اپنے ہی شہر کا انجان گوشہ
03 فروری، 2026
انسان عجیب مخلوق ہے؛ برسوں ایک ہی بستی میں جیتا ہے، ایک ہی فضا میں سانس لیتا ہے، مگر پھر بھی بعض گوشے ایسے رہ جاتے ہیں جو نگاہوں سے اوجھل، شعور سے ناواقف اور دل سے اجنبی ہوتے ہیں۔
میں بھی تقریباً ایک سال سے پیپاڑ میں مقیم ہوں۔ پیپاڑ صرف ایک قصبہ نہیں، بلکہ ہمارے گاؤں کی تحصیل ہے، یوں کہیے کہ ہمارے گاؤں کے وجود کا پھیلاؤ ہے۔ مگر افسوس کہ اسی پیپاڑ کے اندر ایک ایسی جگہ بھی تھی جس سے میں آج تک ناآشنا تھا۔
واقعہ کچھ یوں پیش آیا کہ ایک دن معمولی سی ضرورت—سموسوں کی طلب—مجھے ایک انجان راستے پر لے گئی۔ میں ایک آدمی کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ راستہ تنگ ہوتا گیا، فضا بوجھل ہوتی گئی، اور ماحول میں ایک انجانی سی گھٹن اترنے لگی۔
اچانک پیچھے سے آواز آئی:
“حضرت! یہاں کیوں آئے ہو؟”
یہ جملہ سوال نہیں، وارننگ تھا—مگر تب تک میں اس دنیا کے دہانے پر قدم رکھ چکا تھا جسے میں جانتا ہی نہ تھا۔
میں جس شخص کے پاس پہنچا، وہ بھی بے اختیار کہہ بیٹھا:
“آپ کا یہاں آنا ٹھیک نہیں، آپ بہت غلط جگہ آ گئے ہیں۔”
مگر حقیقت یہ تھی کہ غلطی جگہ کی نہیں، میری لاعلمی کی تھی۔
وہاں بیٹھے لوگ اچانک چونک گئے۔ کوئی چیزیں چھپانے لگا، کوئی نظریں چرا رہا تھا، اور کوئی مجھے اس طرح گھور رہا تھا گویا میں نے کوئی ناقابلِ معافی جرم کر دیا ہو—جیسے میں قاتل ہوں، یا کسی کی عزت پر ہاتھ ڈال آیا ہوں۔
وہ آنکھیں نہیں تھیں، سوالیہ تیر تھے؛ وہ خاموشی نہیں تھی، الزام تھا۔
چند لمحوں بعد پردہ اٹھا۔ معلوم ہوا کہ وہ کوئی “ویسی تیسی” جگہ نہیں، بلکہ سٹے بازی کا اڈہ تھا—ایک ایسی دنیا جہاں رزق کی برکت ہار میں بدل جاتی ہے، اور محنت کا پسینہ جوئے کے داؤ پر لگا دیا جاتا ہے۔
اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ برائی ہمیشہ دور دراز جنگلوں میں نہیں ہوتی، بعض اوقات وہ ہمارے ہی آنگن کے پیچھے سانس لے رہی ہوتی ہے۔
ہم جن راستوں کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں، وہی راستے کسی معاشرتی زخم کی طرف جاتے ہیں۔
یہ واقعہ میرے لیے محض ایک اتفاق نہیں رہا، بلکہ ایک آئینہ بن گیا—اپنے معاشرے کا بھی، اور اپنی بے خبری کا بھی۔
واقعی!
کبھی کبھی سموسے لینے نکلنے والا انسان، سماج کی تلخ حقیقتوں سے ٹکرا جاتا ہے۔
*برکت اللہ قاسمی عفی عنہ*