(لوگ نماز اور جماعت سے دور کیوں ہو رہے ہیں اس کی اصل وجہ کیا ہے) 

سب سے پہلے تو میں اپنی اس مضمون  پڑھنے
 والے تمام ہی حضرات و خواتین کو سلام پیش کرتی ہوں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 ياايها الذين امنوا قوا انفسكم واهليكم نارا 
اب اس عنوان کے پر زوق اور اصل جواب کی تلاش میں ہوں

کیا یہ وجہ ہوسکتی ہے لوگ نماز سے دور اس لئے ہو رہے ہیں کہ مسلمان صرف دنیا کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں
 
کیا یہ وجہ ہوسکتی ہے کی لوگ دنیا کی محبت میں اتنے مگن ہیں کہ شریعت امر کی پرواہ نہیں ہے اس لئے نماز سے دور ہو رہے ہیں


کیا یہ وجہ ہوسکتی ہے کی مسلمانوں میں حرام ہو حلال کی تمیز ختم ہو گئی ہے اس لئے نماز سے دور ہو رہے ہیں 
 
 کیا یہ وجہ ہو سکتی ہے کی لوگ ٹی وی کرکٹ اور موبائل میں گندی فلم اور ناچ گانا دیکھنے کی مصروفیت نے نماز سے دور کر دیا

جی ہاں بہت کچھ وجہ تحریر کی جا سکتی ہے کیونکہ ہر فرد کی نماز چھوڑنے کی کئی وجہیں بن سکتی ہیں
 
لیکن اکثریت نماز چھوڑنے والوں کی وجہ کچھ اور ہے آج جب مسلمانوں کی زندگیوں کا جائزہ لیا جائے تو اکثریت بحیثیت مسلمان کی ان کے عقائد ہی درست نہیں مسلمان ہوتے ہوئے بھی غلط فکر غلط عقیدہ غلط خیالات پر زندگی گزار رہے ہیں نماز پڑھنے کے باوجود بھی بے نمازی بنے ہوئے بظاہر بت پرستی تو نہیں کرتے مگر باپ دادا کی اندھی تقلید میں مبتلا ہیں قبر پرستی شخصیت پرستی تعزیہ پرستی اسلام کا نام لے کر غیر مسلموں کے شرکیہ اعمال میں مبتلا ہیں یہ بات دل کی تختی پر نوٹ کریں کی بغیر صحیح عقائد کے کوئی بھی اعمال قابل قبول نہیں ہے مثلاً جس طرح مومن ہونے کے لئے قران کریم کی تمام آیتوں کا ماننا ضروری ہے ہے ایک آیت کے انکار سے بندہ کافر ہو جاتا ہے اسی طرح تمام اعمال کی مقبولیت کے لئے تمام عقیدے کا درست ہونا ضروری ہے اگر ایک عقیدہ فاسد ہوگا تو تمام کے تمام اعمال بےکار اور برباد ہو جائیں گے قران کریم 75 فیصد ایمانیات یعنی عقائد بیان کرتا ہے اور 25 فیصد مسائل کی تعلیم دیتا ہیں اللہ تعالیٰ عقائد کی محنت کرنے والے تمام خدّام کی خدمات کوقبول فرمائے اور تمام ہی مسلمانوں کے عقائد درست فرمائے آمین 


(نماز چھوڑنے کے دینی اور دنیاوی نقصان کیا ہے )

دین اسلام میں نماز کو جو اہمیت حاصل ہے شاید ہی کسی احکام کو ایسی اہمیت حاصل ہو نماز ہی دین کی بنیاد اور اساس ہے اس کی ادائیگی پر قرآن و حدیث میں بہت زیادہ انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے اور اس سے غفلت برتنے پر بہت وعید بیان کی گئی ہے

افسوس کی آج کے مسلمانوں کی اکثریت نماز چھوڑے بیٹھی ہے اور غافل ہو چکی ہے آنے والے چند سطور میں نماز ترک کے دینی و دنیاوی نقصانات قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر کروں گی 

سورہ روم آیت 30 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے 
مسلمانوں نماز پڑھا کرو مشرکین میں سے نہ بن جاؤ 

سورہ ماعون آیت 4/5 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے بڑی تباہی تو ان نمازیوں کے لئے ہے جو اپنی نماز کی طرف سے غفلت برتتے ہیں 
قران کریم میں 68 مقامات پر نماز قائم کرنے کی تاکید کی گئی ہے  
 
سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا بے شک مومن بندے اور کفر اور شرک کے درمیان فرق نماز کا ترک کرنا ہے
(صحیح مسلم)

سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کی وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جس رات آپ زخمی ہوئے تھے آپ کو نماز فجر کے لئے جگایا گیا تو آپ نے فرمایا اس شخص اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے جس نے نماز چھوڑ دیا پھر سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ اس حال میں نماز پڑھی انکے زخموں سے خون بہہ رہا تھا 
( المؤطا للامام مالک )

محترم ناظرین آیات قرآنی اور اور احادیث مصطفیٰ سے معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کی وعیدیں بے نمازیوں کے لئے الارم ہے جب بے نمازی کا اتنا بڑا نقصان اسکے دین کا ہو سکتا ہے تو کیا عقل میں آنے والی بات کی اس کا دنیا میں کوئی نقصان نہیں ہے کی نماز چھوڑنا کتنا بڑا گناہ ہے میں نے اپنے پیر و مرشد متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن صاحب دامت برکاتہم عالیہ کو براہ راست یہ بات بیان کرتے ہوئے سنی ہوں اور قرآن پاک کی آیت میں بھی ہے کی( آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہےہر چیز اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتی ہے)
 اس میں گدھا بھی ہے کتا بھی ہے خنزیر بھی بزرگان دین یہ بات کہتے ہیں کی گدھا یہ تسبیح بیان کرتا ہے کی تمام تعریف اے اللہ تیرے لئے ہے کہ تو نے مجھے گدھا تو بنایا لیکن کتا نہیں بنایا اور کتا یہ تسبیح بیان کرتا ہے تمام تعریف اے اللہ تیرے لئے ہے تو نے مجھے کتا تو بنایا لیکن خنزیر نہیں بنایا اور خنزیر یہ تسبیح بیان کرتا ہے کی تمام تعریف اے اللہ تیرے لئے ہے تو نے مجھے خنزیر تو بنایا لیکن اس انسان کی طرح نہیں بنایا جو نماز چھوڑ دیتے ہیں غور کرنے کا مقام ہے کہ نماز چھوڑنے والا خنزیر سے بھی بدتر ہے اللہ امت مسلمہ کو نماز پر قائم و دائم فرمائے ایک حدیث میں ہے جس نے عصر کی نماز قضا کی گویا اسکا گھر واہل و عیال سب لٹ گیا 
ایک نماز کے قضا پر دنیا کا کتنا بڑا نقصان ہے کتنا بڑا بد نصیب ہے وہ شخص اور ایسا شخص اللہ کی رحمت اور شفقت سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے وہ دنیا میں اللہ کی مدد سے محروم کر دیا جاتا ہے پھر وہ زندگی بھر بے وقعت سمجھا جاتا ہے اور اس کے مرنے کے بعد بھی اس کا افسوس نہیں کیا جاتا ہے اور نمازی آدمی تو قابل تحسین ہوتا ہے لوگ اس کے چرچے کرتے ہیں اس کے موت کے بعد بھی اس کی مثالیں پیش کرتے رہتے ہیں اللہ ہم سب کو نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے 


(اس مسئلے کا حل کیا ہے لوگ نماز کی طرف کیسے آئیں) 


محترم ناظرین بہرحال سدھار کا نتیجہ یہ نکلا اگر ہم سب مسلمان خواہ مالدار ہوں یا غریب ہوں تعلیم یافتہ ہوں یا غیر تعلیم یافتہ سب مل جل کر تصحیح عقیدہ پر زور دیں اپنی بھی اپنے اولاد کی بھی ایمان بنانے کی پرزور محنت کی جائے تو انشاءاللہ ثم انشاء اللہ بڑی تیزی کے ساتھ اصلاح معاشرہ کا حیرت انگیز انقلاب ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے قال النبي صلى الله عليه وسلم كلكم راعی وكلكم مسىٔول عن رعيته اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کی قیامت کے دن جہاں ہر آدمی سے اس کے اعمال کا حساب ہوگا وہی اس کے ماتحتوں کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا اس لئے ضروری ہے ہم اپنی اولاد کی طرف سے ذرا بھی غفلت نہ برتیں کیونکہ والدین ہی اولاد کی پہلی درسگاہ ہیں اگر ہر آدمی اپنے اپنے گھر کی فکر کر لے اپنے اہل و اعیال کی تعلیم اور تربیت ایمان و اصلاح کا ذمہ لے لے تو سارا معاشرہ برائیوں سے پاک ہو جائے گا انشاءاللہ 
  
 پہلے کے والدین اپنی بچوں کی تربیت کا بڑا اہتمام کرتے تھے اولاد کو اللہ کی امانت سمجھتے تھے آج کے دور کے والدین ہوش کے ناخن لیں اپنے اولاد کے ایمان کی فکر کریں آج ہم لوگ جن کو بزرگان دین کہتے ہیں ان کا بزرگ ہونے میں اپنا کردار نہیں ہوتا ہے ان کی زندگیوں کو جب پڑھا جائے تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان کے والدین کی تربیت کا بڑا کردار ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے انسان کے جسم میں ایک لوتھڑا ہے اگر وہ صحیح ہو جائے تو سارا بدن صحیح ہو جاتا ہے وہ اگر بگڑ جائے تو سارا بدن بگڑ جاتا ہے وہ انسان کا دل ہے یاد رکھیئے دل تمام جسم کا بادشاہ ہے اور جسم کے تمام اعضاء اس کی رعایا ہیں دل جو کچھ حکم دے گا اعضاء وہی کریں گے اس لیے دل میں اگر ایمان آ جائے تو ہاتھوں اور پیروں سے اسلام نکلے گا ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ دل میں ایمان ہو اور ہاتھوں اور پیروں سے کفر نکلے اس لئے ضرورت ہے کہ انسانوں کے دلوں پر محنت کی جائے 

ہوا و حرص والا دل بدل دے

  میرا غفلت میں ڈوبا دل بدل دے