سنتِ مسواک کا اہتمام دراصل محبتِ رسول ﷺ کا ثبوت ہے؛ لیکن افسوس کہ آج ہم
ترکِ سنت کی پاداش میں مسواک کی خیر و برکت سے محروم ہو چکے ہیں، اور سچی بات تو یہ ہے کہ
ہم نے دنیوی مصروفیات اور مال و دولت کے حصول کے نشہ میں شریعت اور صاحبِ شریعت
کی سنتوں کو نظر انداز کردیا، ٹوتھ پیسٹ اور برش ہی کو اپنے لئے کافی سمجھ لیا (حالانکہ جدید
سائنس بھی مسواک کی افادیت کو تسلیم کر چکی ہے) نیز سنتِ مسواک کو معمولی جان کر صرف
فرائض پر اکتفا کرنے کے عادی ہوگئے، اور یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ جیسے فطرت، کبھی بھی
انسان کے برعکس نہیں ہوتی، بھٹکا ہوا انسان جب ہر طرف سے دنیا کی عیاشیوں میں پھِرتا
پھراتا اپنی فطرت (Nature) کی طرف واپس آتا ہے تو یہ پھر اسے وہی لطف اور فائدہ دیتی ہے،
جیسے چھوڑ کر وہ چپکنے والے دھوکے کی طرف بھاگا تھا؛ بالکل یہی کیفیت مسواک کی ہے، یہ ازل
سے ابد تک صحتِ انسانی کے لئے ممد و معاون رہی ہے اور رہے گی۔
جب سے ہم نے اس نعمت کو ہاتھ سے جانے دیا ہے اس وقت سے اب تک لوگ
مسلسل پریشان ہو رہے ہیں، ہزاروں روپے برباد کرنے کے بعد بھی صحتِ جسمانی کے اصل
مبداء اور مرکز کی طرف رجوع نہیں کرتے۔
بلکہ ایک صاحبِ عقل نے بڑی حکیمانہ اور پر لطف بات کہی ہے کہ جب سے ہم نے مسواک
چھوڑا ہے اس دن سے ڈینٹل سرجن (Dentol Surgeon) کی ابتداء ہوئی ہے،
اور ہماری صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ آج ہماری جیب میں موبائل ہے؛ مگر مسواک نہیں۔
جیب میں قلم ہے، مگر سنت نہیں، چہرے پر داڈھی ہے، مگر دانتوں میں سنت نہیں، یہ سب غفلت اور سستی کے سبب ہے، ایسا اس لیے بھی کہ ہم کا دوبارہ تعلیم اور دینی و دنیاوی سہولتوں کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں مگر ایک مسواک کی لکڑی اٹھانے میں سستی دکھاتے ہیں، دینی مجالس میں سنت کی بات سنتے ہیں، خطبات میں فضائل سن کر سر ہلاتے ہیں، لیکن عملاً اس سنت کو زندہ نہیں کرتے، صحت کے لیے ہزاروں روپے خرچ کرنے کو تیار ہیں، مگر مسواک کی سنت پر عمل کرنے میں غفلت کرتے ہیں جو کہ صحت اور ثواب دونوں کی ضمانت ہے، پھر اب وقت کا تقاضہ ہے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس بھولی بسری سنت کو زندہ کریں، اپنے معمولات زندگی کا حصہ بنائیں، اور یہ بات یاد رکھیں کہ ٹوتھ پیسٹ اور برش مسواک کا نعم البدل نہیں، بلکہ مسواک کی اپنی مستقل حیثیت ہے، اگر ہم واقعی محبتِ رسول اور عشقِ رسول کے دعوے دار ہیں تو اپنی عملی زندگی میں مسواک کو وہی مقام دینا ہوگا جو آپ ﷺ نے دیا، ورنہ صرف زبانی دعوؤں اور جذباتی نعروں سے کچھ ہاتھ نہیں آے گا مختصر یہ کہ
ہوشیار! کو ایک حرف نصیحت ہے کافی
نادان کو کافی نہیں دفتر نہ رسالہ
مفتی صادق امین قاسمی