اتباعِ سنت عظیم ترین دولت ہے، اتباعِ سنت کا اہتمام عشقِ رسول وحب نبی ﷺ کی دلیل، دخولِ جنت کی سبیل، کمالِ ایمان کا باعث، جنت میں معیت پیغمبر ﷺ کا موجب نیز اطاعتِ خداوندی کو شامل ہے، اور ترکِ سنت کا وبال یہ ہے کہ انسان نافرمانیِ رسول ﷺ کی عدمِ اطاعت کے نتیجے میں دخولِ جنت کا انکار کر بیٹھتا ہے  چنانچہ رسولِ عربی ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“ساری امت جنت میں جائے گی۔”
سواے ان لوگوں کے جنہوں نے انکار کیا؟
صحابیِ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا:
“جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری (خلافت) نافرمانی کی اس نے (جنت میں داخل ہونے سے) انکار کیا۔”
كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ يَأْبَى؟ قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى۔ (۱)
ایسے ہی جو لوگ سنت کے اہتمام میں کوتاہی کرتے ہیں، ان کے تعلق سے حضرت علماءِ کرام کے چند ملفوظات نقل کیے جاتے ہیں، تاکہ سوال کی ضرورت و اہمیت قلوب میں راسخ ہو جائے۔ چنانچہ حضرت امام مالکؒ فرماتے ہیں:
“إِنَّ السُّنَّةَ مِثْلُ سَفِينَةِ نُوحٍ، مَنْ رَكِبَهَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ غَرِقَ” (۲)
“سنت کی پیروی حضرت نوحؑ کی کشتی کی طرح ہے، جو اس میں سوار ہوا اس نے نجات پائی اور جو اس سے پیچھے رہا وہ غرق ہوگیا۔”
ایسے ہی حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کہتے ہیں:
“مَنْ تَهَاوَنَ بِالْآدَابِ عُوقِبَ بِحِرْمَانِ السُّنَّةِ، وَمَنْ تَهَاوَنَ بِالسُّنَّةِ عُوقِبَ بِحِرْمَانِ الْفَرَائِضِ، وَمَنْ تَهَاوَنَ بِالْفَرَائِضِ عُوقِبَ بِحِرْمَانِ الْمَعْرِفَةِ” (۳)
“جو شخص آداب میں سستی کرتا ہے، وہ سنت سے محروم کر دیا جاتا ہے، اور جو سنت میں سستی کرتا ہے وہ فرائض سے محروم ہو جاتا ہے، اور جو فرائض میں سستی کرتا ہے وہ معرفت سے محروم ہو جاتا ہے۔”
اور جو فرض میں سستی کرتا ہے وہ اس سے خفیف سمجھتا ہے وہ معرفتِ الٰہی سے محروم رہتا ہے۔
پیشوا طریقت حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”اصل الٰہی اللہ کے بندے ہر شے بطریقِ نبی ﷺ اور راستے ہیں؛ ہر خلق کے لیے تمام راستے بند ہیں، اس کے لیے صرف وہی راستہ کھلا ہوا ہے جو اتباعِ رسول ﷺ کا شارع ہے، لہٰذا ہم وقتِ سنتوں کو زندہ کرنے کی نیت ہونی چاہیے اور عملی زندگی کو سنتوں کے حسن سے آراستہ کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے، اور وہ حدیث یاد رکھنی چاہیے جس میں نبی ﷺ نے احیاءِ سنت کے حوالے سے بشارت سنائی کہ ”جو میری سنت کو زندہ کرے گا وہ میری سنت ہے، اور جس نے میری سنت سے محبت کی تو اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا“۔
یا بُنَيَّ إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتُمْسِيَ لَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلْ، ثُمَّ قَالَ: يَا بُنَيَّ وَذَلِكَ مِنْ سُنَّتِي، وَمَنْ أَحَبَّ سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ (۱)
ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے میری امت کے فساد کے زمانے میں میری سنت پکڑ لی تو اس کے لیے سو شہید کا ثواب ہے“۔
مَنْ تَمَسَّكَ بِسُنَّتِي عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِي فَلَهُ أَجْرُ مِائَةِ شَهِيدٍ (۲)
خلاصۂ کلام: نبی کریم ﷺ کی سنت ایک واضح پیغام ہے، مقصد یہ ہے کہ ہم سنت کے اہتمام کی جانب توجہ دلائیں؛ کیونکہ آج عوام تو عوام، خواص تک اپنی غفلت اور سستی کی وجہ سے اس متواتر سے سنت کو چھوڑ رہے ہیں، کہ ماڈرن اور بزعم خویش روشن خیال طبقہ اس کو معیوب سمجھتا ہے۔
حالات کا تقاضا اور ہماری بنیادی کا راستہ اور وصول الی اللہ کی منزل اتباعِ سنت کے راستے سے ہو کر گزرتی ہے، یہی حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی اتباع میں خاص برکت کا راز یہ ہے کہ شخص آپ کی ہیںٔت (وضع) بناتا ہے اس پر تعالیٰ کو محبت اور پیار آتا ہے کہ یہ میرے محبوب کا ہم شکل ہے، پس یہ وصول کا سب سے اقرب طریقہ ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ تک پہنچنے کا سب سے قریب راستہ ہے ۔
(اَللّٰهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ) (۱)

موجودہ دور میں (جہاں سنتِ نبویؐ سے بیزاری کا مزاج بڑھتا جا رہا ہے) جو شخص اس سنت پر عمل پیرا ہو کر اسے زندہ کرے گا اور دوسروں کو ترغیب دے گا، یقیناً وہ سو شہیدوں کے اجر و ثواب کا مستحق ہوگا، سطورِ بالا میں احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں یہ بات واضح طور پر معلوم ہوگئی کہ مسواک کے کس قدر عظیم فضائل ہیں؛ حالانکہ یہ ایک سستا آسان اور کم وقت طلب عمل ہے، اس کے باوجود جو شخص اس سے محروم رہا وہ یقیناً بدنصیب اور بدقسمت ہے۔
اللّٰہ پاک ہمیں توفیقِ عمل عطا فرمائے اور اس عظیم ترین سنت کو زندہ کرنے اور رواج دینے کی توفیق ارزانی فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔
(۱) کمالاتِ اشرفیہ، حوالۂ مواعظ و درود شریف، ص: ۲۸۰، از حکیم محمد اختر صاحب

مفتی صادق امین قاسمی