نماز، جو روح کی غذا اور ایمان کی پہچان ہے، آج اسی عبادت میں سب سے زیادہ کوتاہی دیکھی جا رہی ہے۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ بے نمازی کا رجحان خاموشی کے ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے، اور یہ زوال محض عبادت کی کمی نہیں بلکہ فکری، اخلاقی اور روحانی انحطاط کی علامت بھی ہے۔
ایک زمانہ تھا جب اذان کی صدا دلوں کو ہلا دیتی تھی، گلیاں سجدوں سے آباد ہوتی تھیں، اور مساجد ایمان والوں سے بھری رہتی تھیں۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ دنیا کی مصروفیات، نفس کی خواہشات، اور مادّی آسائشوں کی دوڑ نے نماز کو زندگی کے حاشیے پر دھکیل دیا ہے۔ انسان وقت نکال لیتا ہے تجارت کے لیے، تفریح کے لیے، سوشل میڈیا کے لیے، مگر رب کے حضور کھڑے ہونے کے لیے وقت نایاب ہو گیا ہے۔
بے نمازی صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پورے معاشرے کی بیماری بن چکی ہے۔ نماز سے غفلت دل کی سختی، فکر کی پراگندگی اور عمل کی بے سمتی کو جنم دیتی ہے۔ جب سجدہ چھوٹ جاتا ہے تو عاجزی رخصت ہو جاتی ہے، اور جب رب سے تعلق کمزور پڑتا ہے تو بندہ خود اپنے نفس کا غلام بن جاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نماز کو رسم نہیں بلکہ روح کی ضرورت سمجھا جائے۔ گھروں میں نماز کا ماحول بنایا جائے، بچوں کو قول سے زیادہ عمل کے ذریعے نماز کا عادی بنایا جائے، اور خود اپنے رویّوں کا محاسبہ کیا جائے۔ کیونکہ یاد رکھیے! نماز کا چھوٹ جانا محض ایک عبادت کا چھوٹ جانا نہیں، بلکہ پوری زندگی کے توازن کا بگڑ جانا ہے۔
اگر آج بھی ہم نے سجدے سے رشتہ جوڑ لیا تو بگڑی ہوئی سمت درست ہو سکتی ہے، اور کھویا ہوا سکون دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ورنہ بے نمازی کا یہ بڑھتا ہوا رجحان ہمیں ایسی ویرانی کی طرف لے جائے گا جہاں دل زندہ ہوں گے نہ ضمیر بیدار۔