بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الحمدللہ و کفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی
اما بعد
ہر قوم کا اپنا اپنا ایک بنیادی نشان ھوتا ھے
ٹھیک اس طرح مسلمانوں کا امتیازی نشان دن رات میں پانچ دفعہ اپنے رب کے آگے با وضوء ہوکر اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور اپنے رب کی رحمت طلب کرنا
مسلمانوں کے لئے یہ پانچ نمازیں اتنی ضروری ہیں کہ ان میں سے کسی کو بھی جان بوجھ کر چھوڑ دی جاۓ تو اسکے متعلق حضور صلی االلہ علیہ وسلم نے فرمایا
من ترك الصلاۃ متعمدا فقد کفر
نماز اہم ترین فریضہ ہے اور اسلام کا دوسرا رکن ہے نماز کی اہمیت اور فضیلت احادیث سے ثابت ھوتی ہے اور ترک کرنے پر وعید آئی ہے
وعن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ ذکر صلوۃ یوم فقال مں حافظ علیہا کانت له نورا و برھان و نجاۃ یوم القیامہ ومن لم یحفظ علیہا لم یکن لہ نورا ولا برھان و لا نجاۃ وکان یوم القیامہ مع قارون و فرعون و ھامان و ابی بن خلف ( مسند احمد)
اس طرح فتاویٰ شامی کی ایک عبارت پیش خدمت ہے
ھی فرض عین علی کل مکلف
فتاویٰ شامی جلد ۱ صفحہ نمبر۳۵۱)
ازل کی پہلی ساعت سے لے کر ابد کے آخری لمحے تک یہ پوری کائنات سراپا سجدہ ہے۔ افلاک کی گردش ہو یا ذروں کی خاموش تسبیح، سب ایک ہی مرکزِ بندگی کے گرد محوِ طواف ہیں۔ کہکشائیں بے صدا سر جھکائے ہوئے ہیں، ہوائیں ذکر میں مصروف ہیں اور دریا اطاعت کے نغمے گنگنا رہے ہیں۔ ان سب کے درمیان انسان جسے اشرفُ المخلوقات کا شرف عطا ہوا، اگر کسی وصف سے ممتاز ہے تو وہ معرفتِ الٰہی اور شعوری بندگی ہے۔
نماز چند حرکات و سکنات کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ روحانی معراج ہے جہاں بندہ اپنی خودی کو مٹا کر ربِّ کائنات کی کبریائی میں فنا ہو جاتا ہے۔ یہ وہ نورِ جاوداں ہے جو قبر کی تاریکی میں چراغ بنتا ہے اور حشر کی تپش میں سایہ۔ مگر المیہ یہ ہے کہ آج کا انسان، خصوصاً مسلمان، اس چشمۂ حیات سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اذان کی صدا اب بھی فضاؤں کو معطر کرتی ہے مگر دلوں کے قفل نہیں کھلتے۔ مسجدیں کھلی ہیں مگر صفیں خالی؛ محرابیں قائم ہیں مگر سجدوں کی آہٹ مفقود۔
بقولِ شاعر؎
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترے دل کو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں
بے نمازی کے اسباب
نماز سے دوری محض وقتی غفلت نہیں بلکہ ایمان کی جڑوں میں لگی وہ خاموش دیمک ہے جو رفتہ رفتہ فرد، خاندان اور پورے معاشرے کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اس کی سب سے نمایاں وجہ حبِّ دنیا اور مادی جکڑن ہے۔ آج کل دنیا طرح طرح کے فتنوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے، ان سب فتنوں میں ایک بنیادی اور بڑا فتنہ ’’پیٹ‘‘ کا ہے۔ شکم پروری وتن آسانی زندگی کا اہم ترین مقصد بن کر رہ گیا ہے، ہر شخص کا شوق یہ ہے کہ لقمۂ تراس کی لذتِ کام ودہن کا ذریعہ بنے اور یہ فتنہ اتنا عالمگیر ہے کہ بہت کم افراد اس سے بچ سکے ہیں، تاجر ہویا ملازم، اسکول کا ٹیچر ہو یا کالج کاپروفیسر، دینی درس گاہ کامدرس ہو یا مسجد کا امام اس آفت میں سبھی مبتلا نظر آتے ہیں، ہاں فرقِ مراتب ضرور ہے۔ زہدوقناعت، ورع وتقویٰ اور اخلاص وایثار جیسے اخلاق وفضائل اور ملکات کا نام ونشان نہیں ملتا، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج کا پورا عالم سازو سامان کی فراوانی کے باوجود حرص وآز، طمع ولالچ اور زر طلبی وشکم پروری کی بھٹی میں جل رہا ہے اور کرب واضطراب، بے چینی وبے اطمینانی اور حیرت وپریشانی کا دھواں ہر چہار سمت پھیلا ہوا ہے۔ دراصل اس فتنۂ جہاں سوز کا بنیادی سبب یہی ہے جس کی نشاندہی رحمۃ للعالمین نے فرمائی، آخرت کا یقین بے حد کمزور اور آخرت کی نعمتوں اور راحتوں کا تصور قریباً ختم ہوچکا ہے، جب آخرت کی خوف ہی دل سے نکل گیا تو نماز جیسے فریضہ سے بھی آج کے نوجوان غافل ہوگئے جب انسان رزق کی دوڑ میں رازق کو بھول جائے تو محنت تو باقی رہتی ہے مگر برکت اٹھ جاتی ہے۔ قرآن کریم صاف لفظوں میں متنبہ کرتا ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ (المنافقون: 9) اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد (نماز) سے غافل نہ کر دیں۔ایمان کی کمزوری بھی بے نمازی کا ایک بنیادی سبب ہے۔ کمزور ایمان سجدے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ جب دل میں آخرت کی جواب دہی، قبر کی تنہائی اور قیامت کی پیشی کا احساس مدھم پڑ جائے تو نماز اختیاری عمل محسوس ہونے لگتی ہے۔ اسی طرح علمِ دین سے ناواقفیت بھی ایک بڑا سبب ہے۔ بہت سے لوگ اس لیے بے نماز نہیں کہ وہ باغی ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ نماز کی حقیقت، اس کی عظمت اور ترک کے انجام سے واقف نہیں۔گناہوں کی کثرت اور دل کا زنگ بھی نماز سے دوری کا باعث بنتا ہے۔ مسلسل نافرمانی دل پر ایسی تہہ جما دیتی ہے کہ نورِ ہدایت اندر اترنے سے رک جاتا ہے، پھر سجدہ بوجھ بن جاتا ہے اور عبادت رسمی حرکت۔ قرآن فرماتا ہے:كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ (المطففین: 14) ہرگز نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے، خاندانی تربیت کی کمی بھی نہایت اہم سبب ہے۔ گھر وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں سجدے کا ذوق پیدا ہوتا ہے۔ جب والدین خود نماز سے غافل ہوں تو اولاد سے شکوہ بے معنی ہو جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ (سنن ابی داؤد) اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہو جائیں۔
بے نمازی کے عبرت ناک اثرات
نماز چھوڑنا محض ایک فریضہ ترک کرنا نہیں بلکہ دین کی بنیادوں کو منہدم کر دینے والا زلزلہ ہے۔ اس کا پہلا اثر ایمانی شناخت کا بحران ہے۔ نماز ایمان کی پہچان ہے اور اس کے بغیر باقی تمام دعوے کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ (صحیح مسلم) آدمی اور شرک و کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑنا ہے۔دوسرا اثر دین کی بنیاد کا خاتمہ ہے۔ نماز دین کا ستون ہے، اور جب ستون گر جائے تو عمارت باقی نہیں رہتی۔ تیسرا اثر معاشرتی بے حیائی اور اخلاقی زوال ہے۔ جب نماز کا نور معاشرے سے اٹھ جاتا ہے تو فحاشی، ظلم اور ناانصافی عام ہو جاتی ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے:إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ (العنکبوت: 45)۔ بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔چوتھا اثر رزق کی بے برکتی اور قلبی تنگی ہے۔ اللہ کی یاد سے اعراض صرف معاشی تنگی نہیں بلکہ دل کی گھٹن بھی پیدا کرتا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا (طہ: 124) اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا، اس کے لیے تنگ زندگی ہے۔
اللہ
پاک فرماتا هے: فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ترجَمۂ کنزُالایمان: تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں(ضائع کیں)اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غیّ کا جنگل پائیں گے ۔ (پ16،مریم: 59)
بیان کردہ آیتِ مبارکہ میں غی کا تذکره ہے۔ حصرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: غی جھنم میں ایک وادی ہے جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زیاده ہے ۔ اس میں ایک کنواں ہے اس کا نام ہب ہب ہے۔جب جھنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے، الله پاک اس کنویں کو کھول دیتا ہے جس سے وه بدستور (پہلے کی طرح) بھڑکنے لگتی ہے۔
الله پاک فرماتا ہے:جب بجھنے پرآئے گی ہم اور بھڑک زیاده کریں گے۔
یہ کنواں بے نمازیوں اور زانیوں اور شرابیوں اور سود خوروں اور ماں باپ کو ایذادینے والوں کے لیے ہے۔
مکی مدنی آقا صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا :جس نے فرض نمازیں بغیر عذر کے چھوڑیں تو اس کا عمل ضائع ہوگیا۔(مصنف ابن ابی شیبہ، ج8، ص223،حدیث 29)
بے نمازی کی عمر سے برکت ختم کر دی جاے گی،اس کی دعا آسمان تک نہ پہنچے گی اور نیک بندوں کی دعاؤں میں اس کا کوئی حصہ نہ ہو گا۔
نماز نا پڑھنے کے دینی و دنیاوی بہت سے نقصانات ہیں
نماز نہ پڑھنے کے پانچ دنیاوی نقصانات
👇
1)نظم و ضبط سے محرومی :
باجماعت نماز ادا کرنے کے خاصیات میں سے ایک اہم ترین خاصہ نظم و ضبط ہے۔ کہ جب تمام مقتدی ایک امام کے پیچھے شروع تا آخر مل کر نماز ادا کرتے ہیں تو دیکھنے اور عمل کرنے والے دونوں کو نظم و ضبط کا بہترین درس ملتا ہے ۔ لیکن نماز سے دور رہنے سے ممکن ہے کہ زندگی سے نظم و ضبط دور ہو جائے اور زندگی کا ہر پہلو بے ترتیب نظر آئے ۔
(2) تکبّر :
با جماعت نماز ادا کرنے کا ایک سب سے بڑا فائدہ تکبّر کا خاتمہ بھی ہے کہ ایک ہی صف میں امیروغریب دونوں ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو دل و دماغ سے یہ خیال بھی دور ہوتا ہے کہ میں امیر ہوں مجھے سب سے آگے اورالگ کھڑا کیا جائے بلکہ سب کندھے سے کندھا ملائے ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ لیکن بے نمازی اس عظیم درس سے محروم اور تکبّرانہ زندگی گزارنے میں مصروف غفلت کی چادر اوڑھے رہتا ہے۔
( 3) وقت کی لا پرواہی : نماز وقت پرادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے گویا یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اپنا ہر کام مقرّرہ وقت پر کیا جائے ۔ اسی لیے نمازی اپنی روزمرّہ زندگی کو نماز کے اوقات کے ساتھ مرتّب کرتا ہے ۔ مثلًا ظہر کے بعد فلاں کام کرنا ہے ، عصر کے بعد فلاں جگہ جانا ہے وغیرہ ۔ لیکن بےنمازی کو نقصان کا ایک خدشہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ وقت کی پابندی نہ کر سکے اور زندگی کے معاملات عجیب و غریب ترتیب پر ہوں ۔
(4) ۔حقوق العباد میں کوتاہی : نماز خالصًا رب تعالٰی کی رضا پانے کے لیے ادا کی جاتی ہے اور حقوق اللہ میں سے ایک حق نماز بھی ہے۔ لیکن جو شخص حقوق اللہ ادا نہ کرتا ہو بھلا وہ حقوق العباد کیسے ادا کرے گا ؟ ایسے شخص پربھروسہ کرنا بھی مشکل اور ممکن ہے کہ بے نمازی حقوق العباد میں کوتاہی کے سبب دنیا والوں کے سامنے بھی برا ہو جائے اور آخرت کا معاملا بھی برا ہو ۔
(5) ۔بیماریوں کا خدشہ : نماز ادا کرنے کے لیے وضو لازم ہےاور وضو کرنا جسمانی بیماریوں کے خاتمے کا سبب ہے ۔ مثلًا ہائی بلڈ پریشر، ڈپریشن ، فالج ، پاگل پن ، جلد کی بیماریاں، آنکھ کی بیماریاں وغیرہ ۔ جو شخص نماز کا تارک ہو تو خدشہ ہے کہ وہ وضو جیسے بابرکت عمل سے محروم ہونے کی وجہ سے مختلف امراض میں مبتلا ہو جاۓ۔ اسی لیے بلاشبہ یہ بھی نماز نہ پڑھنے کا ایک دنیاوی نقصان ہے۔
اصلاحِ احوال اور نویدِ سحر کا لائحۂ عمل
یہ مرض نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل عمل، منظم دعوت اور فکری بیداری سے ختم ہوگا۔ سب سے پہلے معیارِ نماز کی درستگی ضروری ہے۔ نماز کو زندہ کرنے کے لیے اسے سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ادا کرنا ہوگا۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي (صحیح بخاری) نماز اس طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔اس کے لیے مساجد میں اصلاحی اور تربیتی نشستیں منعقد کی جائیں۔ دوسرا قدم دعوتِ صلوٰۃ ہے۔ نماز ذاتی عبادت ضرور ہے مگر اس کی دعوت اجتماعی ذمہ داری ہے۔ قرآن فرماتا ہے:وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا (طہ: 132) ترجمہ: اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو بچوں کو نماز کا پابند بنانا والدین کی ایک اہم ترین ذمہ داری ہے جس کے لیے صبر، حکمت اور مسلسل رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بچوں کو نماز سکھانے کے لیے درج ذیل اہم نکات پیشِ نظر رکھیں:
عملی نمونہ بنیں: بچے نصیحت سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں۔ جب والدین خود وقت پر نماز کا اہتمام کریں گے، تو بچے قدرتی طور پر اس کی اہمیت کو محسوس کریں گے۔
عمر کا لحاظ:
7 سال: حدیثِ مبارکہ کے مطابق جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اسے نماز کا حکم دیں۔ اس عمر میں انہیں پیار سے نماز کے طریقے، وضو اور ضروری سورتیں سکھائیں۔
10 سال: اگر بچہ دس سال کی عمر تک پہنچنے کے باوجود سستی کرے، تو اسے تادیبی طور پر ہلکی تنبیہ کی جا سکتی ہے تاکہ وہ اس کی فرضیت کو سمجھے۔
تشویق اور انعامات: بچوں کو نماز کی طرف مائل کرنے کے لیے انعام کا طریقہ کار اختیار کریں۔ مثلاً، ہفتہ بھر پانچ وقت کی نماز پڑھنے پر ان کی پسند کی کوئی چیز دلائیں۔
نماز کو بوجھ نہ بنائیں: شروع میں بچوں کے لیے نماز کے ماحول کو خوشگوار بنائیں۔ انہیں نماز کی اہمیت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کے بارے میں کہانیاں سنائیں، جیسے واقعہ معراج کا تذکرہ کریں۔
مختصر نصاب سکھائیں: وضو کے فرائض، نماز کی رکعات، اور چھوٹی چھوٹی صورتیں و غیرہ ۔تیسرا قدم بچوں اور بڑوں کے لیے منظم دینی نظام کا قیام ہے۔ بچوں کو مکاتب سے جوڑا جائے اور بڑوں کے لیے دینی اجتماعات اور اصلاحی مجالس قائم کی جائیں۔ چوتھا قدم تعلیمی اداروں میں فکری محنت ہے تاکہ نئی نسل شعوری نمازی بنے۔ پانچواں قدم سوشل میڈیا اور جدید ذرائع کے ذریعے عالمگیر تحریک کا آغاز ہے، علماء کے بیانات پر مشتمل مخصوص چینلز قائم کیے جائیں اور مختلف زبانوں میں دعوتی پیغامات عام کیے جائیں۔ آخری اور فیصلہ کن قدم ذہن سازی ہے کہ اگر ہم سو فیصد نمازی بن گئے تو عزت، قیادت اور غلبہ ہمارا مقدر بن جائے گا۔
یاد رکھیے! ہماری عزت، ہماری بقا اور ہمارا غلبہ سجدوں کی آباد کاری میں مضمر ہے۔ جس دن ہماری پیشانیاں پھر سے ربِّ کائنات کے حضور جھک گئیں، اسی دن امتِ مسلمہ کا کھویا ہوا وقار واپس آ جائے گا۔
ایک شاعر کہتا ہے
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
تمت بالخیر۔۔💫