(6)مضمون

 ______-_-_______

بسم اللہ الرحمن الرحیم

_________________

مشکل ازدواجی حالات میں صبر اصلاح. اور شرعی رہنمائی

    سوال:

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته

حضور! میرا ایک مسئلہ ہے جس پر میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔

کسی کا نکاح ایک ایسی لڑکی سے ہوا جس کے بارے میں اس کے گھر والے اور دوست سبھی منع کر رہے تھے، لیکن اس نے جذبات میں فیصلہ کیا۔ نکاح کے بعد حالات سخت خراب ہو گئے ہیں۔ بیوی اور اس کے گھر والے بار بار بدزبانی اور بے عزتی کرتے ہیں، اور اس کے خاندان والے بھی ساتھ نہیں دیتے کیونکہ وہ پہلے ہی اس نکاح کے خلاف تھے۔

اب اس کی حالت یہ ہے کہ:

1. اگر طلاق دے تو بیوی کی طرف سے جھوٹے مقدمات اور دھمکیوں کا خطرہ ہے۔

2. اگر طلاق نہیں دے تو یہ رشتہ اس کے لیے زندگی بھر کا بوجھ اور شرمندگی بن جاتا ہے۔

3. دوسری شادی بھی اس حالت میں ممکن نہیں۔

براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ ایسے حالات میں اس کے لیے شرعی طور پر صحیح راستہ کیا ہے؟

اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

        والسلام

جواب:

از قلم محمودالباری mahmoodulbari342@gmail.com 8292552391 

       ( نوٹ) 

یہ تحریر محض علمی مشورہ ہے، اسے فتویٰ  ہرگز نہ سمجھا جائے۔

شرعی فتویٰ کے لیئے مستند دارالافتاء سے رجوع فرمایا جائے

...... 

الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ، اما بعد:

یہ مسئلہ چند پہلوؤں سے سمجھنا ضروری ہے:

1. نکاح میں مشورہ اور تحقیق کی اہمیت

اسلام نے نکاح کے وقت دین داری، اخلاق، خاندان اور ماحول دیکھنے کی تلقین کی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اگر کوئی شخص تمہارے پاس نکاح کا پیغام بھیجے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس سے نکاح کر دو۔" (ترمذی)

اور فرمایا:

"عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے: مال، حسب و نسب، حسن اور دین۔ تم دیندار کو ترجیح دو۔" (بخاری و مسلم)

یہاں جذباتی فیصلہ کرنا اور گھر والوں کے مشورے کو نظر انداز کرنا غلطی تھی۔

2. ازدواجی اختلافات

اگر بیوی اور اس کے اہلِ خانہ کی طرف سے بدزبانی اور بے عزتی کا سلسلہ ہو تو یہ شوہر کے لیے سخت آزمائش ہے۔

قرآن کا اصول ہے:

"فَإمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ"

(یا تو اچھے طریقے سے ساتھ رکھو یا اچھے طریقے سے جدا ہو جاؤ) [البقرة:229]

3. اصلاح اور صبر کی کوشش

بیوی کے ساتھ نرم روی اور حکمت اختیار کی جائے۔

اگر جھگڑا بڑھے تو ثبوت محفوظ رکھے جائیں۔

کسی نیک نیت بزرگ یا عالم کو بیچ میں ڈال کر صلح کی کوشش کی جائے۔

قرآن کا حکم ہے:

"فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا"

(شوہر اور بیوی کے گھر والوں سے ایک ایک ثالث مقرر کرو) [النساء:35]

4. بدزبانی اور عزت کا تحفظ

سخت کلامی کے باوجود ہاتھ نہ اٹھایا جائے تاکہ جھوٹے مقدمات کا خطرہ نہ ہو۔

بدزبانی اور دھمکیوں کے آڈیو، ویڈیو اور تحریری ثبوت محفوظ کیے جائیں۔

تنہائی میں ایسا موقع نہ دیا جائے جس سے الزام لگنے کا خطرہ ہو۔

   5. طلاق کی صورت

اگر اصلاح کی ہر کوشش ناکام ہو جائے تو طلاق اسلام میں جائز اور آخری حل ہے۔

طلاق عدل و احسان کے ساتھ دی جائے۔

مہر اور عدت کا خرچ ادا کیا جائے۔

قانونی طور پر وکیل کے مشورے سے کاغذات تیار کیے جائیں۔

6. جھوٹے کیسز سے بچاؤ

ہندوستانی قانون کے مطابق اکثر خواتین 498A (Domestic Violence & Dowry Harassment) کے تحت کیس دائر کرتی ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے:

لین دین اور تحائف کی رسیدیں محفوظ رکھی جائیں۔

جھگڑوں کے ثبوت جمع کیے جائیں۔

وکیل کے مشورے سے پہلے ہی قانونی تیاری کر لی جائے۔

7. دوسری شادی

اگر پہلی بیوی کے ساتھ نباہ نہ ہو سکے اور علیحدگی ہو جائے تو دوسری شادی جائز ہے۔

شرط یہ ہے کہ پہلی بیوی کے حقوق ادا کیے جائیں۔

دوسری شادی میں دین داری اور کردار کو ترجیح دی جائے۔

   🔸 عملی چیک لسٹ

✅ اللہ سے توبہ اور استغفار

✅ صبر و حکمت سے اصلاح کی کوشش

✅ ثالثی اور بزرگوں کی شمولیت

✅ ثبوت محفوظ رکھنا

✅ ہاتھ نہ اٹھانا (قانونی خطرہ)

✅ شرعی و قانونی طریقے سے طلاق دینا (آخری حل)

✅ وکیل سے مشورہ اور قانونی تیاری

✅ دوسری شادی میں دین داری کو مقدم رکھنا

............... 

   آخری نصیحت

ایسے شخص کو چاہیے کہ دعا، صبر اور تدبیر کو اپنا ہتھیار بنائے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا ۝ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ"

(جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرتا) [الطلاق:2-3]

لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اگر نباہ ممکن نہ ہو تو شرعی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے علیحدگی اختیار کی جائے، اور آئندہ کے لیے ہر بڑے فیصلے میں دین داری، مشورے اور تحقیق کو لازمی بنایا جائے

 واللہ اعلم بالصواب

والسلام علیکم ورحمة الله وبرکاته