★پھر ڈھونڈ وہ راہ اپنے اسلاف کی★
آج کل ملک کے طول و عرض میں نظر گھمانے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حال کے مسلمان پر چنگیز و ہلاکو، تاتاری و انگریزی ظلم کی تاریخ ایک بار پھر دہرائی جانے لگی ہے۔ ہر سمت نفرت کے شعلے بھڑکائے جا رہے ہیں، کمزور کو دبایا جا رہا ہے اور طاقت کے نشے میں انسان انسانیت کو روندنے پر آمادہ ہے۔
جب کوئی انسان کسی دوسرے کے خون کا پیاسا بن کر ابھرتا ہے تو اس کے سامنے چند خاص مقاصد ہوتے ہیں، اور انہی بنیادوں پر وہ اپنے مدِ مقابل کو موت کی نیند سلانا چاہتا ہے۔
پہلا یہ کہ جو مال و دولت اس کے پاس ہے، اس پر قبضہ میرا ہو۔
دوسرا یہ کہ اس کے پاس جو عزت و شہرت ہے، اس کا مالک میں بنوں اور وہ میرے ماتحت ہو۔
تیسرا یہ کہ دنیا میں کوئی بھی شے ایسی نہ ہو جو میرے مقابل آنے کی جرأت کرے۔
بس انہی چند خواہشات کی جستجو انسان کو انسانیت کے دائرے سے خارج کر دیتی ہے۔ پھر جب کوئی عقل سے کورا بشر بھرپور قوت، خوبصورت جسم اور کچھ مال و دولت پا لیتا ہے تو وہ "انا ربکم الاعلیٰ" کا دعویٰ کر بیٹھتا ہے۔ اسے اپنی طاقت پر غرور اور اپنے زور پر ناز ہوتا ہے، اور وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اصل طاقت مالکِ حقیقی کے ہاتھ میں ہے۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ان تمام ظاہری قوتوں کے باوجود بازی ہمیشہ وہی جیتتا ہے جو حق بجانب ہو، جس کا حوصلہ بلند ہو، جس کا ایمان قوی ہو، اور جو اس بات پر یقین رکھتا ہو کہ میں اس وقت تک کچھ کرنے کے قابل نہیں ہو سکتا جب تک نصرتِ الٰہی مجھے شاملِ حال نہ ہو۔
سعی کامل تو میری ہوگی، جدوجہد پوری ہوگی، مگر ہوگا وہی جو منظورِ خدا ہوگا۔
اور یہی یقین اہلِ حق کی اصل طاقت، ان کا اصل ہتھیار اور ان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
(جمال الدین انوری)🖋️