بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ

شبِ براءت کی بدعات:
۱:-آتش بازی: آگ قہرِ الٰہی کا نشان ہے، اسی وجہ سے فقہاء نے لکھا ہے کہ قبرستان میں آگ لے جانامنع ہے اور آگ کے ساتھ کھیلنا یہ اہلِ اسلام کا کام نہیں.
نیزیہ آتش بازی ہندوؤں کی مشہور تہوار دیوالی کی نقل ہے۔اور اس کے علاوہ یہ آتش بازی، بم، پھلجھڑی اورپٹاخے پھوڑنا کئی گناہوں کا مجموعہ ہے: ۱:عبادت میں مشغول لوگوں کی عبادت میں بلا وجہ دخل اندازی کا گناہ ہے۔ ۲:اہلِ محلہ اور مریضوں کو بلا وجہ ایذا پہنچانے کا گناہ ہے۔ ۳:اپنی جان کو بلاوجہ خطرے میں ڈالنے کا گناہ ہے۔ ۴:بلاوجہ اسراف کا گناہ ہے، یہ رسم نہ صرف یہ کہ ایک بے لذّت گناہ ہے، بلکہ اس کی دینی ودنیوی تباہ کاریاں بھی ہمیشہ آنکھوں کے سامنے آتی ہیں۔
۲:-چراغاں کرنا:مسجدوں، بازاروں، گھروںاور خاص خاص مقامات کو سجایا جاتا ہے، قمقمے روشن کیے جاتے ہیں، لائٹ کا اضافہ کیا جاتا ہے، ضرورت سے زائدگھروں سے باہر دروازوں پر کئی کئی چراغ روشن کیے جاتے ہیں، اور بعض جگہ تو مکانوں کی چھتوں پر موم بتیاں جلائی جاتی ہیں، اور دیواروںپرقطار در قطارچراغ رکھ دئیے جاتے ہیں، یہ چراغاں اسلامی شعار نہیں، یہ سب بے جا اسراف اور فضول خرچی ہے، اس کو قرآن پاک یوں بیان کرتا ہے: 
’’اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا اِخْوَانَ الشَّیَاطِیْنِ‘‘ (بنی اسرائیل: ۲۷)
ترجمہ: ’’بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔‘‘

۳:-حلوہ: بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دندان مبارک جب شہید ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلوہ نوش فرمایا تھا، اس کی کوئی اصل نہیں۔
۴:- مسجدوں میں اجتماع کا اہتمام:مبارک راتوں میں عبادت کا اہتمام اپنے گھروں میں کرنا چاہیے، بالخصوص شبِ براءت کے موقع پر، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرۂ مبارکہ میں ہی اس رات کی عبادت کی تھی، مسجد میں آپ تشریف نہیں لے گئے تھے، اب اگر اجتماع کا التزام ہو تو وہ بدعت شما رہوگا۔
۵:-نوافل کی جماعت:مبارک راتیں ہوں یا عام دن، عورتوں کا گھروں میں صلوٰۃالتسبیح کی جماعت کرانا اور مردوں کا مسجدمیں صلوٰۃالتسبیح کی جماعت میں شریک ہونا یہ درست نہیں ہے، جبکہ عندالاحناف نوافل کی جماعت نہیں۔
۶:-قبروں پر پھول ڈالنا: حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے قبروں پر پھول اور چادریں چڑھانے کو بدعت قرار دیا ہے۔
۷:-حضرت حمزہ ؓکی فاتحہ: بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت امیر حمزہؓ کی شہادت ان دنوں میں ہوئی ہے، یہ ان کی فاتحہ ہے، اس کی کوئی اصل نہیں۔ کیونکہ آپ ؓکی شہادت کا واقعہ شوال کا ہے، شعبان کا نہیں۔
۸:-مُردوں کی روح: بعض لوگ اعتقادرکھتے ہیںکہ شبِ براءت وغیرہ میں مُردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں اور دیکھتی ہیںکہ کسی نے ہمارے لیے کچھ پکایا ہے کہ نہیں؟ اس کی بھی کوئی اصل نہیں ہے۔
۹:-شبِ براءت کی فاتحہ: بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جب شبِ براءت سے پہلے کوئی مر جائے تو جب تک اس کے لیے فاتحہ شبِ براءت نہ کیا جائے، وہ مُردوں میں شامل نہیں ہوتا، اور صرف اسی پر بس نہیں، بلکہ بعض جگہ پر تو رواج ہے کہ اگر تہوار سے پہلے کوئی مر جائے تو کنبہ بھر میں پہلا تہوار نہیں منایا جاتا ہے، جب کہ حدیث پاک میں مذکور ہے کہ جب مردہ مرتا ہے تو مرتے ہی اپنے جیسے لوگوں میں جاپہنچتا ہے، یہ نہیں کہ شبِ براءت تک اَٹکا رہتا ہے ۔
۱۰:-ریاوتفاخر: اکثر اہلِ ثروت وبرادری کے لوگ ایک دوسرے کو بطور معاوضہ لیتے اور دیتے ہیں اور نیت اس میں یہی ہوتی ہے کہ فلاں شخص نے ہمارے یہاں بھیجا ہے، اگر ہم نہ بھیجیں گے تو وہ کیا کہے گا، یہ بھی غلط ہے۔
۱۱:- مسور کی دال:بعض لوگ اس تاریخ میں مسور کی دال ضرورپکاتے ہیں، اس کی بھی کوئی اصل نہیں ہے۔
۱۲:-برتنوں کا بدلنا:یہ صرف کفّار کی نقل ہے۔
۱۳:-گھر لیپنا:یہ صرف کفّار کی نقل ہے۔
۱۴:-بی بی عائشہؓ کی روٹیاں بنانا: اس کی بھی کوئی اصل نہیں ہے، یہ سب باتیں بے بنیاد اور غلط ہیں۔
۱۵:-قبرستان میں رات گزارنا:بعض لوگ شبِ برأ ت میں قبرستان جانے کا بڑا اہتمام کرتے ہیں، جماعتیں اور گروہ بنا کر قبرستان جاتے ہیں، او ر ساری ساری رات قبرستان کی حا ضری میں صرف کر دیتے ہیں، عبادت کا موقع ہی نہیں ملتا، یہ بھی صحیح نہیں ۔
۱۶:-محفل نعت خوانی:بعض لوگ شبِ براءت کو لاؤڈاسپیکر کھول کر محفلِ نعت خوانی کا اہتمام کرتے ہیں، اور بعض لوگ لاؤڈ اسپیکر پرساری رات قرآن مجید پڑھ کر قرآن خوانی اور شبینہ کا اہتمام کرتے ہیں، جس سے دوسروں کی عبادات، ذکر واذکار اور آرام میں خلل واقع ہوتا ہے، عبادت کے نام پر دوسروں کو اذیت اور تکلیف دینے کا سبب بنتے ہیں، جو کہ حرام ہے۔ 
۱۷:-چھ رکعات کا اہتمام:بعض لوگ شبِ براءت کوبعد نمازِ مغرب بڑے اہتمام کے ساتھ چھ رکعتیں پڑھتے ہیں، پہلی دو رکعت درازیِ عمر کی نیت سے، دوسری دو رکعت دفعِ بلا کی نیت سے، اخیر کی دو رکعت کسی کا محتاج نہ ہونے کی نیت سے، اور ہر دو رکعت کے بعد سورۂ یاسین بھی پڑھی جاتی ہے، شریعتِ مطہرہ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں، البتہ اس رات میں جتنی چاہیں نفل نمازیں پڑھ سکتے ہیں، درازیِ عمر، وسعتِ رزق، اور آفات وبلیات سے حفاظت کی دعا وغیرہ کر سکتے ہیں، جیسا کہ عام دنوں میں کرسکتے ہیں۔ (فتاویٰ رحیمیہ)

ربِ ذوالجلال ہم سب کو شعبان کے برکات نصیب فرمائے، اور صحت وعافیت کے ساتھ رمضان المبارک کے روزے رکھنے اور دیگر عبادات کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العٰلمین!
 السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ