مغربی راجستھان میں پچھلے ایک عرصے سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے اور علاقے کو زعفرانی سیاست کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جب سے بر سر اقتدار جماعت حکومت میں آئی ہے۔ فرقہ پرستوں کے حوصلے ساتویں آسمان پر ہیں۔
دو سال پہلے غالباً رام نومی کے موقعے سے جلوس میں جودھپور شہر کے امن چین کو تاراج کیا گیا، شہر کے مختلف مسلم اکثریتی علاقوں میں کبھی تجاوزات کے عنوان سے اور کبھی غیرقانونی مکانات کے بہانے ناجائز بلڈوزر کارروائی کے لئے جواز تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
پچھلے دنوں باڑمیر سے اسی قسم کی خبریں سننے کو ملیں۔ اور اب حالیہ قضیۂ پوکرن ۔
اس قضیے کو اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ کس بھونڈے طریقے سے اس مسئلے کو ڈھال کے طور پر استعمال کر کے اپنی بد باطنی کو تسکین دی گئی۔
یہ سب کسی ایک دن کا کیا دھرا نہیں ہوتا ہے؛ بل کہ اس کے پیچھے سالہا سال کی منصوبہ بندی کارفرما ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں خود ہمیں بعض نکات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اولاً جیسا کہ سننے کو ملا جو افراد اس قضیے میں ملزم اور ماخوذ ہوے ہیں، وہ وہی لوگ ہیں جو حالیہ رکن اسمبلیِ حلقہ پوکرن کو مسلم صفوں میں موجود انتشار انگلیاں کر کر کے دکھانے والے اور ان کو اپنا بھرپور ساتھ دے کر فتح یاب کرنے کا دم بھرنے والے تھے۔ مگر اس وقت نہایت عبرتناک طور پر اسی نیتا جی نے ان کو یہاں تک پہنچانے میں اہم ترین کردار نبھایا ہے۔ اس سے ایک بات واضح ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں جو ملکی سطح پر آپ کو ایک عدد ٹکٹ دینے کی روادار نہیں، اس سے آپ مقامی سطح پر بھی کسی خیر کی توقع نہ رکھیں۔ بل کہ بعض اعتبار سے تو یہ اپنے دشمنوں سے زیادہ اپنے دوستوں اور پِچھلگو لوگوں کے لئے خطرناک ہے۔
دوسری اہم ترین چیز یہاں یہ بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ اس علاقے میں موجود فرقہ پرست اذہان کس حد تک جا سکتے ہیں، یہ ہم نے دار العلوم پوکرن جیسے ہزاروں لاکھوں دلوں کی دھڑکن کی حیثیت رکھنے والے ادارے کے پاس کی گئی آتش زنی اور قدیم قبرستان میں کی گئی انہدامی کارروائی سے دیکھ لیا کہ زعفرانی انتظامیہ میں مقننہ اور انتظامیہ دو الگ الگ اداروں کا نام نہیں؛ بل کہ وہ ایک کے ذہن اور ایک کے جسم کی مشترکہ شکل کا نام ہے۔ لہذا اب بھی ہمیں اپنی چھوٹی چھوٹی مختلف اکائیوں میں تقسیم ہونے کے بجائے ایک مشترکہ ملی اور سیاسی پلیٹ فارم پر آ جانا چاہیے۔ سیاسی یک رخی ایک ایسے علاقے میں بہت ضروری ہے، جہاں زعفرانی سیاست کے بازیگر آپ کی پوری کمیونیٹی کو یکایک لقمۂ تر سمجھ کر نگل لینے کے در پہ ہوں۔
۔
✍️ برکت اللہ قاسمی