۱۵ شعبان کے روزے کا حکم اور اس کی فضیلت!!
03 فروری، 2026
پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا مستحب ہے ،حدیث شریف سے ثابت ہے، اسے ناجائز سمجھنا اور اس دن روزہ والوں کو طعنہ دینا یا اس دن کے روزے کو لازم سمجھنا اور نہ رکھنے والوں کو طعنہ دینا یہ سب افراط و تفریط اور غلط ہے، باقی اس کی کوئی الگ فضلیت نہیں ہے ، لہذااگر کوئی پندہ شعبان کا روزہ رکھنا چاہتاہے تو رکھ سکتا ہے ۔ سنن ابنِ ماجہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
"اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان کی رات ہو تو رات کو عبادت کرو اور آئندہ دن روزہ رکھو، اس لیے کہ اس میں غروبِ شمس سے طلوعِ فجر ہونے تک آسمانِ دنیا پر اللہ تعالیٰ نزول فرماتے ہیں اور یہ کہتے ہیں :ہے کوئی مغفرت کا طلب گار کہ میں اس کی مغفرت کروں! ہے کوئی روزی کا طلب گار کہ میں اس کو روزی دوں! ہے کوئی بیمار کہ میں اس کو بیماری سے عافیت دوں ہے ! یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے "۔
"سنن ابن ماجه"میں ہے:
"عن عليِّ بن أبي طالبٍ-رضي الله عنه- قال: قال رسول الله - صلّى الله عليه وسلّم -: "إذا كانتْ ليلةُ النصف من شعبانَ فقومُوا ليلَها وصومُوا نهارَها، فإنّ الله ينزِلُ فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا، فيقول: أَلا من مستغفِرٍ لي فأغفِرَ له، أَلا مسترزِقٍ فأرزُقَه، أَلا مُبتلًى فأُعافيَه، أَلا كذا أَلا كذا، حتّى يطلعَ الفجرُ".
(أبواب إقامة الصلوات والسنة فيها، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان، ج:2، ص:399، رقم:1388، ط:دار الرسالة العالمية)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"(المرغوبات من الصيام أنواع) أولها صوم المحرم والثاني صوم رجب والثالث صوم شعبان وصوم عاشوراء، وهو اليوم العاشر من المحرم عند عامة العلماء والصحابة - رضي الله تعالى عنهم."
(کتاب الصوم ، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم و ما لایکرہ جلد: ۱، ص : ۲۰۲، ط : دارالفکر)
فقط والله أعلم
مفتی صادق امین قاسمی