اللہ رب العزت نے اس دنیا میں بنی نوع انساں کے لیے بہت سی نعمتوں کو اتارا تمام آسائش وآلائش کو انسان کے لیے مسخر کر دیا ہے ، انہیں تمام بڑی نعمتوں میں سب سے بڑی اور اہم نعمت وقت ہے کیونکہ اگر دولت لٹ جائے تو دوبارہ حاصل ہوجاتی ہے اور اگر انسان بیمار ہو جائے تو شفا یاب بھی ہوجاتا ہے لیکن وقت گزر جاۓ تو واپس نہیں آتا۔۔ 
اسی وجہ سے دانا حضرات نے وقت کو سونا چاندی اور ہیرے جواہرات سے زیادہ قیمتی بتایا ہے، جن قوموں نےوقت کی قدر کی تو انہوں نے ترقی کے منازل طے کیے اور جو وقت ضائع کرتی رہیں تو ناکامی اور تنزلی ان کا مقدر بنتی گئی، جنہوں نے وقت کی قیمت کو جانا انہوں نے صحرا کو گلشن بنادیئے اور جنہوں نے اس وقت کے سرمایہ کا ضائع کیا تو ان کی زندگی غلامی و اسیری کے حوالے ہو کر رہ گئی، اسی لیے وقت کے قدردان ترقی کے منازل طے کرتے چلے گئے اور نا قدروں نے خسارہ اٹھایا۔۔ 
وقت ایک ایسا خداداد سرمایہ ہے جو ہر کسی کو برابر ملتا ہے اس کو عطا کرنے میں خالق کائنات نے کسی بھی طرح کی افراط و تفریط کا معاملہ نہیں کیا، قرآن مجید میں سورۃ العصر اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ وقت کی اہمیت کو سمجھا جائے اور اس کی قدر کی جاۓ تاکہ کامیابی و کامرانی مقدر ہو۔۔ 
حدیث مبارکہ میں نبی کریم ﷺ کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کی" پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو زندگی کو موت سے پہلے ، صحت کو بیماری سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے ، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اور مالداری کو فقیری سے پہلے،" اس حدیث پاک کے مفہوم میں ہر ایک کے لیے بالخصوص اہل ایمان کے لیے یہ تعلیم ہے کہ آدمی کی فہم و دانش کو تقاضا یہ ہے ہے کہ وہ اس خداداد نعمت (وقت) کا بہترین استعمال کرے اور ساتھ ہی اس بات کا بھی استحضار ہو کہ اس عظیم سرمایہ کو عطا کرنے والا رب ایک دن اس کے بارے میں باد پرس کرے گا جس دن کوئی راہ فرار نہ ہوگی اور جوابدہی بہت مشکل ہو گی۔۔ 
معلوم ہوا کہ وقت سے قیمتی اس جہاں میں کوئی بھی شئی نہیں ہے اور وقت کی اہمیت کو جاننا اور اس کی قدر کرنا اور اس کا صحیح استعمال کرنا اور بے کار اور فضول ضائع ہونے سے بچانا از حد ضروری ہے ۔۔ 
یاد رکھیے! جو لمحہ ضائع ہو کر ہاتھ سے نکل گیا وہ دوبارہ ہاتھ نہیں آۓ گا 
وقت میں تنگی فراخی دونوں ہین جیسے ربڑ
کھینچےسےبڑھتی ہےاورچھوڑےسےجاتی ہےسکڑ