والدین۔۔۔آخر کس کی ذمے داری ؟

ماں باپ کی دعا ہو تو قسمت سنور جاتی ہے
یہ دولت وہ ہے جو نسلوں تک اثر دکھاتی ہے۔

والدین اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہیں جن کی قدر کا حق ادا کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت انسان کی پوری زندگی کا سرمایہ ہوتی ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں ایک غلط تصور جڑ پکڑ چکا ہے کہ والدین کی خدمت اور ذمہ داری صرف بیٹوں پر عائد ہوتی ہے، جبکہ بیٹیوں کو شادی کے بعد اس فرض سے الگ سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت، اخلاق، اور دین تینوں اس سوچ کی نفی کرتے ہیں۔ والدین صرف بیٹوں ہی نہیں بلکہ بیٹیوں کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہیں۔
والدین نے اپنی اولاد کے لیے جو قربانیاں دی ہوتی ہیں، وہ کسی ایک جنس کے لیے مخصوص نہیں ہوتیں۔ ماں نے بیٹے اور بیٹی دونوں کو ایک جیسی محبت سے پالا، اور باپ نے دونوں کے مستقبل کے لیے یکساں محنت کی۔ جب والدین نے کبھی یہ فرق نہیں کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے یا بیٹی، تو اولاد کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ذمہ داری میں فرق کرے۔ شکرگزاری اور خدمت کا تقاضا یہ ہے کہ بیٹے اور بیٹیاں دونوں والدین کے احسانات کا اعتراف کریں۔
اسلام نے والدین کے حقوق کو نہایت بلند مقام عطا کیا ہے۔ قرآنِ پاک میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے، اور یہ حکم ہر اولاد کے لیے ہے، چاہے وہ بیٹا ہو یا بیٹی۔ نبی کریم ﷺ نے والدین کی خدمت کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا۔ اسلام کہیں بھی یہ نہیں کہتا کہ بیٹی شادی کے بعد اپنے والدین کی ذمہ دار نہیں رہتی۔ اس لیے دینی نقطۂ نظر سے بھی بیٹیوں کو والدین سے الگ کرنا سراسر غلط ہے۔
ہمارے معاشرے میں عام طور پر یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ بیٹا بڑھاپے کا سہارا بنتا ہے اور بیٹی پرایا دھن ہوتی ہے۔ یہ سوچ نہ صرف بیٹی کی توہین ہے بلکہ اس کی صلاحیتوں کو بھی نظر انداز کرتی ہے۔ آج کی بیٹی تعلیم یافتہ، باشعور اور خودمختار ہے۔ وہ ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے۔ جب وہ معاشرے کی خدمت کر سکتی ہے تو اپنے والدین کی خدمت کیوں نہیں کر سکتی؟
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ والدین کی ذمہ داری صرف مالی مدد تک محدود نہیں۔ والدین کو عزت، محبت، وقت اور توجہ کی بھی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت سی بیٹیاں اپنے والدین کے جذبات کو بہتر طور پر سمجھتی ہیں اور ان کے لیے مضبوط جذباتی سہارا ثابت ہوتی ہیں۔ ایک فون کال، ایک مسکراہٹ، اور چند محبت بھرے الفاظ والدین کے دل کو وہ خوشی دے سکتے ہیں جو بڑی دولت بھی نہیں دے سکتی۔
شادی کے بعد بیٹی پر یہ دباؤ ڈالنا کہ اب وہ صرف اپنے سسرال کی ذمہ دار ہے، ایک غیر منصفانہ رویہ ہے۔ بیٹی کے دل میں اپنے ماں باپ کی محبت کبھی کم نہیں ہوتی، تو پھر اس کی ذمہ داری کیوں کم سمجھی جائے؟ اگر بیٹے دونوں گھروں کو سنبھال سکتے ہیں تو بیٹیاں بھی توازن کے ساتھ یہ فرض نبھا سکتی ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک مہذب اور منصفانہ معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس سوچ کو بدلیں۔ والدین کی ذمہ داری بیٹے اور بیٹی دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب تک ہم بیٹیوں کو اس فرض میں برابر کا شریک نہیں سمجھیں گے، تب تک خاندانی نظام مکمل نہیں ہو سکتا۔ والدین کی خدمت میں ہی انسان کی اصل کامیابی اور اللہ کی رضا پوشیدہ ہے، اور یہ خدمت بیٹوں اور بیٹیوں دونوں کے لیے یکساں باعثِ سعادت ہے۔