاشرہ بھی۔
اگر ہم نے آج بھی نماز کو نظر انداز کیا تو کل صرف مسجدیں ہی نہیں، ہماری نسلیں بھی خالی ہوں گی۔ آؤ! سجدے کی طرف لوٹ چلیں، اذان کی پکار پر لبیک کہیں، اور اپنے ٹوٹے دلوں کو اللہ کے سامنے رکھ دیں۔
کیونکہ جو سر سجدے میں جھک جاتا ہے،وہی
دراصل دنیا میں سرخرو ہو جاتا ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں نماز کا پابند بنائیں ۔۔۔ آمین یا رب العالمین ۔!