بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
عنوان:
بے حیائی کی وجہ کیا ہے ؟ موبائل یا دین سے دوری ؟
دنیا کی ہر تہذیب میں حیا کو اخلاقی عظمت کی بنیاد سمجھا گیا ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کے کردار کو نکھارتی ہے، نگاہوں میں شرافت اور دل میں پاکیزگی پیدا کرتی ہے۔ مگر موجودہ دور میں بے حیائی ایک عام رویّہ بنتی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بے حیائی کی وجہ کیا ہے ؟ موبائل یا دین سے دوری ؟
حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں عوامل ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، مگر اصل اور بنیادی وجہ دین سے دوری ہی ہے، جبکہ موبائل اس کمزوری کو مزید تیز اور وسیع کر دیتا ہے۔
بے حیائی صرف ایک سماجی یا اخلاقی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے رویّوں، ماحول، تربیت اور جدید تہذیبی اثرات کا نتیجہ ہوتی ہے ۔
دین سے دوری —یہ اصل اور بنیادی وجہ ہے
دین انسان کو حیا، اخلاق، خود احتسابی اور ذمہ داری کا شعور دیتا ہے۔ جب انسان دینی تعلیمات سے دور ہو جاتا ہے:
اس کے دل سے خدا کا خوف کم ہو جاتا ہے
کردار و اخلاق کمزور ہو جاتا ہے
حرام و حلال کی تمیز مٹ جاتی ہے
حیا کی اہمیت نظر انداز ہو جاتی ہے
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
“حیا ایمان کا حصہ ہے۔”
جب ایمان کمزور ہوتا ہے تو حیا بھی کمزور پڑ جاتی ہے، اور یوں بے حیائی کے رویّے پروان چڑھنے لگتے ہیں۔
موبائل اور سوشل میڈیا کا بے جا استعمال۔۔
موبائل بذاتِ خود برائی نہیں، مگر اس کا غلط استعمال بے حیائی کو بڑھانے میں بڑا کردار ادا کرتا ہے، جیسے کہ:
فحش مواد اور غلط تصاویر و ویڈیوز تک آسان رسائی
وقت کا ضیاع اور ذہنی آلودگی
مغربی و لادینی ثقافت کی اندھی تقلید
سوشل میڈیا نے حیا کو کم اور دکھاوے، شہرت کو زیادہ بڑھا دیا ہے۔
اس کہ ایک وجہ جب:
گھر میں مذہبی ماحول کمزور ہو
بچوں کی تربیت محض دنیاوی ہو
تو بے حیائی کے راستے کھل جاتے ہیں۔
. میڈیا، فلمیں اور فیشن کلچر
ڈرامے، فلمیں اور اشتہارا ت:
فحاشی کو “آزادی” بنا کر پیش کرتے ہیں
خاندان اور حیا کو کمزور کرتے ہیں
نوجوان نسل کے نظریات بدل دیتے ہیں
حل :
حیا کو زندہ کیا جائے
دینی تعلیمات سے مضبوط تعلق قائم کیا جائے
موبائل اور انٹرنیٹ کا باقاعدہ اور محدود استعمال کیا جائے
اللہ کے خوف اور جواب دہی کا احساس پیدا کیا جائے
گھروں میں حیا، ادب اور اخلاق کا ماحول بنایا جائے
اچھی صحبت اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے
بے حیائی کی سب سے بڑی وجہ دراصل دین سے دوری ہے، جبکہ موبائل اور سوشل میڈیا اس کا ایک بڑا ذریعہ اور ذریعۂ تیز رفتار پھیلاؤ ہے۔ اگر انسان دین
سے جڑ جائے، حیا کو اپنا شعار بنا لے اور ٹیکنالوجی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرے، تو معاشرہ دوبارہ اخلاقی بلندی کی طرف لوٹ سکتا ہے۔