(29)مضمون
بسم اللہ الرحمن الرحیم
"علم و تہذیب — انسانیت کی اصل قوتِ حیات"
_________________
دنیا میں انسان اور حیوان کے درمیان سب سے بڑا امتیاز علم ہے۔ علم ہی وہ روشنی ہے جو دلوں کی تاریکی کو مٹاتی ہے، عقل کو جِلا دیتی ہے، اور انسان کو آسمانِ عظمت پر فائز کرتی ہے۔ جس قوم کے پاس علم کی دولت اور تہذیب کی روشنی ہو، وہ زندہ و تابندہ رہتی ہے۔ اور جو قوم علم سے منہ موڑ لے، وہ زوال اور غلامی کے اندھیروں میں گم ہو جاتی ہے۔
آئیے! اب الفاظ سے آگ کی مانند نہیں بلکہ عمل کی روشنی جلائیں — ایسی روشنی جو دلوں کو منور کرے، ذہنوں کو بیدار کرے اور کرداروں کو مضبوط بنائے۔ ہمیں تلوار کے سائے میں نہیں، علم کی روشنی میں کھڑا ہونا ہے؛ ہمیں جارحیت میں نہیں، ثابت قدمی اور عزتِ نفس میں عظمت حاصل کرنی ہے۔ جب ہماری نسلیں نصابِ علم سے آراستہ ہوں، عدل و انصاف کو گھر گھر پہنچائیں، اور ہر کس و ناکس کے لیے عزت اور وقار کی راہ ہموار کریں — تب دشمنی کے یہ بھی بہانے خود ختم ہو جائیں گے اور غلامی کے باقی نام و نشان مٹ جائیں گے؛
ہم وہ قوم بنیں جو خوف سے پاک ہو، مگر نرم دلی اور انسانیت کی پاسبان بھی ہو؛ جو مرنے سے نہ ڈرے مگر زندگی کو عزت سے گزارنے کا ہنر جانتا ہو۔ یہی وہ قوت ہے جو دنیا کو بدلتی ہے — نہ لہو کی تڑپ سے، بلکہ سچائی، علم، حوصلہ اور اخلاق کے ذریعے۔چنانچہ قرآنِ کریم نے سب سے پہلے انسان کو "پڑھنے" کا حکم دیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
> اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ
“پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا” (العلق)
یہی پہلا حکمِ الٰہی اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کی بنیاد ہی علم پر رکھی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم کے ذریعے اشرف المخلوقات بنایا۔
ارشادِ ربانی ہے:
> يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ
“اللہ ایمان والوں اور علم دیے گئے لوگوں کو بلند درجے عطا فرماتا ہے۔” (المجادلہ: 11)
یہ بلندی صرف دنیاوی عزت نہیں، بلکہ روحانی رفعت اور تہذیبی عظمت کی علامت ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
> طلب العلم فريضة على كل مسلم
“علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔” (ابن ماجہ)
آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا:
> العلم نور يهدي به الله من يشاء
“علم ایک روشنی ہے، جس کے ذریعے اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔”
یعنی علم وہ چراغ ہے جو نہ صرف ذہن کو منور کرتا ہے بلکہ کردار اور تہذیب کو بھی سنوارتا ہے۔
علم اور تہذیب کا باہمی رشتہ یہ ہے کہ؛
علم اگر روشنی ہے تو تہذیب اس روشنی کا عکس ہے۔ علم انسان کو عقل دیتا ہے، مگر تہذیب اس عقل کو حسن عطا کرتی ہے۔
علم کے بغیر انسان گمراہ ہو سکتا ہے، اور تہذیب کے بغیر علم ایک تیز ہتھیار بن جاتا ہے جو انسانیت کو زخمی کرتا ہے۔
جب علم اخلاق، حلم اور عدل کے ساتھ جڑتا ہے تو تہذیب جنم لیتی ہے۔
اسلامی تہذیب اسی امتزاج کا نام ہے — علمِ قرآن، فکرِ عدل، کردارِ نبوت، اور خدمتِ خلق۔
اسلامی تہذیب کا سنہرا دور
جب مسلمانوں نے علم کو اپنا شعار بنایا، تو دنیا ان کے قدموں میں تھی۔
قرطبہ، بغداد، سمرقند، غرناطہ، اور دہلی علم و فن کے مینار بن گئے۔
مسلمان سائنس دانوں، فلسفیوں اور محدثین اور مفسرین نے ایسی بنیادیں رکھیں جن پر آج کی دنیا کا سارا علمی ڈھانچہ قائم ہے۔
ابنِ سینا، خوارزمی، ابنِ رشد، جابر بن حیان، البیرونی — یہ سب اس علم و تہذیب کی زندہ مثالیں ہیں جو ایمان کے نور سے روشن تھی۔
علم سے محرومی زوال کی جڑ ہے
جب امت نے علم کو چھوڑا، اور تقلیدِ کور میں پڑ گئی، تو زوال شروع ہوا۔
قرآن نے تنبیہ فرمائی:
> قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
“کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو نہیں رکھتے؟” (الزمر: 9)
جہالت انسان کو غلام بناتی ہے، جبکہ علم اسے آزاد کرتا ہے۔
اسی لیے امام غزالیؒ نے فرمایا:
> “علم وہ قوت ہے جس سے مردہ قوموں میں زندگی کی حرارت پیدا ہوتی ہے۔”
علم: قوتِ حیات کا سرچشمہ ہے
جس دل میں علم کا نور ہوتا ہے، وہاں حیات کی تازگی رہتی ہے۔
علم انسان کو اپنے مقصدِ وجود سے روشناس کراتا ہے، اور تہذیب اسے انسانیت کی راہ پر استوار کرتی ہے۔
علم کے بغیر ایمان کی پختگی ممکن نہیں، اور تہذیب کے بغیر علم کا حسن باقی نہیں رہتا۔
یہی دونوں مل کر قوتِ حیات بنتے ہیں — وہ قوت جو انسان کو جہالت، تعصب اور فتنوں سے بچاتی ہے، اور امت کو عزت و وقار کے راستے پر لے جاتی ہے۔
آج ضرورت ہے کہ ہم علم کے چراغ دوبارہ روشن کریں، اپنے گھروں، مدرسوں اور اداروں کو علم و تہذیب کا مرکز بنائیں۔
اپنی نئی نسل کو صرف کتابی علم نہیں بلکہ اخلاقی تربیت بھی دیں، تاکہ وہ روشنی پھیلانے والے بنیں، نہ کہ اندھیرے بڑھانے والے۔
اے اللہ! ہمیں علمِ نافع عطا فرما، جہالت کے اندھیروں سے نکال،
ہماری نسلوں کو علم، ایمان، اور تہذیب کے نور سے منور کر،
اور ہمیں ان قوموں میں شامل فرما جو علم کی روشنی سے دنیا میں روشنی پھیلاتی ہیں،
اور آخرت میں تیرے قرب کی سعادت پاتی ہیں۔
آمین یا رب العالمین۔
بقلم: محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com