میرے رول ماڈل
قرآن میں آیا ہے
“لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"
یعنی
تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
انسانی زندگی میں رول ماڈل کی حیثیت چراغِ راہ جیسی ہوتی ہے، جو اندھیروں میں سمت دکھاتا ہے۔ جب بات کامل اور ہمہ گیر رول ماڈل کی آتی ہے تو تاریخِ انسانیت میں ایک ہی نام ہے پوری آب و تاب سے روشن نظر آتا ہے، اور وہ ہیں محبوبِ الہٰی ،رحمتِ قونین ، سلطان دارین ،تاجدارِ حرم ،خاتم الانبیاء ،حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ۔ آپ ﷺ نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت، اخلاق، محبت اور عدل کا کامل نمونہ ہیں۔
حضرت محمد ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو قابلِ تقلید ہے۔ آپ ﷺ نے ایک عام انسان کی حیثیت سے دنیا میں رہ کر وہ اصول قائم کیے جو قیامت تک کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ عظمت دولت، طاقت یا نسب میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتی ہے۔
وہ بشر بھی ہیں اور سب سے نرالے ہیں حضور ﷺ
خلق کے رہبر، خدا کے لاڈلے ہیں حضور ﷺ
اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو کسی ایک قوم، علاقے یا زمانے کے لیے نہیں بلکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ صاف ارشاد فرماتا ہیں
“وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ”
(اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے)
یہ آیت اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ سراپا رحمت ہے، جو انسانوں ہی نہیں بلکہ ہر مخلوق کے لیے باعثِ خیر و برکت ہے۔
آج کی دنیا نفرت، خود غرضی اور بے حسی کا شکار ہے۔ ایسے میں حضرت محمد ﷺ کی سیرت ہمارے لیے روشنی کا مینار ہے۔ اگر ہم اپنے رویوں میں آپ ﷺ کی نرمی، اپنے فیصلوں میں آپ ﷺ کا عدل اور اپنے دلوں میں آپ ﷺ کی محبت پیدا کر لیں، تو یہ دنیا جنت کا عکس بن سکتی ہے۔
حضرت محمد ﷺ میرے رول ماڈل اس لیے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کا کردار آفاقی ہے۔ وقت بدل جاتا ہے، حالات بدل جاتے ہیں،موسم بدل جاتا ہے ،زمانہ بدل جائے مگر آپ ﷺ کی تعلیمات آج بھی اتنی ہی تازہ اور قابلِ عمل ہیں جتنی چودہ سو سال پہلے تھیں۔ یہی آفاقیت آپ ﷺ کو دنیا کا سب سے بہترین رول ماڈل بناتی ہے۔
،خودی کو جس نے محمد ﷺ سے روشنی دی
،اسی نے فکر کو پرواز، بندگی دی
،زمانے ڈھونڈتے رہے کمال کا سراغ
محمد ﷺ کے اسوہ نے انسان کو زندگی دی۔۔