ایک پینتیس سالہ صنف نازک شدت خوف سے چیخ چیخ کر مدد مدد کی آواز بلند کررہی تھی ۔اور ساتھ ہی ساتھ انسان نما بھیڑئیوں  سے التجا ئیں بھی کررہی تھی ۔مگر اسکی چیخیں اور التجا ئیں ظالموں کو نرم نہ کر سکیں ۔انہوں نے انتہائی سفاکانہ طریقے سے اسکے شیرخوار بچے کو اٹھایا ۔اور آگ جلائی ٫اسکے ارد گرد لوہے کی سلاخوں کو گاڑا اسکے اوپر دودھ پیتے بچے کو لٹادیا ۔بچہ کی چیخ بلند ہوئ٫چند قدم کے فاصلے پر اسکی ماں زنجیروں میں جکڑی تڑپ رہی تھی۔ چند منٹ بعد ہی بچہ کوئلے کی صورت اختیار کر گیا ۔شدت غم سے ماں بھی اس دار فانی سے کوچ کر گئی۔یہ شام کی سرزمین تھی بشار الاسد کی حکومت کو ابھی دوسرا دن ہی تھا ۔۔
اے اللہ میں کب مروں گی ٫وہ اپنے رب سے خواہشات کی بجائے مرنے کی دعائیں کرنے لگی۔ابھی وہ ایک پندرہ سالہ بچی ہی تو تھی۔جو ایک سال پہلے قید ہوئے تھی۔وہ 2003کی ایک خوفناک اور بے حد سرد رات تھی۔وہ اپنے والدین اور بھائی کے ساتھ موصل میں رہ تے تھے ۔ایک عرصے سے وہ بموں اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ سن رہی تھی  ۔کبھی داعش کا ظلم اور کبھی کردوں کا ظلم ہردن ہر رات ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم ہوتی۔وہ اس رات بھی گھر میں بیٹھی اپنے والدین کے ساتھ سوپ پی رہی تھی ٫کہ اچانک داعش کے اہلکار گھر کا دروازہ توڑتے ہوئے داخل ہوئے ۔بغیر کچھ کہے اسکے والدین کو گولیوں سے بھون ڈالا ۔دونوں سہمے ہوئے تھے۔ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ امریکی گاڑیاں آکر رکنے لگیں ۔امریکی افسر نے اس کی طرف دیکھا اسکے بھائی کو گولی ماری ۔آہ
آج موصل میں ایک اور حمزہ اس زمین کو اپنے خون سے سراب کردیا تھا ۔
بہن یہ دیکھتے ہی بے ہوش ہو گئی ۔
امریکی سپاہیوں نے اسے گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا اور اسے سا تھ لے گئے۔

جاری ہے٫٫٫٫٫٫٫٫٫