تحریر: محمد مسعود رحمانی ارریاوی

آج ہمارے معاشرے میں "شادی" ایک مبارک تقریب کے بجائے ایک مجبور باپ کی بے بسی کا تماشہ بن چکی ہے۔ ہم جس بیٹی کو اللہ کی رحمت کہتے ہیں، اسی کی رخصتی کے دن ہم نے انسانیت اور غیرت کو دفن کرنے کا ایسا رواج نکال لیا ہے کہ سن کر ہی روح کانپ جاتی ہے۔


کتنی بڑی بے غیرتی ہے کہ دولہا 40 سے 50 گاڑیوں کا لشکر لے کر لڑکی والے کے گھر پر اس شان سے چڑھائی کرتا ہے جیسے کوئی فتح حاصل کرنے نکلا ہو۔ المیہ تو یہ ہے کہ ان گاڑیوں کا پٹرول، ان کا کرایہ اور ان کے ڈرائیوروں کا خرچہ بھی اسی "مجبور باپ" کی جیب سے نکلوایا جاتا ہے جس نے اپنی بیٹی آپ کے حوالے کر دی۔ یہ گاڑیوں کی قطاریں سڑک پر نہیں، بلکہ اس بوڑھے باپ کے سینے پر چلتی ہیں جس نے اپنی عمر بھر کی کمائی ان "رسمی ڈاکوؤں" کی نذر کر دی۔

400 باراتی اور ضمیر کی موت:

جس شخص کے گھر بن بلائے دو مہمان آ جائیں، اسے وہ مہمان پہاڑ معلوم ہونے لگتے ہیں اور گھر کا بجٹ ہل جاتا ہے، وہی شخص جب دولہا بنتا ہے تو 400 سے 500 باراتیوں کا ہجوم لے کر لڑکی والے کے دروازے پر جا دھمکتا ہے۔ کیا اس وقت اسے شرم نہیں آتی؟ کیا اس کا ضمیر نہیں جاگتا کہ وہ غریب باپ کس طرح، کن قرضوں کے بوجھ تلے دب کر ان 500 پیٹوں کی آگ بجھائے گا؟ یہ ضیافت نہیں، یہ اس خاندان کی خودداری کا سودا ہے۔


بے حسی کی انتہا تو تب ہوتی ہے جب ان 500 لوگوں میں سے کسی ایک کو بھی بوٹی چھوٹی مل جائے یا ٹھنڈا پانی نہ ملے، تو وہاں ایک ہنگامہ مچ جاتا ہے۔ "ہماری بے عزتی ہو گئی"، "انتظام اچھا نہیں تھا"— یہ وہ جملے ہیں جو اس باپ کے دل کو چھلنی کر دیتے ہیں جس نے اپنا جگر کا ٹکڑا تمہارے حوالے کر دیا مگر تم ایک پلیٹ سالن پر شرافت کا لبادہ اتار پھینکتے ہو۔ تم کھانا کھانے نہیں، بلکہ ایک شریف انسان کی تذلیل کرنے جاتے ہو۔

مردانگی یا سفید پوش بھیک؟

وہ لوگ جو خود کو نواب اور معزز کہلواتے ہیں، وہ اپنی بارات کا کھانا اپنے گھر پر کیوں نہیں کھلاتے؟ لڑکی والے کے گھر جا کر 500 لوگوں کا پیٹ بھرنا مردانگی نہیں بلکہ ایک ایسی "سفید پوش بھیک" ہے جس پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے۔ ہم سنتِ رسول ﷺ کا نام تو لیتے ہیں، لیکن ہمارا عمل جاہلیت کے بدترین دور سے بھی بدتر ہے۔

فیصلہ کیجیے!

اے معاشرے کے ٹھیکیدارو! اگر آج ہم نے ان خونی رسموں کے خلاف آواز بلند نہ کی، تو یاد رکھو کہ یہ قرض کی قسطیں اور یہ سماجی دہشت گردی ہماری نسلوں کو نگل جائے گی۔ بارات کے نام پر لشکر لے جانا بند کرو اور بیٹی والے کو جیتے جی دفن کرنا چھوڑ دو۔

ایک دردمندانہ اپیل

مضمون کے آخر میں، میں اپنے تمام بھائیوں اور بزرگوں سے ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیے! ایک وقت کا کھانا کھا لینا یا کسی کو کھلا دینا کوئی بڑی بات نہیں ہے، ایک عام انسان بھی خوشی خوشی ایک دو مہمانوں کی خدمت کر لیتا ہے۔ لیکن جب بیک وقت 400 یا 500 افراد کا بوجھ ایک ہی اکیلے انسان کے کندھوں پر ڈال دیا جائے، تو اس کے لیے یہ "پہاڑ" بن جاتا ہے۔

وہ باپ جو پہلے ہی اپنی بیٹی کی جدائی کے صدمے میں نڈھال ہے، وہ ان سینکڑوں لوگوں کے اخراجات، گاڑیوں کے کرایوں اور کھانوں کی فرمائشوں کے نیچے دب کر مر جاتا ہے۔ کیا ہمارا ضمیر ہمیں ملامت نہیں کرتا کہ ہم اپنی ایک شام کی لذت کے لیے کسی کی پوری زندگی کی جمع پونجی ہڑپ کر جائیں؟

لہٰذا! میری عاجزانہ گزارش ہے کہ ان جاہلانہ رسموں اور باراتوں کے لشکر سے پرہیز کریں۔ شادی کو سنت کے مطابق سادہ بنائیں، تاکہ بیٹی والے کی سفید پوشی کا بھرم بھی رہ جائے اور آپ کے دسترخوان پر پڑنے والا ہر لقمہ کسی کی آہ کے بجائے دعا بن کر آپ کے پیٹ میں جائے۔