(25)مضمون 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

_________________

⚡ ایمان کی حفاظت: لائکس نہیں، علماء کا دامن! ⚡

؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

آج کا دور فتنوں کا دور ہے۔ ہر طرف انتشار کی لہر ہے۔ ایسے میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ کوئی مسلمان اپنے دین کی رہنمائی کے لیے اصل ماخذ یعنی علماء کرام کو چھوڑ کر سوشل میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے اور گمراہ فرقوں کے زہریلے مواد پر بھروسہ کر بیٹھے۔

یہ وقت کا سب سے بڑا دھوکہ ہے کہ دین کی روشنی کو چھوڑ کر سوشل میڈیا کے اندھیروں میں چراغ ڈھونڈا جائے۔

یہ کیسا المیہ ہے کہ علماء کرام کے قدموں کی خاک جس میں صدیوں کی امانت، تقویٰ اور حکمت چھپی ہے، اسے چھوڑ کر لوگ یوٹیوب کے "ویوز" اور انسٹاگرام کے "لائکس" کو رہنمائی سمجھ بیٹھے ہیں۔

آج امت مسلمہ پر سب سے بڑا حملہ تلوار یا توپ کا نہیں، بلکہ فکری گمراہی کا ہے، اور یہ گمراہی اسکرینوں کے ذریعے گھروں کے دروازوں سے اندر اتر رہی ہے۔

  ؛سوشل میڈیا کا فتنہ؛ 

فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹیلیگرام کے شور میں حق کی آواز دبائی جا رہی ہے۔ہر دوسرا شخص خود کو مفتی، خطیب اور مفسر بنا بیٹھا ہے۔کوئی شیخِ گوگل تو کوئی مفتی یوٹوب بن چکا ہے نتیجہ یہ ہے کہ سادہ لوح مسلمان الجھنوں کا شکار ہو رہے ہیں اور گمراہی ان پر مسلط کی جا رہی ہے۔

کوئی قرآن کی آیات کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر بیان کرتا ہے، کوئی حدیث کو سیاق و سباق سے کاٹ کر اپنے مقصد کے لیے ڈھالتا ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان الجھنوں کے بھنور میں پھنس رہے ہیں اور دین کے نام پر دھوکا کھا رہے ہیں۔

یہ ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سوشل میڈیا پر لاکھوں چینل باطل فرقوں کے ہاتھ میں ہیں، اور ان کا مقصد صرف ایک ہے: مسلمان کو اصل دین سے کاٹ دینا، اور خواہشات کا غلام بنا دینا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

> فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

(سورۃ النحل: 43)

یعنی: "اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ ذکر (علم والے) سے پوچھو۔"

یہ اعلان صدیوں پرانا مگر آج کے دور کے لیے سب سے تازہ پیغام ہے۔ دین صرف اہلِ علم سے سیکھو، نہ کہ ان "فالوورز کے تاجروں" سے جن کی زبان پر قرآن و حدیث اور دل میں دنیا کی چمک ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> العلماء ورثة الأنبياء

(ابوداؤد، ترمذی)

"علماء انبیاء کے وارث ہیں۔"

کیا انبیاء کی وراثت انسٹاگرام کی "ریلز" یا یوٹیوب کی "تجاویز" سے مل سکتی ہے؟ نہیں! یہ وراثت صرف علماء کے دلوں اور زبانوں سے پھوٹتی ہے، جو تقویٰ اور اخلاص کے پیکر ہیں۔

یاد رکھو! جو لوگ علماء کو چھوڑ کر سوشل میڈیا کے واعظوں کو رہبر بنائیں گے، وہ گمراہی کی دلدل میں اترتے چلے جائیں گے۔

اور ایک اور حدیث میں فرمایا:

> من يُرِدِ اللهُ به خيرًا يُفَقِّهْهُ في الدِّينِ

(بخاری و مسلم)

"اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔"

یہ دین کی بصیرت صرف علماء کے قدموں میں بیٹھنے سے حاصل ہوتی ہے، سوشل میڈیا کے فتنہ بازوں سے نہیں۔

اے نوجوانو! ہوش کے ناخن لو!

یہ دور تمہارے ایمان کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

تمہاری انگلیاں موبائل کی اسکرین پر دوڑتی ہیں، مگر تمہارے دل کے دھاگے کہاں بندھے ہیں؟

اگر یہ دل "جعلی رہبروں" کے پیچھے چل پڑے تو ایمان ٹوٹ کر بکھر جائے گا۔ یاد رکھو، ایمان کی حفاظت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تم علماء کرام کی صحبت اختیار نہ کرو۔

علماء ہی وہ مینارے ہیں جو فتنوں کی آندھی میں روشنی دکھاتے ہیں۔ ان کے درس، ان کی کتابیں، ان کی نصیحتیں ہی وہ حقیقی خزانہ ہیں جو تمہیں باطل کے اندھیروں سے نکال کر حق کے نور تک پہنچا سکتے ہیں۔

اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے!

کیا آپ اپنی نسلوں کو سوشل میڈیا کے "لائکس اور ویڈیوز کے تاجروں" کے حوالے کریں گے؟ یا انبیاء کے وارث علماء کرام کے قدموں میں سپرد کریں گے؟ 

یاد رکھیں! دین کی خوشبو صرف علماء کی زبان سے پھوٹتی ہے، نہ کہ ان ویڈیوز سے جو دنیاوی شہرت کے لیے بنائی جاتی ہیں۔

اے اللہ! ہمیں حق کو حق سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔

ہمیں باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے بچنے کی ہمت دے۔

اے پروردگار! ہمیں علماءِ حق کے دامن سے وابستہ رکھ، اور ہماری نسلوں کو بھی اس قافلۂ علم کا مسافر بنا دے۔

آمین۔

✍️ بقلم: محمودالباری

mahmoodulbari342@gmail.com