(28)مضمون
:بسم اللہ الرحمن الرحیم :
_________________
مکاتب کی اہمیت اور اس کا فکر:.
_________________
آج کے فتنہ خیز دور میں، جب ایمان کے چراغ بجھانے کے لیے ہر سمت سے سازشوں کے طوفان اٹھ رہے ہیں، ہر درد مند دل یہ سوال کرتا ہے کہ ہماری نئی نسل کہاں جا رہی ہے؟ ہمارے بچوں کے دلوں سے اسلام کی محبت کیوں ماند پڑ گئی ہے؟ ان کے چہروں سے سجدے کی چمک، زبان سے قرآن کی مٹھاس، اور دلوں سے ایمان کی حرارت کیوں کم ہو گئی ہے؟
اس زوال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے مکاتب کی اصل روح کھو دی ہے۔
وہ مکاتب جو کبھی ایمان کے قلعے، کردار کے چراغ اور امت کے مستقبل کے نگہبان ہوا کرتے تھے، آج اکثر رسمی اداروں میں بدل گئے ہیں۔ چند گھنٹوں کی تدریس، ناظرہ قرآن کے چند اسباق — اور بس! نتیجہ یہ کہ بچہ قرآن پڑھ تو لیتا ہے مگر قرآن اس کے دل میں نہیں اترتا۔
اسلام میں تعلیم و تربیت کی بنیاد مسجد سے رکھی گئی۔
مسجد نہ صرف عبادت کا مرکز ہے بلکہ ایمان، علم اور اخلاق کی تربیت کا سرچشمہ بھی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے جب مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی قائم کی تو اسی کے ساتھ تعلیم و تدریس کا نظام بھی شروع فرمایا۔ وہی مکتبِ نبوی تھا جہاں سے ایمان کی روشنی پھیل کر دنیا کو منور کر گئی۔
آج جب فتنوں کا سیلاب ہر طرف سے امڈ آیا ہے، ایمان و عقیدہ پر حملے ہو رہے ہیں، اور مغربی تہذیب اسلامی اخلاق کو بہا لے جانے کے درپے ہے، تو مکاتب کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہی وہ قلعے ہیں جن میں ہماری نسلوں کے ایمان کی حفاظت ممکن ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> "قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا"
(التحریم: 6)
"اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔"
یہ آیت واضح طور پر والدین، اساتذہ اور اہلِ ایمان سب کو تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سونپتی ہے۔ گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کا مطلب یہی ہے کہ ان کے عقیدہ و ایمان کی حفاظت کی جائے — اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب قرآن و سنت کی تعلیمات بچپن سے ہی دلوں میں راسخ کی جائیں۔
مگر افسوس کہ ہم نے اس فریضے کو یا تو بھلا دیا ہے یا اسے صرف خطبوں اور وعظوں تک محدود کر دیا ہے۔
آج کے بیشتر اسکولوں میں بچوں کے سامنے ایسے افکار و تصورات رکھے جا رہے ہیں جو انہیں ایمان اور اسلام سے دور لے جاتے ہیں۔
کبھی "آزادیِ فکر" کے نام پر مذہب کا مذاق اڑایا جاتا ہے، کبھی "برابری" کے نام پر حجاب اور حیاء کو جبر قرار دیا جاتا ہے، اور کبھی "جدیدیت" کے پردے میں لادینیت کو ذہنوں میں اتارا جاتا ہے۔
ایسے ماحول میں اگر مکاتب مضبوط، بامقصد اور باعمل نہ ہوئے تو ہم اپنی آنے والی نسل کو ایمان کے میدان میں اکیلا چھوڑ دیں گے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> "مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ"
(سنن ابی داود)
"جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز کا حکم دو۔"
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ دینی تربیت کی ابتدا بچپن ہی سے ہونی چاہیے — اور یہی مکتب کا اصل مقصد ہے: بچوں کے دلوں میں ایمان، نماز، قرآن اور اخلاقِ اسلامی کو راسخ کرنا۔
مؤثر مکتب کے لیے ضروری اصول
1. عقیدہ و ایمان کی بنیاد:
بچوں کو توحید، رسالت، آخرت اور ایمان کے بنیادی ارکان سکھائے جائیں۔
2. قرآن سے محبت:
ناظرہ کے ساتھ ترجمہ و مفہوم کی آسان تشریح ہو تاکہ قرآن دل میں اتر جائے۔
3. اخلاقی تربیت:
سچائی، امانت، حیا، احترامِ والدین و اساتذہ، عدل اور خدمت کا شعور دیا جائے۔
4. عملی ماحول:
مکتب میں نماز، اذکار اور اسلامی آداب کا عملی نظم ہو۔
5. اساتذہ کی تربیت:
معلمین کے لیے تربیتی نشستیں ہوں تاکہ وہ علمی و اخلاقی طور پر مضبوط ہوں
6. والدین کا تعاون:
مکتب اور والدین کا تعلق گہرا ہو تاکہ گھر اور مکتب دونوں تربیت میں ہم آہنگ رہیں۔
7.عصرِ حاضر کے تقاضے :
بچوں کو جدید فتنوں — انٹرنیٹ، موبائل، لبرل ازم وغیرہ — سے آگاہ اور محفوظ رکھنے کی تربیت دی جائے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
> "وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِ"
(البقرہ: 231)
"اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اُس نے تم پر نازل کی — یعنی کتاب و حکمت — جس کے ذریعے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔"
اگر قرآن و سنت ہماری نسلوں کی تربیت کا مرکز بن جائیں تو یہی مکاتب ایمان کے قلعے، تہذیب کے مدرسے اور امت کے روشن چراغ بن جائیں گے۔
مکتب محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے مستقبل کا محافظ ہے۔
اگر مکتب مضبوط ہوگا تو مسجد آباد ہوگی، مسجد آباد ہوگی تو دل آباد ہوں گے، اور جب دل آباد ہوں گے تو امت کا ایمان زندہ رہے گا۔
لہٰذا ہر امام، ہر والدین، ہر عالم اور ہر محلے کے ذمہ دار پر لازم ہے کہ وہ مکاتب کے نظام کو نئی روح عطا کریں —
علم کے ساتھ محبت، تربیت کے ساتھ کردار، اور ایمان کے ساتھ شعور۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے مکاتب قائم کرنے کی توفیق دے جو امت کے ایمان، کردار اور تہذیب کی حفاظت کا ذریعہ بنیں۔
آمین یا رب العالمین۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com