حلوا، کھیر یا خاص کھانے کو لازم سمجھنا
یہ سمجھنا کہ اس رات خاص طور پر میٹھا پکانا ضروری ہے —
➜ نہ قرآن سے ثابت، نہ حدیث سے
قبروں پر چراغ، موم بتی یا اگر بتی جلانا
➜ نبی ﷺ اور صحابہؓ کے عمل سے ثابت نہیں
قبرستان میں اجتماعی میلہ یا ہجوم لگانا
➜ زیارتِ قبور سنت ہے، مگر خاص رات کو میلہ بنانا بدعت ہے
آتش بازی، پٹاخے چھوڑنا
➜ فضول خرچی اور ایذائے خلق، شریعت کے خلاف
اس رات کو عید کی طرح منانا
نئے کپڑے، خاص مبارکبادیں، جشن
➜ شبِ برات عید نہیں
یہ عقیدہ کہ اس رات مردے گھروں کو آتے ہیں
➜ قرآن و حدیث میں اس کی کوئی اصل نہیں
مخصوص رکعتوں والی نمازیں (مثلاً 100 رکعت نفل)
➜ ایسی کوئی نماز نبی ﷺ سے ثابت نہیں
صرف اسی رات کی عبادت اور باقی سال غفلت
➜ دین میں توازن مطلوب ہے، مخصوص رات کو حد سے بڑھانا درست نہیں
شبِ برات کی فرضیت یا لازمی روزہ سمجھنا
➜ اس دن کے روزے کو فرض یا لازم سمجھنا غلط ہے

✔️ صحیح اور ثابت عمل کیا ہے؟
نفل عبادت انفرادی طور پر
توبہ و استغفار
دعا
اگر ممکن ہو تو قبروں کی زیارت بغیر کسی خاص رسم کے
15 شعبان کے بعد روزہ رکھنے میں احتیاط (جیسا کہ احادیث میں آیا)
صلوٰۃ التسبیح وغیرہ پڑھنا 

مفتی صادق امین قاسمی